وفاقی وزیر انوشہ رحمن کا جے آئی ٹی سربراہ پر سنگین الزام

اسلام آبادجدت ویب ڈیسک وفاقی وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمن نے الزام عائد کیا ہے کہ واجد ضیائ نے اپنے رشتہ دارکی غیر مئوثر کمپنی کوئسٹ کی خدمات لیں،جے آئی ٹی رپورٹ میں ایسی زبان استعمال کی گئی جس کی کسی سرکاری افسر سے امید کی نہیں جا سکتی ، واجد ضیائ کو اس الزام پر وضاحت دینا ہو گی ،اگرانہوں نے تردید نہ کی تو اس کا مطلب یہ ٹھیک بات ہے ۔سپریم کورٹ کے باہر میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے انوشہ رحمان نے کہا کہ جے آئی ٹی پر اٹھنے والے سوالات سپریم کورٹ کے سامنے رکھ دئیے ہیں ،جے آئی ٹی اپنے مینڈیٹ سے باہر نکل گئی ۔ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو پی ٹی آئی کی رپورٹ سے تشبہہ اس لیے دی کیونکہ اس رپورٹ میں ایسی زبان استعمال کی گئی جس کی کسی سرکاری افسر سے امید کی نہیں جا سکتی ہو ،جے آئی ٹی کی تشکیل ،کنڈکٹ ،طارق شفیع کے بیانات لینے کا طریقہ کار ،حسین نواز کی تصویر لیک اور فون ٹیپ کرنے پر جے آئی ٹی پر سوالات اٹھائے ۔ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کے سامنے جو لوگ پیش ہوئے ان کے بیانا ت کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ،اس پر ن لیگ کے تحفظات ہیں ،جے آئی ٹی نے جو دستا ویزات خود سے حاصل کیں ،ان دستا ویزات کے حوالے سے شریف خاندان سے کچھ نہیں پوچھا گیا ۔ان کا کہنا تھا کہ واجد ضیا نے قوم کے ٹیکس کے پیسوں سے غیر قانونی طریقے سے اس کمپنی کی خدمات حاصل کیں ،۔انوشہ رحمان نے کہا کہ جے آئی ٹی کے چیئر مین کو اس الزام پر وضاحت دینا ہو گی ،اگرانہوں نے الزام کی تردید نہ کی تو اس کا مطلب یہ ٹھیک بات ہے ۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں اگر ایسی کمپنی کا کردار موجود ہے تو یہ رپورٹ ایک ردی کی ٹوکری میں جانی چاہیے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.