بابری مسجد تنازعہ میں نیا موڑ،جانیے

جدت ویب ڈیسک :بابری مسجد تنازع میں ایک نیا موڑ آیا ہے ۔ یوپی کے شیعہ وقف بورڈنے اس معاملے میں سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رام جنم بھومی اور بابری مسجد کی متنازعہ زمین پر ہی مندر بنایا جانا چاہئے اور اس سے تھوڑی دور مسلم علاقے میں مسجد بنانے کیلئے جگہ دی جانی چاہئے ۔ شیعہ وقف بورڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ بابری مسجد شیعہ وقف کی تھی اسلئے اس معاملے میں دوسرے فریقین سے بات چیت اور پرامن حل تک پہنچنے کا اختیار صرف اسی کے پاس ہے ۔ ادھر بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے کہا ہے کہ قانون کی نظر میں شیعہ وقف بورڈ کے حلف نامے کی کوئی حیثیت نہیں ۔ شیعہ وقف بورڈ نے دلیل دی ہے کہ اگر مندر اور مسجد کی تعمیر ہوگئی تو ایک طویل عرصے سے جو تنازع چلا آرہا ہے اور جس کی وجہ سے آئے دن کی بدامنی پیدا ہوتی ہے اس سے نجات مل جائیگی۔ادھر ایودھیا تنازع میں الٰہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی پٹیشن پر سماعت کیلئے جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی 3رکنی بنچ کی تشکیل کردی گئی ہے ۔ یہ بنچ 11اگست سے چیلنج کرنے والی پٹیشنوں پر سماعت شروع کریگی۔ شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی نے جو حلف نامہ داخل کیاہے اس میں کہا گیا ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر ایک شیعہ میر باقر نے کرائی تھی۔ بابری مسجد کو بابر نے تعمیر نہیں کرایا تھا کیونکہ بابر کبھی اجودھیا آیا ہی نہیں۔ انہوں نے حلف نامے میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ بابری مسجد کے نام سے جو اراضی ہے وہ شیعہ وقف بورڈکو منتقل کی جائے تاکہ اس اراضی پر مندر تعمیر کیا جاسکے اور اسکے عوض حکومت اجودھیا میں بابری مسجد کی تعمیر کیلئے علیحدہ اراضی دے ۔ حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ مندر اور مسجد پاس پاس بنانے سے جھگڑے ختم نہیں ہونگے کیونکہ دونوں جگہوں پر لائو ڈ اسپیکر استعمال ہونگے اسلئے آئے دن ہنگامے ہوتے رہیں گے ۔ حلف نامے میں یہ بھی کہا گیاہے کہ یہ پراپرٹی شیعہ وقف ہے ۔ انگریزوںنے غلط اندراج کراکے سنی وقف بورڈ کو دیدی تھی۔ حلف نامے میںیہ بھی کہا گیاہے کہ شیعہ وقف بورڈ کو بابری مسجد مقدمے میں فریق بننے کا موقع دیا جائے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.