جان لیوا گیم’بلیو وہیل‘ سے متعلق اہم حقائق

کراچی جدت ویب ڈیسک گزشتہ چند روز سے پاکستان سمیت پوری دنیا میں سوشل میں تیزی پھیلتے ہوئے انتہائی خطرناک ویڈیو گیم ”بلیو وہیل“سے متعلق حیرت انگیز خبریں اور ویڈیوز شیئر ہورہی ہیں جن میں اکثر کا حقیقت سے دور دور کا واسطہ نہیں اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ اس گیم سے پوری دنیا میں جانیں ضائع نہیں ہوئی ہیں لیکن اتنا ضروری ہے کہ جتنا ہے اس سے زیادہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ یہاں یہ بات بھی تشویش کے قابل ہے کہ پاکستان میں اسے سنجیدگی کے بجائے مذاق کے طور پر لیا جارہا ہے اور ایسی پوسٹس شیئر کی جارہی ہیں جس میں یہاں تک کہا جارہا ہے کہ وہ بھی یہ گیم آزمانا چاہتے ہیں کہ کیسے لوگ خود کشی پر مجبور ہوتے ہیں۔
واضح ہو کہ ”بلیو وہیل“نامی یہ گیم دراصل ایک چیلنج ہے جس کے بارے میں سب سے پہلے ”نووایاگزیتا“ایک روسی خبر رساںادارے نے معلومات شائع کیں جس میں روس بھر میں اس گیم سے 130بچوں کی اموات کی خبر مئی 2016ء میں رپورٹ کی گئی۔ رپورٹ کے اگلے روزایک اور روسی ادارے ”آر ٹی ٹی وی “نے بھی اس حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ نشر کی۔جس میں آگاہ کیا گیا کہ گیم کھیلنے والے کو مختلف خطرناک ٹاسک دیئے جاتے ہیں جن میں خوفناک ویڈیوز دیکھنا اور خوفناک کارنامے سرانجام دینا شامل ہوتا ہے۔ چونکہ اس گیم کے انٹر نیٹ پر کوئی لنک موجود نہیں اس لئے اسے سیکریٹ میڈیا کے ذریعے پھیلایا جارہا ہے ۔

روسی نشریاتی ادارے کی رپوٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کاآغاز روس کی سوشل ویب سائٹ”وی کے“پر ہوا،جو فیس بک جیسی سوشل ویب سائٹ ہے۔’بلیو وہیل چیلنج‘ کو ابتدائی طور پر 2013 میں بنایا گیا، لیکن پہلے ورژن میں یہ گیم اس قدرخطرناک اور جان لیوانہیں تھی، پہلے اسٹیج میں اسے کم عمر بچوں تک پھیلایا گیا، جس میں مختلف تفریحی ویڈیوز دکھائی گئیں۔لیکن 2015 میں اس گیم کا نیا ورژن متعارف کرایا گیا، جو پہلے ورژن کے مقابلے زیادہ خطرناک تھا۔اور جسے سیکریٹ رکھا گیا، جسے نہ صرف ’وی کے‘ جیسی سوشل ویب سائٹس بلکہ دیگر عالمی سوشل اینڈ میسیجنگ ایپلی کیشنز جن میں واٹس ایپ، فیس بک اور میسیجر شامل ہیں ان کے ذریعے کم عمربچوں تک پھیلایا گیا، جو ڈپریشن، پریشانی اور ناخوش زندگی گزار رہے تھے۔ان افراد کا انتخاب پہلے ورژن کے گروپ میں شامل افراد میں سے ہی کیا گیا۔یوں پہلےسال تک اس ویڈیو گیم کی کوئی خبر سامنے نہیں آسکی، اور اچانک خبر آنے کے بعد اس گیم کے ذریعے روس میں 130 اموات کا دعویٰ کیا گیا۔اس دعوے کے بعد ہی 2016 میں ’آر ٹی‘ جیسے بڑے اداروں نے اس ویڈیو کی خبریں نشر کیں، لیکن اس وقت تک بھی اس ویڈیو گیم کا خوف روس تک ہی محدود تھا۔
مگر پھرفروری 2017 میں پہلی بار ’بلکان انسائٹ‘ نے خبر دی کہ بلغاریہ میں حکام نے والدین کو اس خطرناک روسی ویڈیو گیم سے متعلق خبردار کیا ،اس وقت تک بلغاریہ میں اس گیم کی وجہ سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی تھی۔ا س کے دو ماہ بعد پہلی بار برطانوی نشریاتی ادارے ”بی بی سی“نے اپریل 2017ء میں اس جان لیوا گیم کے حوالے سے خبر شائع کی جس میں پولیس کی جانب سے والدین کو بچوں پر کڑی نگرانی کی ہدایت جاری کی گئیں جبکہفلپ بڈیکن کو اس گیم بنانے پر ملزم قرار دیا گیا ہے۔
مئی 2017 میں آر ٹی نے ایک بار پھر ’بلیو وہیل چیلنج‘ گیم کی متاثرہ ایک کم عمر لڑکی کی خبر شائع کرتے ہوئے اس کی جانب سے خودکشی کرنے کی کوشش کی ویڈیو بھی جاری کی۔گزرتے دنوں کے ساتھ اس ویڈیو گیم کا خوف بڑھتا گیا، اور یہ گیم روس سے نکل کر بلغاریہ، اسپین اور برطانیہ جیسے ممالک تک پہنچ گیا۔
اس خوفناک ویڈیو گیم کے پھیلنے کے بعد ’نووایا گزیتا‘ نے دسمبر 2016 میں (آئی سی آر ایف) کے عہدیداروں کا انٹرویو شائع کیاجس میں گیم کے مبینہ سربراہ کی گرفتاری کے بعد کی تحقیقات کے اقتباسات پیش کئے گئےجس میں بتایا گیا کہ گرفتارنوجوان فلپ بڈیکن نے ’بلیو وہیل‘ گیم کو بنانے اور چلانے کے تمام تر ثبوت ضائع کردیے ہیں، اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اس حوالے سے کوئی مواد موجود نہیں۔یہ شبہ بھی ظاہر کیا گیا کہ ممکنہ طور پر فلپ بڈیکن اس گیم کے سربراہ نہیں بلکہ گیم کو بنانے والی ٹیم کے ممبر ہوسکتے ہیں۔تاہم مئی 2017 بی بی سی نے خبر دی کہ فلپ بڈیکن کو خطرناک ویڈیو گیم ’بلیو وہیل‘ بنانے پر ان پر فرد جرم عائد کیا گیا ہے۔

پاکستان میں اس گیم سے متعلق تشویش کی لہر اس وقت دوڑ گئی جب پڑوسی ملک بھارت میں گزشتہ ماہ اگست میں ’بلیو وہیل‘ کی وجہ سے پہلی بارایک 14 سالہ لڑکے کی خودکشی کی خبر سامنے آئی۔
ٹائمز آف انڈیا نےیکم اگست کو ممبئی پولیس کےحوالے سے خبر دی کہ 14 سالہ لڑکے منپریت سنگھ نے ’بلیو وہیل‘ گیم کے آخری ٹاسک کو پورا کرنے کے غرض سے خودکشی کی۔اور اسی طرح ہندوستان ٹائمز نے بھی 3ستمبر کو گجرات میں ایک نوجوان کی جانب سے آخری ٹاسک پورا کرتے ہوئے خود کشی کی خبر دی۔اگرچہ اس وقت تک دنیا بھر میں اس گیم کی وجہ سے مصدقہ خودکشیوں اور ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی، تاہم میڈیائی رپورٹس کے مطابق تقریبا 150 کے قریب افراد اس گیم کی وجہ سے موت کو گلے لگا چکے ہیں، جن میں سے 130 سے زائد اموات صرف روس میں ہوچکی ہیں۔
پاکستان میں اس گیم کے حوالے سے مختلف چہ مگوئیاں جاری ہیں، تاہم اب تکپاکستان میں اس گیم کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوسکی۔مقامی موقر جریدے کے’نیوز وائز‘ میں یکم ستمبر 2017 کو ’آئی ٹی‘ کے ماہر سید حیدر علی نے بتایا کہ پاکستان میں ’بلیو وہیل‘ گیم اب تک نہیں آسکی، کیوں کہ یہاں کے انٹرنیٹ سیکورٹی ادارے اور ویب سائٹس اس گیم کی انٹری کو روکنے میں مصروف عمل ہیں۔ ’بلیو وہیل‘ گیم کی پاکستان میں انٹری کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، کسی بھی کم عمر انٹرنیٹ صارف کو کسی کی جانب سے سوشل یا میسیجنگ ایپ کے ذریعے گیم کھیلنے کی دعوت موصول ہوسکتی ہے۔ اس گیم کو کھیلنے والے شخص کو سوشل اکاؤنٹ کی طرح اکاؤنٹ بنانا پڑتا ہے، جس میں وہ اپنی معلومات بھی فراہم کرتا ہے۔اورگیم کھیلنے والے فرد کو تمام ٹاسک پورے کرنے کے ثبوت تصاویر یا ویڈیوز کی شکل میں واپس گیم ایڈمن کو بھیجنے پڑتے ہیں۔ اس گیم میں تصورات کا زیادہ عمل دخل ہے اور اس کے سحر میں مبتلا ہوکر خود کشی جیسا اقدام بھی اٹھانے پر گیم کھیلنے والا مجبور ہوجاتا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.