چیف جسٹس پاکستان نے گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری روکنے کےلیے تجاویز طلب کرلیں

جدت ویب ڈیسک ::چیف جسٹس ثاقب ںثارکی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے گردوں کی غیرقانونی پیوند کاری سے متعلق ازخود نوٹس پر سماعت کی۔سپریم کورٹ میں گردوں کی غیرقانونی پیوندکاری ازخود نوٹس کی سماعت میں قانون سازی، اسکی عملداری اور روک تھام کیلئے سیکیورٹی اداروں کی مدد پر بات ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قوانین درست ہونے پر مزید قانون سازی کی ضرورت نہیں۔ قانون یا کسی معاملے میں کمی کی نشاندہی کرسکتے ہیں لیکن پارلیمنٹیرین کو قانون بنانے کیلئے مجبور نہیں کرسکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرقوانین درست ہیں تو مزید قانون سازی کی ضرورت نہیں اصل معاملہ عملداری کا ہوگا۔ قانون یا کسی معاملے میں کمی کی نشاندہی کرسکتے ہیں تاہم قانون سازوں کو قانون بنانے کیلئے مجبورنہیں کرسکتے۔سپریم کورٹ نے ڈاکٹر مرزا نقی سے اعضاء عطیہ کرنے اورغیرقانونی پیوندکاری کوروکنے کیلئے تحریری تجاویز مانگتے ہوئے سماعت 17 مارچ تک ملتوی کر دی۔ آئیندہ سماعت کراچی رجسٹری میں ہوگی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گردے نکالنے کے دھندے میں ملوث لوگ کالی بھیڑیں ہیں اس ناسور کے خاتمے کیلئے کیا اقدامات ہوسکتے ہیں۔
ڈاکٹرمرزا نقی ظفر نے بتایا کہ خفیہ جگہوں پر گردوں کی پیوند کاری کی جاتی ہے۔ قومی اورعلاقائی سطح پر کوئی روک تھام کیلئے کوئی اتھارٹی نہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے پنجاب اور کے پی میں اتھارٹی کی موجودگی کا بتایا تو ڈاکٹر نقی نے اتھارٹیز کے بااختیار نہ ہونے کی بات کردی۔ غیرقانونی پیوندکاری روکنے کیلئے سیکیورٹی اداروں کی مدد لی جاسکتی ہے۔چیف جسٹس بولے کہ بعض دفعہ سیکیورٹی ادارے حالات سے سمجھوتہ کرلیتے ہیں غیرقانونی پیوند کاری میں صرف عطائی نہیں ڈاکٹرز بھی ملوث ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.