کراچی کے ایک اور مظلوم باپ نے بیٹے کے قاتلوں کی گرفتاری کےلئے چیف جسٹس آف پاکستان سے مدد مانگ لی

کراچی جدت ویب ڈیسک:ڈی ایچ اے فیز 8 میں قتل ہونے والے نوجوان عمران کے والد محمد عمر نے چیف جسٹس کو درخواست ارسال کردی،درخواست میں محمد عمر نے موقف اختیار کیا ہے کہ میرے بیٹے عمران کو رواں سال 9 جنوری کو بڑی بے رحمی سے قتل کیا گیا،عمران کو اس وقت قتل کیا گیا جب وہ پراڈو گاڑی میں ڈی ایچ اے فیز 8 سے گزر رہا تھا،میرے بیٹے کی گاڑی پر خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی،ملزمان کے آتشی اسلحہ سے نکلنے والی گولیوں میں سے 20 گولیاں میرے بیٹے اور گاڑی پر لگیں،ملزمان کی فائرنگ کے نتیجے میں میرا بیٹا عمران موقع پر ہی دم توڑ گیا،میرے بھتیجے نے عمران کے قتل کا مقدمہ درج کرایا جس میں گیارہ ملزمان نامزد ہیں،قاتل پہلے دن سے ہی پولیس کے سامنے عیاں ہیں،2 ماہ گزر جانے کے باوجود کسی ایک قاتل کو گرفتار نہیں کیا جاسکا،حکومت سندھ اور پولیس مبینہ طور پر قاتلوں کو تحفظ فراہم کررہی ہے،قاتلوں کی طرف سے مجھے اور میرے بھتیجے کوبھی مسلسل قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں،پولیس ہمیں تحفظ دینے کی بجائے قاتلوں سے سمجھوتے کا مشورہ دے رہی ہے،پولیس کہتی ہے کہ جان کی امان چاہتے ہو تو ملزمان سے سمجھوتہ کرلو،بارہا مطالبے کے باوجود مقدمے میں 7 اے ٹی اے نہ لگانے کی وجہ بھی قاتلوں کو مدد فراہم کرنا ہے،شاہ رخ جتوئی اور نقیب اللہ قتل کیس کی طرح میرے بیٹے کے قتل پر بھی سوموٹو لیا جائےاورقاتلوں کی گرفتارکرکے قرار واقعی سزا دلائی جائے،مجھے اور میرے بھتیجے کو تحفظ فراہم کیا جائے اس قبل ہمیں قتل نہ کردیا جائے۔درخواست گزار نے درخواست کے ہمراہ 22تصاویر بھی چیف جسٹس کو ارسال کی ہیں جن میں نامزد ملزمان سامی ، غفار، جبار، محمد، یاسین اور سردار محمد، علی، احمد، سمیع، شفیع محمداور حامدواضح دکھائی دے رہے ہیں،عمران قتل کیس میں نامزد ملزمان کی تصاویرجنہوں نے جنگی ہتھیار اٹھا رکھے ہیں جن بارے میں یہ بھی بتایا گیا کہ وہ بلوچستان میں عسکری گروہ چلا رہے ہیں ۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ملزمان اتنے با اثر ہیں کہ پولیس ان کی گرفتاری سے گریزاں ہیں جبکہ کراچی ہی نہیں بلوچستان میں بھی ملزمان پر کئی متعدد مقدمات درج ہیں اور عرب امارات کی پولیس کو بھی کئی مقدمات میں مطلوب ہیں۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.