KARACHI

اسٹیل ملزمالی بحران کے بعد انتظامی بحران میں پھنس گئی

کراچی جدت ویب ڈیسک پاکستان اسٹیل شدید مالی بحران کے بعد انتظامی بحران میں پھنس گئی، قائم مقام چیئرمین کی رٹائرمنٹ کے بعد افسران نے خود ہی عہدے چن لئے ،ہزاروں ملازمین سہولیات سے محروم ،افسران نے گیس بند کرکے پیدوار کے 62فیصد کو کم کرکے0پر لے آئے ،ادارے کی بحالی کے لئے حکومت تین سال میں کچھ نہ کر سکی، تین سال کے اندر اسٹیل کا خسارہ400ارب تک پہنچ گیا،مالی بحران کے سبب ادارہ بغیر انتظامی سربراہ کے چلنے لگا، تفصیلات کے مطابق : پاکستان اسٹیل مل موجودہ وقت میں شدید مالی بحران اور انتظامی بحران کا شکار ہے اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ حال ہی میں اسٹیل مل کے قائم مقام چیف ایگزیکٹو آفیسر کیپٹن شمسی جو رٹائرمنٹ کے بعد اسٹیل مل کے ادارے کے مرکزی پوسٹوں پرتقرریاں و تعیناتیاں ایسے افسران کی گئی ہیں جن کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ ان تعیناتیوں پر یہ افسران اہلیت پر نہیں اتر تے، جوکہ ادارے کے قاعدے و قانون کے خلاف ورزی ہیں،ان میں جن افسران کو تعینات کیا گیا ہے ان میں ڈائریکٹر ٹیکنیکل سروسز /ای پی او کی چارج ڈپٹی چیف انجینئر پرویز قمر، ڈائریکٹر پروڈیکشن /پی ای او کی پوسٹ ڈپٹی چیف انجینئر و موسٹ جونیئر عارف افروز کے حوالے کی گئی ہے، جبکہ ایڈمنسٹریشن اینڈ پرسن کی پوسٹ جوکہ ڈائریکٹر/ای پی او پر ڈاپٹی جنرل مینیجر غلام رضا راجپر کو مقرری کیا گیا ہے،اس والے سے معلوم ہواہے کہ پاکستان اسٹیل کے ایک سینئر آفیسر ای پی او نصرت اسلام بٹ کو ناپسندیدہ افسر قرار دیکر انہیں سائیڈ لین کردیا گیا ہے،اسٹیل مل کے ذرائع کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ تبادلوں کا کوئی اختیار نہیں ہوتا جب تک سی ای او کی مقرری نہیں ہوتی، دوسری جانب اسٹیل مل کی سی بی اے یونین انصاف لیبر ورکرز کی جانب سے ان تبادلوں پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ، سی بی اے کے اس رویئے اور6ماہ قبل ہونے والے ریفرنڈم کے موقع پر محنت کشوں کے ساتھ کئے گئے واعدے وفا نہ ہوئے،دوسری جانب پاکستان اسٹیل پیپلز ورکرز یونین رجسٹرڈ کے چیئرمین شمشاد قریشی نے قومی ادارے پاکستان اسٹیل کی موجودہ حالت پر گھرے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ نواز سرکار نے جس طرح پاکستان اسٹیل کو تباہ کیا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی،انہوں نے کہاکہ ادارے کی بحالی اور ملازموں کے تحفظ روزگار کے لئے کل بھی عدلیہ سے رجوع کیا تھا اور ہماری پارٹی مزدوروں کے حقوق کے لئے شانہ بشانہ آج بھی آواز بلند کرتی رہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.