خاور مانیکا اور جمیل گجر کہاں ہیں؟ دونوں کو آج شام چار بجے سے قبل ہر صورت بلائیں۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک ::: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثارنے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کے تبادلے سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو فوری طور پر طلب کرلیا۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ خاور مانیکا اور جمیل گجر کہاں ہیں، دونوں کو آج شام چار بجے سے قبل ہر صورت بلائیں۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں ڈی پی او رضوان گوندل کی تبدیلی سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ یہ کیا معاملہ ہے، پانچ دن سے قوم اس کے پیچھے ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک بات بار بار کہہ رہا ہوں کہ پولیس کو آزاد وخودمختار ہونا چاہیے، ہم پولیس کو سیاسی دباوٴ سے نکالنا چاہتے ہیں لیکن پولیس سیاسی دباوٴ سے نکلنے کی کوششوں کو خراب کر رہی ہے۔ آپ آزاد ادارہ نہیں بننا چاہتے، کس کے لیے رضوان گوندل کا تبادلہ ہوا، اگر آپ نے وزیر اعلیٰ کے حکم پر رضوان گوندل کا تبادلہ کیا ہے تویہ غیر قانونی ٹرانسفر ہے، تبادلے کا حکم رات کے ایک بجے جاری کیا گیا، رات کے ایک بجے تبادلہ کا حکم جاری کرنے کی کیاضرورت پڑگئی تھی، کیا اس رات صبح نہیں ہونا تھی۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ میں کبھی کسی سیاستدان کے کہنے پر کام نہیں کرتا، 31 سال سے پولیس میں ایمانداری سے خدمات سرانجام دیں، میں نے اس سے پہلے چار مرتبہ فورسز کو کمانڈ کیا ہے، میں قسم کھا سکتا ہوں، سیاسی دباوٴ میں نہیں تھا، کسی نے مجھے ڈی پی او کے تبادلے کے لیے نہیں کہا، ڈی پی او رضوان گوندل کا تبادلہ انتظامی حکم تھا، ایک خاتون کے ساتھ بدتمیزی کی گئی ، ڈی پی او مجھ سے پوچھے بغیر وزیراعلیٰ کے پاس گئے۔
چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو ہدایات نہ دیں، آپ کی طرف سے بدنیتی کا مظاہرہ کیا گیا،سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو بلا کر آپ کا تبادلہ کرواتے ہیں، غلط بیانی سے کام لیں گے تو آئی جی پنجاب کے طور پر واپس نہیں جائیں گے۔
چیف جسٹس کے استفسار پر رضوان گوندل نے عدالت کو بتایا کہ احسن جمیل گجرسے بطور ڈی پی او ڈیرے پرجانے سے انکار کیا، خاور مانیکا کے ڈیرے سے کال آئی کہ جن لوگوں نے خاتون کو روکا انہیں اٹھا لیں گے، وزیراعلیٰ کے پی ایس حیدرنے 24 اگست کو مجھے اور آرپی او بلایا، وزیراعلیٰ نے رات 10 بجے بلایا تھا، مجھے کہا گیا کہ آپ کو پیغام بھیجا گیا لیکن آپ نے عمل نہیں کیا، وزیراعلیٰ آفس گئے تو چارپانچ منٹ بعد وزیر اعلی خود آئے، میں نے ان کو تفصیل بتائی۔آرپی اوساہیوال نے بتایا کہ خاورمانیکا کوناکے پرروکا لیکن وہ نہیں رکے، خاورمانیکا نے پولیس والوں کو برا بھلا کہا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کڑیاں مل رہی ہیں کہ سی ایم کے کہنے پرتبادلہ کیا گیا، چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ پنجاب پر62 ون ایف لگانے کا عندیہ دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کس کس پر لاگو ہوسکتا ہے؟ مخدوم صاحب سے معاونت لیں گے کہ 62 (1) ایف وزیر اعلیٰ پر لگتا ہے یا نہیں، ممکن ہے اور کسی وزیر اعلیٰ کے کام آجائے۔رضوان گوندل کے بیان پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اس کا مطلب ہے تبادلہ کی ہدایات وزیراعلیٰ نے دیں، وزیراعلیٰ کس قانون کے تحت تبادلہ کا کہہ سکتا ہے؟ جس پررضوان گوندل نے کہا کہ پی ایس اوکے مطابق تبادلے کا حکم وزیراعلیٰ نے دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.