کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔درآمدی سیگریٹ، تمباکوں،سگار پرایف ڈی کی شرح بڑھا دی گئی۔72 کھرب 94 ارب 90 کروڑ روپے کا وفاقی بجٹ پیش، عوام کے لیے بہت سے ریلیف

June 12, 2020 6:07 pm

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے آئندہ مالی سال 2021-2020 کا بجٹ پیش کردیا ۔
اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم عمران خان نے بھی شرکت کی، وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے آئندہ مالی سال 2020-2021 کے لیے 72 کھرب 94 ارب 90 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں گیارہ فیصد کم ہے۔
حماد اظہر نے بتایا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 73 فیصد کمی ہوئی، پی ٹی آئی حکومت نے تجارتی خسارہ 31 فیصد کمی کی، 9 ماہ میں تجارتی خسارے میں 21 فیصد کمی کی گئی، تجارتی خسارہ 21 ارب ڈالر سے کم ہو کر 15 ارب ڈالر رہ گیا، ایف بی آر کے ریونیو میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔
حکومت نے 6 ارب ڈالر کے بیرونی قرض کی ادائیگی کی، پچھلے 2 سال میں 5 ہزار ارب سود کی مد میں ادا کیے، ماضی کے قرضوں پر ہم نے 5 ہزار ارب روپے سود ادا کیا، 10 لاکھ پاکستانیوں کے لیے بیرون ملک ملازمت کے مواقع پیدا ہوئے، 9 ماہ میں ترسیلات زر 17 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، ہماری حکومت میں بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے 10 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کیے۔
ملک میں براہ راست سرمایہ کاری 2.15 ارب ڈالر بڑھی، موڈیز نے ہماری معیشت کی درجہ بندی بہتر کرتے ہوئے بی پازیٹو کی، حکومتی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں مالیاتی استحکام پیدا ہوا، بلوم برگ نے ہماری اسٹاک مارکیٹ کو بہترین مارکیٹس میں شمار کیا، پی ٹی آئی کی حکومت نے اسٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا۔ قرضوں کے انتظامات کو بہتر کیا گیا، 40 ارب روپے بچائے۔

بجٹ کا مجموعی حجم

بجٹ کا مجموعی حجم 72 کھرب 94 ارب 90 کروڑ روپے ہے، آمدن کا مجموعی تخمینہ 63 کھرب 14 ارب روپے رکھا گیا ہے، محاصل سے آمدن کا تخمینہ 36 کھرب 99 ارب 50 کروڑ روپے ہے، مجموعی اخراجات کا تخمینہ 72 کھرب 94 ارب 90 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 70 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
اداروں میں اسٹرکچر اصلاحات کیں، جہاں ضروری تھا وہاں نجکاری کی گئی، میڈ ان پاکستان کے نام سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈیوں میں متعارف کرائیں، کاروباری طبقے کو 254 ارب روپے کے ریفنڈ جاری کیے گئے، پنشن کے نظام میں اصلاحات لائی گئیں، 35 اداروں کو دیگر اداروں میں ضم کرنے کی سفارش آئی ہے، احساس کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل نو کے لیے اصلاحات لائی گئیں، 8لاکھ 20 ہزار جعلی افراد کو احساس پروگرام سے نکالا گیا۔ کاروبار اور صنعت کو ترقی دینے کے لیے اقدامات کیے، جون 2018 میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا، ایز آف ڈوئنگ انڈیکس میں پاکستان 190 ممالک میں سے 108 ویں نمبرپر آگیا، ٹاسک فورس نے 43 اداروں کی نجکاری 8 میں اصلاحات کی سفارش کی، آسان کاروبار انڈیکس میں پاکستان 136 سے بہتر ہو کر 108 پر آیا۔

دفاعی بجٹ

افواج پاکستان کےبجٹ میں61ارب74کروڑ60لاکھ کااضافہ کیا گیا، نئے مالی سال کادفاعی بجٹ 1289.134ارب روپے مختص، ملازمین کے اخراجات کی مد میں 745.657 ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ آپریٹنگ اخراجات کی مدمیں 301.109ارب روپےرکھےگئے ہیں۔

سول ورکس کی مد میں 157-478 ارب روپے جبکہ فزیکل اثاثوں کا تخمینہ 357-75 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

کرونا وائرس کے اثرات

بد قسمتی سے کرونا وائرس نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے، ترقی پذیر ممالک کے لیے کرونا بڑا مسئلہ ہے، پاکستان بھی کرونا وائرس کے اثر سے محفوظ نہیں رہا، کرونا کے باعث جی ڈی پی میں 33 سو ارب روپے کی کمی ہوئی، ایف بی آر کوٹیکس وصولی میں 900 ارب روپے کی کمی رہی، حکومت کو نان ٹیکس ریونیو میں 102 ارب روپے کا نقصان ہوا۔  حکومت نے کرونا کے تدارک کے لیے 1200 ارب روپے سے زائد کے پیکج کی منظوری دی ہے، حکومت نے طبی شعبے کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری دی، یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے سہولت دینے کے لیے 50 ارب روپے رعایتی اشیا کے لیے مختص کیے، بجلی اور گیس کے مؤخر بلوں کے لیے 100 ارب روپے رکھے، کسانوں کو سستی کھاد اور قرضوں کی معافی کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، 200 ارب روپے روزانہ اجرت کمانے والوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں، چھوٹے کاروبار کی بہتری کے لیے 50 ارب روپے بلوں کی ادائیگی کے لیے رکھے گئے، کرونا فنڈ کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، میڈیکل سپلائیز میں 15 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی۔

مختلف شعبوں کو ٹیکس چھوٹ اور قرض

کسانوں کو 980 ارب روپے گندم کی خریداری کے لیے ادا کیے گئے، تعمیراتی شعبے میں تیزی کے لیے آسان ٹیکس متعارف کرائے، سیمنٹ سیکٹر کو وِد ہولڈنگ ٹیکس میں چھوٹ دی گئی، سستے رہائش گاہوں کے لیے 90 فی صد ٹیکس چھوٹ دی گئی، تعمیرات کو صنعت کا درجہ دیا گیا، کاروبار میں تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 4 فیصد کم ریٹ پر قرض دیا، 7 لاکھ 75 ہزار قرض داروں کو بنیادی رقم کی ادائیگی کے لیے 3 ماہ چھوٹ دی گئی ہے، انفرادی اور کاروباری قرضوں کے لیے 800 ارب روپے سہولت دی، طویل المدتی قرضوں کی شرائط میں نرمی کی گئی ہے، درآمد کنندگان کے لیے پیشگی ادائیگی کی حد بڑھا دی گئی ہے۔

ٹیکس ڈیوٹی میں اضافہ

حماد اظہر نے بتایا کہ آئندہ بجٹ میں درآمدی سیگریٹ پرایف ای ڈی 65فیصد سے بڑھا کر100فیصد کرنے جبکہ ای سیگریٹ فلٹرراڈز پر بھی ایف ای ڈی کی شرح بھی بڑھائی جارہی ہے۔

ودھ ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کی تجویز

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں آسان کاروبار کیلئے 9 فیصد ودھ ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کی تجویز سامنے آئی جبکہ ٹیکس دینے والے شادی ہالز اور بچوں کی اسکول یا تعلیمی فیسوں پر والدین پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔ ٹیکس ریٹرن جمع کروانے والے والدین کے لیے اسکولوں کی فیس پر ٹیکس کی شرط ختم کردی گئی جبکہ نادہندگان کے لیے اسکول فیس پر ٹیکس کی شرط کو برقرار رکھا گیا ہے۔ آٹو رکشہ،موٹرسائیکل رکشہ،200سی سی موٹرسائیکل پرایڈوانس ٹیکس ختم جبکہ نان ریزیڈینٹ شہریوں کے لئے آف شور سپلائیز پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کردی گئی۔

بغیر شناختی کارڈ ٹرانزیکشن کی حد بڑھا دی گئی

حماد اظہر نے بتایا کہ بغیرشناختی کارڈ تاجروں کے لئے ٹرانزیکشن کی حد میں اضافہ کر کے اسے پچاس لاکھ سے ایک لاکھ روپے کردیا گیا، ایک سال میں ترسیلات زر کی بینک ٹرانزیکشن پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔ ایک سال میں ترسیلات زر کی بینک ٹرانزیکشن پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔

صنعت کاروں کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مختلف درآمدی اشیا کی ڈیوٹی میں کمی

صنعت کاروں کے لئے خام مال کی درآمدات پر انکم ٹیکس کی شرح ساڑھے 5 فیصد سے ایک فیصدکرنے کی تجویز، ٹیکس ریفنڈ میں شفافیت کیلئے مرکزی ٹیکس ریفنڈ قائم کرنے کی تجویز ، سیمنٹ کی پیداوار میں ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز شامل کی گئی، 2ہزار ٹیرف لائنز پر کسٹم ڈیوٹی کی شرح اور ربڑ، گھریلو اشیا، خام مال پرڈیوٹی میں بڑی کمی کردی گئی۔

مختلف منصوبوں کے لیے رقم مختص کرنے کی تجویز

نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کیلئے 1.5ارب روپے رکھنے کی تجویز، سی پیک کے منصوبوں کیلئے118ارب روپے مختص، ای گورننس کیلئے ایک ارب روپے سےزائد مختص، آبی وسائل کی بہتری کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے گئے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع۔Session of the National Assembly begins with Speaker National Assembly Asad Qaiser in chair.Federal Minister of Industries and Production Muhammad Hammad Azhar will present the Federal Budget FY 2020-21 before the House. #Budget2020 #PakistanBudget

Posted by National Assembly of Pakistan on Friday, June 12, 2020

متعلقہ خبریں