سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کرنے والوں کے خلاف چیئرمین تحریک انصاف کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا

جدت ویب ڈیسک ::سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کرنے والوں کے خلافچیئرمین تحریک انصاف کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا ،عمران خان نے کہا کہ بکنے والے ارکان کو پارٹی سے نکال دیا جائیگا پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کو بیلٹ پیپرز تک رسائی کی درخواست بھی دیگی ۔۔ تادیبی کارروائی کے ساتھ ساتھ آئندہ انتخابات میں ٹکٹ بھی نہیں دیا جائیگا ۔عمران خان نے وزیر اعلیٰ اور صوبائی قیادت کو ہدایت کی کہ ضمیر کا سودا کرنے والے ارکان کے نام بے نقاب کئے جائیں ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے ہارس ٹریڈنگ کی ابتدائی تحقیقات مکمل کر لی ہیں ۔ ایک خاتون سمیت پی ٹی آئی کے 17 ارکان اسمبلی نے ضمیر کا سودا کیا ۔ پتا لگایا جا رہا ہے کہ رقم کے علاوہ کیا کسی اور خفیہ ڈیل کے تحت مخالف پارٹی کو ووٹ تو نہیں دیئے گئے؟ ۔ رپورٹ رواں ہفتے عمران خان کو پیش کی جائے گی ۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے ووٹ ڈالنے والے ممبران کو پولنگ کے دن کوڈ دیئے تھے ۔ گنتی کے وقت کوڈ اور ترجیحات سے بکنے والے ایم پی ایز کا علم ہوا ۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پی ٹی آئی ممبران نے مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی (ف) اور پی پی پی کے امیدواروں کو ووٹ دیا ۔ ممبران کی ٹیلی فونک گفتگو اور ملاقاتوں کا ریکارڈ اکٹھا کیا جارہا ہے ۔ معاملے کی تہہ تک پہنچنے کیلئے نیب’ اینٹی کرپشن اور ایف بی آر سے رجوع کیا جائیگا ۔ نہوں نے کہا کہ کراچی کو کھنڈر بنانے والا گاڈ فادر لندن چلا گیا ہے اور صوبائی حکومت نے کراچی کو مافیا کے سپرد کر دیا ہے، 35 سال سے اس شہر میں دہشت گردوں کی حکمرانی تھی جس کی وجہ سے پڑھے لکھے، سلجھے ہوئے اور متوسط طبقے کے حقیقی نمائندے سیاست میں آنے سے کتراتے تھے لیکن آج حالات تبدیل ہو گئے ہیں اور ڈاکٹر عمران شاہ اور ان جیسے دیگر تعلیم یافتہ افراد کی تحریک انصاف میں شمولیت تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو گی اور میں خود کراچی سے انتخاب لڑوں گا جس کے لیے حلقے کا انتخاب پارٹی کے ذمہ دار کریں گے۔  عمران خان نے مزید کہا کہ کراچی میں قبضہ مافیا کا راج ہے، پولیس میں پیسے لے کر بھرتی کی جاتی ہیں، بلدیاتی نظام موثر نہیں ہے اور سندھ حکومت کو ترقیاتی کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ایسی صورت حال میں تحریک انصاف نے کراچی کی روشنیوں کو بحال کرنے کے لیے پیکیج تیار کیا ہے جس میں خیبرپختونخواہ کی طرز کی پولیس کا قیام اور موثر و با اختیار بلدیاتی کو اولین ترجیح حاصل ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.