رائوتحسین کیس:محکمہ محکمہ مت کھلیں،اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق پی آئی او رائو تحسین کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت کے ساتھ محکمہ محکمہ مت کھلیں ورنہ تمام متعلقہ سیکرٹریوں کو عدالتی کٹہرے میں لاکھڑا کر دینگے،رائو تحسین کا قصور ہے تو سزا دیں، انتقامی کارروائی کا نشانہ مت بنائیں۔بدھ کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق پی آئی او رائو تحسین کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق نے کی ،رائوتحسین کی جانب سے سینئر قانون دان سینیٹر وسیم سجاد پیش ہوئے جبکہ ادریس اشرف ایڈووکیٹ نے ان کی معاونت کیلئے موجود تھے۔سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے جواب داخل کرادیا ہے جس پر اسٹیبلشمنٹ نے موقف اختیار کیا کہ جواب جمع کرانا ہمارا نہیں وزارت داخلہ کا کام ہے ،ہمارے پاس ڈان لیکس کی انکوائری رپورٹ موجود نہیں ہے جس پر عدالت نے استفسار کیا اگر آپ کے پاس انکوائری رپورٹ نہیں تو رائو تحسین کو چارج شیٹ کیسے کرینگے جس پر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کہا گیا کہ رائو تحسین کو اویس ڈی نہیں بنایا گیا ۔جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہمارے ساتھ محکمہ محکمہ مت کھیلیں وگرنہ عدالت تمام متعلقہ سیکرٹریوں کو طلب کرنے پر مجبور ہوگی۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا رائو تحسین کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ جس پر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بتایا گیا کہ رائو تحسین کے خلاف مقرر کیے گئے انکوائری افسر یونس ڈھاکہ نے انکوائری سے معذرت کرلی ہے۔نئے انکوائری افسر کے لیے دوبارہ سمری بھجوائی جائے گی۔ عدالت نے کہا کہ قانون کے مطابق انکوائری رائو تحسین کو ترقی کے لیے زیرغور لانے سے نہیں روکتی۔جس پر اسٹیلشمنٹ نے جواب دیا کہ ابھی ہائی پاورڈ بورڈ زیر غور نہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ رائو تحسین کا قصور ہے تو سزا دیں، انتقامی کارروائی کا نشانہ مت بنائیں۔اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن کی جانب سے جواب کے لیے مزید مہلت دینے کی درخواست کی استدعا کی گئی عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سات دن کے اندر جواب جمع کرانے کی ہدایت کی اور مزید سماعت 14 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.