شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز میں 2 ماہ اور اسحاق ڈار کے خلاف 3 ماہ کی توسیع کردی

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک : سپریم کورٹ نے احتساب عدالت میں زیرسماعت شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز میں 2 ماہ اور اسحاق ڈار کے خلاف 3 ماہ کی توسیع کردی۔
جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی خصوصی بینچ نے ملزمان کے خلاف ٹرائل کی مدت میں توسیع سے متعلق سماعت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سپریم کورٹ سے ٹرائل کے لئے مزید وقت مانگا تھا۔شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کے ٹرائل کا احتساب عدالت میں باقاعدہ آغاز 14 ستمبر 2017 سے ہوا تھا اور 6 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کی ڈیڈلائن 13 مارچ کو ختم ہورہی تھی۔ کیس کا پس منظرکیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اب تک احتساب عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت انہیں مفرور قرار دے کر ان کا کیس الگ کرچکی ہے۔
نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں تین ضمنی ریفرنسز بھی دائر کیے گئے ہیں جن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز ضمنی ریفرنس میں نواز شریف کو براہ راست ملزم قرار دیا گیا ہے۔ جب کہ العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ضمنی ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر نامزد ہیں۔نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا۔ العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ پاناما کیس کے فیصلے کی روشنی میں احتساب عدالت کو شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کا ٹرائل 6 ماہ میں مکمل کرنا تھا جس کی مدت 13 مارچ کو مکمل ہورہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.