ذیابیطس کے مریض صرف 8ہفتوں میں مکمل صحت یاب ہوسکتے ہیں!!

لندن جدت ویب ڈیسک ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریض صرف 8ہفتوں میں مکمل صحت یاب ہوسکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ذیابیطس مرض کے حوالے سے برطانیہ میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر ذیابیطس کے مریض 8 ہفتوں تک یومیہ 600 کیلوریز والی غذالیںتو ان کی ٹائپ ٹو ذیابیطس بہت حد تک کم ہوکر خاتمےتک پہنچ سکتی ہے۔نیوکاسل یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے مطابق کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں انسولین کی مناسب مقدار پیدا نہ ہونے کے باعث خون میں شکر کی مقدار بڑھنے لگتی ہے اورتمام اعضا کو متاثر ہوتے ہیں۔عام طور پر یہی مشہور ہے کہ اضافی کیلوریز جگر اور لبلبے پر چکنائی ’فیٹی لیور ڈیزیز‘ کا باعث بنتی ہےاور جس میں جگر ضرورت سےزیادہ گلوکوز بنانے لگتا ہےاورزیادہ کیلوریز کھانے سے اضافی چربی لبلبے پر جمنا شروع ہوجاتی ہے اور یوں انسولین بنانے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔یہاں یہ بات انتہائی حیرت انگیز ہے کہ اگر لبلبےپر سے صرف ایک گرام چربی کم ہوجائے تو اس میں دوبارہ انسولین بنانے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے اور یوں ذیابیطس کا لیول کم ہونا شروع ہوجاتا ہے اور ٹائپ ٹو کے مریض صحت یاب ہونے لگتے ہیں۔اس تحقیق کے ماہر پروفیسر رائے ٹیلر کے مطابق اگرکوئی دس سال سے شوگر کا مریض ہےتب بھی کیلوریز کی کمی کے ذریعے اس سے نجات ممکن ہے، جبکہ وزن میں بھی 15کلو گرام تک کمی ممکن ہے اوریہ بات عام ہے کہخود شوگر بھی وزن میں کمی کرتی ہے۔ پروفیسر ٹیلرجنہیں 40 سالہ تجربہ حاصل ہے اپنے علم کی روشنی میں بتاتے ہیں کہ شوگر ختم کرنے کا واحد نسخہ کم کیلوریز کا استعمال ہی ہے۔
ماہرین کے مطابق کم کیلوریز سےخالی معدے اورخون میں شکر کیمقدارمیں خاطر خواہ کم ہوتی ہے اور وزن کم ہوتا ہے۔ اور اس ساری محنت کامقصد لبلبے سے چربی اترنا ہے ۔ نیوکاسل یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق اب تک کئی مریضوں کو آزمائش میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.