Governer Sindh

کراچی پیکیج ، انفرا اسٹرکچر کی بحالی پر خصوصی توجہ دی جائیگی،محمد زبیر

کراچی جدت ویب ڈیسک گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ کراچی پیکج کے دوران انفرا اسٹرکچر کی بحالی پر خصوصی توجہ دی جائیگی تاکہ صوبہ میں سرمایہ کاری اور کاروبار میں اصافے کو یقینی بنایا جاسکے۔پیکج کے 25 ارب کی شمولیت سے وفاق کی جانب سے کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہونے والی رقم 75 ارب ہوجائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کی قدیم آبادی شانتی نگر کے دورے کے دوران کیا۔ انہیں اس دورے کی دعوت پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے یونین کمیٹی 23 گلشن اقبال کے چیئرمین غلام اکبر موریجو نے دی تھی۔ اس موقع پر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور پی ٹی آئی کراچی ڈویژن کے صدر فردوس شمیم نقوی بھی موجود تھے۔ گورنر سندھ پہلے غریب نواز فٹبال گرائونڈ گئے اور اس کا معائنہ کیا۔ گورنر سندھ کو بتایا گیا کہ کراچی کی چیمپئن ٹیم غریب نواز فٹبال کلب اس میں اپنے میچز کھیلتی ہے۔ گورنر سندھ نے بعد ازاں مانک گورنمنٹ سیکنڈری اسکول کا دورہ کیا اور اساتذہ سے ملاقات کی۔ گورنر سندھ کو بتایا گیا کہ اس اسکول میں تعمیرات اور بہتری کی پابندی ہے جوکہ کسی نجی شخص کی جانب سے عدالت سے لی گئی ہے۔ گورنر سندھ نے 1849 میں شانتی نگر میں قائم کی جانے والی چار مینار مسجد کا دورہ بھی کیا جس کا افتتاح پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے کیا تھا ۔ انہوں نے شانتی نگر میں صحت و صفائی کی مجموعی صورتحال کو نہایت افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس میں بہتری کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔ گورنر سندھ نے سندھی پاڑہ میں شاہ لطیف گرامر اسکول میں ایک استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شانتی نگر میں فراہمی و نکاسی آب کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس ضمن میں صوبائی حکومت ، بلدیہ عظمیٰ کراچی اور دیگر متعلقہ اداروں سے بات کریں گے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ سیاسی وابستگی سے بالا تر ہوکر عوام کی خدمت منتخب نمائندوں کا نصب العین ہونا چاہئےے کیونکہ انہیں عوام کے مسائل کے حل کے لئے منتخب کیا گیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مشاورتی اجلاس میں انہیں اس دورے کی دعوت دی گئی تھی جو کہ انہوں نے فوری طور پر قبول کرکے یہاں آنے پر رضامندی دے دی تھی۔ گورنر سندھ نے کہا کہ شانتی نگر کی قدیم بستی میں سہولیات کا فقدان نہایت افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی محاصل کا 60 فی صد صوبوں کو دیا جاتا ہے 2013 میں وفاقی محاصل 1900 ارب تھے جو کہ اس سال میں بڑھ کر 3500 ارب ہوگئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ اب صوبوں کے پاس ترقیاتی کاموں کے لئے 2013 کے مقابلہ میں دگنی رقم دستیاب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم، آمدورفت کی سہولیات میں بہتری کے لئے وفاق یہ رقم صوبوں کو دیتا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما فردوس شمیم نقوی نے گورنر سندھ کی شانتی نگر آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی آمد سے علاقے کے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاثر کے برعکس گورنر صاحب نے یہاں آکر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ عوام کے مسائل کے حل کے لئے کہیں اور کسی بھی جگہ جانے کے لئے تیار ہیں۔ اس موقع پر یونین کمیٹی کے چیئرمین غلام اکبر موریجو نے گورنر سندھ کو بتایا کہ شانتی نگر کراچی کو جنم دینے والی آبادیوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پینے کا صاف پانی علاقہ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جبکہ نکاسی آب کی صورتحال بھی نہایت ابتر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوسی کے 11 محلوں میں سے صرف 2 کو لیز دی گئی ہے جبکہ باقی 9 آبادیاں بغیر لیز کے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.