گرین میٹرو بسیں بلدیہ عظمیٰ کی کرپٹ افسرشاہی کی نذر

کراچی جدت ویب ڈیسک کیماڑی تاگلشن حدید روٹ پر سی این جی سے چلنے والی گرین میٹرو بسیں غائب ہوگئیں جس سے ملازمت پیشہ مسافروں اور طلبہ برادری کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے مسافروں کا کوئی پُر سان حال نہیں ہے۔ افتتاح والے دن گرین میٹرو بس کے بیڑے مین 35بسیں شامل تھیں جن میں سے اب صرف 10بسیں روٹ پر ہیں ۔ واضح رہے کہ گرین میٹروبس کا افتتاح ایک سال قبل اس وقت کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے کیا تھا لیکن چند ماہ میں ہی کراچی میٹروپولیٹن کار پوریشن نے با اثر افراد کی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو ان بسوں کا ٹھیکہ دیدیا بعد ازاں ٹھیکیداروں نے بسوں کو ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کو ٹھیکے پر حوالے کرد یا اس صورت حال سے مسافرو ں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور مسافر سراپا احتجاج بن کر رہ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ٹھیکیداروں ، ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کے مابین طے پانے والے سمجھوتے کے مطابق فی ٹرپ ٹھیکیداروں کو 2200/-روپے دینے پڑتے ہیں اور بس میں سی این جی ڈلوانے کے بعد بقیہ رقم ڈرائیور اور کنڈکٹر آپس میں بانٹ لیتے ہیں اس طرح ڈرائیوراور کنڈکٹر گرین بس کے عملاً مالک بن گئے ہیں جو آمدنی میں اضافے کے لئے بسوں میں مسافروں کو بھیڑ بکریوں کی طرح بھر نا شروع کردیا ہے جبکہ ہر ٹرپ کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے یہی نہیں بلکہ صورت حال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب ٹھیکیداروں نے ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں سے فی ٹرپ 3100/-روپے دینے کا مطالبہ کر دیا ۔ جس کے بعد زیادہ تر ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں نے یہ کہہ کر سروس روک دی کہ یہ مطالبہ قابل عمل نہیں ہے۔دوسری جانب مسلم کوچ نے بھی کرایہ 20روپے سے بڑھا کر 30روپے کردیا ہے مسلم کوچ کے ڈرائیور اور کنڈکٹر مسافر سے کہتے ہیں کہ گرین بس کو 30روپے دینے میں آپ کو تکلیف نہیں ہوتی گرین بس کی سروس بھی تو خراب ہے اس وقت 35میں سے صرف 10بسیں سڑکوں پر نظر آتی ہیں جو تقریباً ایک ایک گھنٹے کے بعد اسٹاپ پر آتی ہیں۔ مسافروں کی بڑی تعداد نے اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے جو حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ گلشن حدید تا کیماڑی روٹ پر سفر کرنے والے مسافروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گرین میٹروبس کے ٹھیکیداروں کا ٹھیکہ منسوخ کرکے اسے خود چلائے اور مسافروں کو درپیش پریشانیوں سے نجات دلائے تاکہ گلشن حدید تا کیماڑی روٹ کے لاکھوں شہری سکھ کا سانس لے سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.