Chief Justice of Pakistan

کسی جج کوغلط طریقے سے فیصلہ دینے کااختیارنہیں‘ چیف جسٹس

لاہور جدت ویب ڈیسک چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاںثاقب نثار نے کہا ہے کہ عدالت میں کیس کی پیروی کے لیے مناسب وقت نہ دینا بہترین انصاف نہیں جبکہ انصاف میں جلدی کرنا انصاف کو دفن کرنے کے مترادف ہے،جج کو مقدمے سے متعلق قانون پرمکمل عبور ہونا چاہیے ، کسی جج کوغلط طریقے چلاکرفیصلہ دینے کااختیارنہیں، آئین جنسی امتیازکے بغیرہرشہری کومساوی حقوق کی ضمانت دیتاہے، بدقسمتی ہے کہ بہت سے علاقوں میں عورت کو وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کی وہ حقدار ہے،عدلیہ میں صنفی امتیاز کاخاتمہ اچھا اقدام ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ ویمن ججزکانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر چیف جسٹس لاہور جسٹس سید منصور علی شاہ ، جسٹس عائشہ اے ملک، غیر ملکی خواتین ججز ،قانونی ماہرین اور دیگر بھی موجود تھے ۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کانفرنس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس کاوش کو سراہا ۔انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں ایسا نظام متعارف کروانا ہوگا جہاں متاثرہ شخص خصوصاً خاتون مسئلہ بتاتے ہوئے جھجک محسوس نہ کرے ۔اگر کسی شخص کو اپنے مقدمے کی پیروی کے لیے مناسب وقت نہ دیا گیا اور ہماری دلچسپی صرف اعداد و شمار میں رہی تو یہ بہترین انصاف نہیں ہوگا۔پاکستان کے آئین کے تحت ملک کے ہرشہری کے لیے قانون یکساں ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ فیصلہ کرتے وقت جج صاحبان قانون کو مدنظر رکھنے کے پابند ہیں اور کسی جج کے پاس اختیارات استعمال کرتے ہوئے غلط فیصلہ دینے کا اختیار موجود نہیں ہے۔انصاف کی فراہمی میں عجلت انصاف کودفن کرنے کے مترادف ہے، کوئی بھی جج قانونی تقاضے پورے کیے بغیرفیصلہ نہیں سناتا، جج کے لئے ضروری ہے کہ وہ قانون سے آگاہ ہوں، جج کو مقدمے سے متعلق قانون پرمکمل عبور ہونا چاہیے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم ملک میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں، ماڈل عدالتوں کا قیام بہت اچھا آئیڈیا ہے،ماڈل عدالتوں کے ساتھ دوسری عدالتیں بھی کردارادا کریں۔ چیف جسٹس میاںثاقب نثار نے مزید کہا کہ بطور جج ہمیں سائل کی مشکلات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے ،بطور جج ہم ہر شہری کو فوری اور معیاری انصاف فراہم کرنے کے پابند ہیں، ہمارا ہر قدم قانون کی حکمرانی کے لیے ہونا چاہیے اور انصاف کا معیار قانون کے مطابق رکھنا ہوگا۔ انصاف کی فراہمی کے دوران فیصلے ابہام سے پاک سے ہونے چاہئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آئین میں بنیادی حقوق کے حوالے سے کوئی صنفی امتیاز نہیں لیکن بدقسمتی ہے کہ بہت سے علاقوں میں عورت کو وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کی وہ حقدار ہے،شہروں میں صنفی امتیاز کے حوالے سے صورتحال یکسر مختلف ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالتوں میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ فیصلوں میں تاخیر ہے۔اس سے قبل چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس سید منصورعلی شاہ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کوشش ہے کہ شفاف عدالتی نظام قائم کریں، ہائیکورٹ میں کیسزکو جلد نمٹانے کیلئے اسپیشل بنچ بنائے ہیں، سیشن ججزاب براہ راست مسائل پر بات کرتے ہیں، خواتین ججز کے مسائل کا علم ہے ، ضلعی عدالتوں میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے بہت کام کئے جا رہے ہیں، ورکنگ ویمن کے بچوں کیلئے ڈے کیئر سینٹر بنائے گئے ہیں ۔خواتین ججز کی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں، انصاف کی فراہمی میں خواتین ججز کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ عدلیہ میں خواتین ججز کے مسائل حل کرنے کے لئے لاہور ہائیکورٹ سے منزل کا آغاز کیا گیا، پہلی بار لاہور ہائیکورٹ میں ایڈوائزری کمیٹی میں خواتین ججز کو شامل کیا گیا۔ضلع کی سطح پر ویلفیئر کمیٹی برائے خواتین کے انعقاد کو یقینی بنایا، خواتین ججوں کو مزید خودمختار بنانے کے لئے ان میں گاڑیاں تقسیم کیں۔ جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ سائلین کی آسانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی لارہے ہیں، شہریوں کو کیسزسے متعلق آن لائن معلومات فراہم کی جارہی ہیں اور ضلعی سطح پرججوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پرحل کررہے ہیں۔ پنجاب کی عدالتوں میں 12 لاکھ کیسز زیر سماعت ہیں، گزشتہ 4 ماہ کے دوران 36 اضلاع میں 5 ہزار 446 ریفرنس میں سے 3 ہزار 661 ریفرنسز کو نمٹا دیااور کامیابی سے اہداف حاصل کررہے ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.