مینوں کچھ دسیا نہیں، کچھ پوچھیا نہیں،،نواز شریف کی پالیسیوں سے اختلافات شدت اختیار کرگئے

جدت ویب ڈیسک :نواز شریف کی نااہلی کے بعد چوہدری نثار سے متعلق بہت سی خبریں سامنے آئیں جن میں کبھی انہیں صدر اور کبھی وزارت داخلہ کا قلمدان واپس دیئے جانے کا کہا جا رہا تھا تاہم ایسا کچھ بھی ہوتا نظر نہیں آتا۔ موجودہ صورتحال میں چوہدری نثار کی نواز شریف کے ساتھ مخالفت ایک بار پھر سامنے آ چکی ہے جس میں شہباز شریف کو وزارت عظمی سے دور رکھنے اور کلثوم نواز کو آگے لانے کی پالیسی ہے جس سے چوہدری نثار کو شدید اختلاف ہے۔تاہم ان سب حالات میں ن لیگ کے اکثر رہنما شہباز شریف اور چوہدری نثار کی جانب جُھک گئے ہیں اور نواز شریف کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے نظر آتے ہیں جس میں مسلم لیگ ن کاگزشتہ دنوں ایک اجلاس 25 سی30 رہنماؤں اوردوسرا 10 سی 12 رہنماؤں کاالگ ہوا،جواس اختلاف کی شدت کوظاہرکرتا ہے ۔ بعض خبروں کے مطابق شہباز شریف کو اپنی بھابھی اور این اے 120 کی امیدوار بیگم کلثوم نواز کی لندن روانگی تک کا علم نہیں تھا۔بیگم کلثوم نواز کے بارے میں بھی خبریں سامنے آئی تھیں کہ وہ خود بھی چوہدری نثار کو پسند نہیں کرتیں۔ رپورٹ کے مطابق ن لیگ میں صدارت پربھی اعتراض ہے ، پہلے شہبازشریف کووزیراعظم بنانے کافیصلہ ہوامگربعدمیں انہیں پنجاب میں رکھنے کی بات کی گئی اوران کی جگہ کلثوم نوازکواین اے 120کا ٹکٹ دینے کافیصلہ ہوا۔ بعدازاں شہبازشریف کوپارٹی کاصدربنائے جانے کی بات ہوئی ،تاہم سرداریعقوب ناصرکوقائمقام صدربنایاگیا،جس پرچوہدری نثارعلی خان نے سخت اعتراضات کئے اب شہبازشریف کے بجائے کلثوم نوازکوہی پارٹی کاصدربنانے کی باتیں ہورہی ہیں ،کچھ لیگی رہنماؤں کے کلثوم نوازکوٹکٹ دینے اورپارٹی کاصدربنائے جانے پرسخت تحفظات ہیں ،ن لیگ کی صدارت کے فیصلے کے لئے پارٹی کی مجلس عاملہ کااجلاس 7ستمبرکولاہورمیں ہوگا،ادھرکلثوم نوازکوٹکٹ دینے کے لئے پارٹی صدرنہ ہونے کے باعث بھی مشکلات ہیں اورامکان ظاہرکیاجارہاہے کہ انہیں شیرکانشان الاٹ نہیں ہوسکے گا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.