خمینی کے حکم پرایران میں ہزاروں قیدی قتل

تہران جدت ویب ڈیسک ایران کے سابق انٹیلی جنس وزیر علی فلاحیان نے ایک بار پھر ولایت فقیہ کے انقلاب کے بانی آیت اللہ علی خمینی کے حکم پرانقلاب مخالف ہزاروں افراد کوموت کے گھاٹ اتارے جانے کا دفاع کیا ہے۔ آیت اللہ علی خمینی کے حکم پر جیلوں میں ڈالے گئے تیس ہزار افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک ٹی وی انٹرویو میں علی فلاحیان نے کہا کہ حکومت اورانقلاب مخالف ہزاروں قیدیوں کا قتل عام بانی انقلاب آیت اللہ علی خمینی کےحکم پر کیا گیا۔ ماورائے عدالت ہلاک کیے گئے قیدیوں میں مجاھدین خلق اور تمام اپوزیشن گروپوں کے لوگ شامل تھے۔سابق انٹیلی جنس وزیر نے بتایا کہ سابق پراسیکیوٹر جنرل آیت اللہ موسوی تبریزی نے خمینی کا حکم ملنے کے بعد کہا تھا کہ قیدیوں کے ٹرائل اور ان کے خلاف مقدمات چلانے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ امام خمینی کا حکم تھا کہ شیعہ مذہبی انقلاب کی مخالفت کرنے والے بچ کر نہیں جانے چاہئیں۔سابق وزیر کا کہنا تھا کہ آیت اللہ خمینی کے احکامات پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا۔ جیلوں میں ڈالے گئے ہزاروں قیدیوں کو موت کےگھاٹ اتارا گیا۔ قیدیوں کو اجتماعی طور پر پھانسیاں دی گئیں۔ ان میں سنہ 1988ئ کے واقعات سے پہلے گرفتارکیے گئے افراد اور بعد کے قیدی بھی شامل ہیں۔ایک سوال کے جواب میں علی فلاحیان نے کہا کہ اگر گرفتار ملزمان کو شرعی عدالت میں پیش کیا جاتا تو انہیں سزائے موت دیئے جانے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ اس لیے آیت اللہ خمینی کے ایک حکم کو قیدیوں سے جان چھڑانے کے لیے کافی سمجھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام قیدی منافق، جنگجو اور واجب القتل تھے۔ ان کے قتل کے لیے عدالتوں سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.