نواز شریف کے جانے سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں‘بلاول بھٹو

لاڑکانہ جدت ویب ڈیسک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی احتساب پر یقین رکھتی ہے نواز شریف کے خلاف فیصلے سے جمہوریت اور پارلیمنٹ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ حکومت سندھ صحت کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے انقلابی اقدامات اٹھا رہی ہے میں وزیر اعلی پنجاب سمیت تینوں صوبوں کے وزیر اعلی کو چیلنج کرتا ہوں کہ ایسا ادارہ اپنے صوبوں میں بنا کر دکھائیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوا رکو لاڑکانہ میں این آئی سی وی ڈی سینٹر کے افتتاحی تقریب کے موقع پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ لاڑکانہ کی عوام نے پی پی پی کیلئے لاتعداد قربانیاں دیں ہمیں بھرپور عزت دی جن کا ہم پر قرض ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 میں چانڈکا میڈیکل کالج کی بنیاد رکھی جس وقت یہ سہولیات صرف ملک کے بڑے بڑے شہروں میں موجود تھیں پی پی پی حکومت ان کے مشن کو آگے اسپتالوں وکو اپ گریٹ کرنے کے ساتھ صحت کی بنیادی سہولیات صوبے کے کونے کونے میں فرائم کر رہی انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت بہتر نتائج دے رہی ہے اور ان پر اعتماد کے باعث ہی ایسے ادارے بن رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ شہید محترمہ نے اپنے دور اقتدار میں لیڈی ہیلتھ ورکرز بھرتی کرکے صوبے کے گھر گھر تک صحت کی سہولیات فراہم کیں تھیں انہوں نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی ایک اچھا ادارہ ہے جو بہتر کام کرتا ہے جو قریبی اضلاع کے لوگوں کو بھی سہولیات مفت فراہم کرے گا نئی عمارت کی تعمیر کے کارڈیالوجی سرجری بھی شروع کی جائے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد 2011 میں این آئی سی وی ڈی وفاق سے صوبے کے حوالے اور رواں سال ہم نے اس کا بجٹ چار ارب روپے بڑھا کے 5.8 ارب روپے کردیا ہے کراچی کے بعد رواں سال لاڑکانہ سکھر،ٹنڈو محمد خان اور سکھر میں یہی سینٹرز قائم کئے جارہے ہیں جبکہ اگلے سال میرپورخاص خیرپور اور بوابشاہ میں یہ مراکز قائم ہوں گے انہوں نے مزید کہا کہ جہاں ہم خود کو کمزور محسوس کرتے ہیں وہیں پرائیوٹ سیکٹر اور نجی اسپتالوں کے ساتھ مل عوام کو صحت کی مطلوبہ سہولیات فراہم کر رہے ہیں سندھ میں پی پی پی 1970 سے عوام کی حمایت یافتہ ہے ہم آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی سرپرستی میں عوام کی خدمت کر رہے ہیں دیگر سیاستدان صف باتیں اور ہم کام کرتے ہیں جس کی مثال ایسی اداروں کا قیام ہے اس موقع پر نثار کھوڑو ڈاکٹر سکندر میندرو و دیگر بھی موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.