عزت دینے والی صرف اللہ کی ذات ہے نا اہل حکمران شاید ان لفظوں کو بھول گئے ہیں،جانیے

جدت ویب ڈیسک :آج کل کے گندی زہنیت والے حکمران شاید ان لفظوں کو بھول گئے ہیں ، و تعز من تشاء، و تزل من تشاء بےشک عزت دینے والی زات صرف اللہ تعالی کی ہے آپ کو یاد ہو گا کہ نوازشریف نے 1988 میں بے نظیر بھٹو کے خلاف ایک بہت بڑے پیمانے پر کردار کشی کی کیمپئن چلائی تھی جس میں دائیں بازو کے اخبارات اس کی بائیں جیب میں تھے اور بائیں بازو کے دانشور اس کی دائیں جیب میں تھے۔ جن کی مدد سے نوازشریف نے بے نظیر کو ایک عیاش، مغرب زادی اور پاکستان دشمن کے روپ میں پیش کیا تھا۔ اگر آپ نے اس دور کا مشاہدہ نہیں بھی کیا تو آپ نے اب تک اس ایشو پر سوشل میڈیا پر بہت کچھ دیکھ اور پڑھ رکھا ہو گا۔ اس کے بعد 1996 اور 97 میں عمران خان کو ایک سیاسی خطرہ سمجھ کر اس کے خلاف بھی ایک بہت بڑے پیمانے پر جھوٹ اور کردار کشی کی مہم چلائی گئی تھی۔ یہ سب باتیں بھی آپ نے یقیناً دیکھ، پڑھ اور سن رکھی ہوں گی جس میں جھوٹوں اور بہتانوں کا ایک طوفان تھاان سب باتوں کے بیچ میں ایک بہت اہم بات بتاتا چلوں کہ آرتھوڈکس کریمنالوجی کی سٹڈیز ہم کو بتاتی ہیں کہ دشمن کو اگر گرانا ہے تو اس کے کردار کو ختم کر دو، تا کہ لوگوں کی نگاہ میں وہ شخص بے عزت ہو جائے اور اس طرح آپ کا کام آسان ہو جاتا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا جب اسامہ بن لادن پر ایبٹ آباد میں آپریشن لانچ ہوا تھا تب امریکی اخباروں نے ایک بات کا تذکرہ بطورِ خاص کیا تھا کہ جب اسامہ بن لادن کو مارنے کے لیے سپیشل سروسز کے لوگ اندر گھسے تو اسامہ بن لادن نے اپنی بیوی کو اپنی جان بچانے کے لیے ڈھال بنا لیا۔ فل سٹاپ یہاں پر رک جائیے۔ اب ذرا اس لائن کو دوبارہ پڑھیے “جب سپیشل سروسز کے لوگ اندر داخل ہوئے تو اسامہ بن لادن نے اپنی بیوی کو جان بچانے کے لیے اپنی ڈھال بنا لیا” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے وہ ایک بظاہر بے ضرر خبر لیکن کس قدر خوفناک ہے، شاید آپ کو اس کا اندازہ ہی نہیں۔ اس ایک جھوٹ سے اسامہ بن لادن کا ساری زندگی کا بنایا ہوا مردِ مجاہد، انقلاب پسند اور عظیم جنگجو ہونے کا سارا تاثر ملیا میٹ ہو گیا کہ یہ کیسا فائیٹر تھا جس نے موت کے خوف سے نہتی اور کمزور بیوی کو آگے کر دیا ؟؟ اور اس ایک جھوٹی خبر سے امریکہ نے ایک بہت بڑی نفسیاتی جنگ جیت لی۔
اسی طرح نواز شریف ڈاکٹرائن اس بات پر مکمل طور پر متفق ہے کہ اگر سیاست کرنی ہے تو پھر سیاسی مخالفین کی کردار کشی ایسے کرو کہ ان کی ساری زندگی ناصرف ملیا میٹ ہو جائے بلکہ لوگ بھی اس کے کردار پر تھو تھو کریں۔ لیکن یہاں میاں صاب اور ان کی صاحبزادی مریم نواز ایک بات مس کیلکولیٹ کر گئے ہیں اور وہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹائم فیکٹر …..ٹائم فیکٹر سے مراد یہ ہے کہ اب وقت بدل چکا ہے۔ نہ تو اب آپ کے مقابلے پر بے نظیر ہے اور نہ ہی یہ 1997 ہے جب آپ نے روزنامہ جنگ اور نوائے وقت کو ساتھ ملا کر عمران خان کی کردار کشی کر لی اور کوئی آپ کو روکنے والا بھی نہیں تھا۔ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ ہمارے سامنے آپ کی ساری زندگی کا نچوڑ موجود ہے۔ آپ کی زندگی کے تمام تر سیاہ باب ہمارے سامنے ہیں۔ آپ کے سیاسی انتقام کا تاریک ماضی بھی ہم جانتے ہیں۔ اس لیے یہ بھول جائیے کہ اب آپ عائشہ گلالئی یا کسی اور طریقے سے عمران خان کی ذات پر کیچڑ اچھالیں گے تو ہم چپ چاپ سن لیں گے ؟؟ ایسا سوچنا بھی نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا پر لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں موجود نوجوان نہ صرف آپ کی ذات اور کردار کو نشانِ عبرت بنا دیں گے بلکہ عائشہ گلالئی جیسی کرائے کی عورتوں کو سرعام ننگا کر دیں گے۔ جو سیاست میں گندگی لے کر آئے گا اس کو اسی کے گند میں نہلا دیں گے
انگریزی میں کہتے ہیں “You wanna play rough? Lets play rough” ۔۔۔ اگر آپ کو گندگی میں کھلینا پسند ہے تو انشاءاللہ پھر ہم بھی آپ کو ایسا گندہ کریں گے کہ ساری زندگی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گے۔ اور ہاں عزت دینے والا اللہ ہے، میرے کپتان کی درویشی کو اللہ نے عزت دی ہے، وہ تم جیسے کتوں کے بھونکنے سے گندہ ہونے والا نہیں ہے بلکہ وہ ہر بار پہلے سے زیادہ نکھر کر اور اجلا ہو کر سامنے آتا ہے

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.