سپریم کورٹ سے تابوت عمران خان اوران کے حواریوں کے نکلیں گے،عابد شیرعلی

سلام آباد جدت ویب ڈیسک وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ سے عمران خان اورانکے حواریوں کے تابوت نکلیں گے،لاہور ہائیکورٹ نے کل ایک ٹھگ بابراعوان کو بے نقاب کر دیا، عمران خان گرفتاری کے ڈرسے چھپ گئے ہیں،جمہوریت کے اندرکسی قسم کی ٹیمپرنگ کی اجازت نہیں،عمران خان عدالتی اشتہاری ہیں جنہیں ڈر ہے اگرعدالت آگیا تو گرفتار کر لیا جائوںگا، عمران نامے کو خاکستر کر دیں گے۔سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ٹھگوں اور فریبیوں کا وار نہیں چلے گا ، عمران خان اور اس کے حواریوں کا سپریم کورٹ سے تابو ت نکلے گا ،اپنے آپ کو بہادر سمجھنے والا عمران خان سپریم کورٹ نہیں آرہا ۔عمران خان گرفتاری کے ڈر سے عدالت نہیں آرہا ۔عابد شیر علی نے کہا کہ میاں شریف نے اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کر دی تھی ، سارا زمانہ انکی شرافت کا معترف ہے مگر عمران خان کے والد مستند چور تھے جنہیں سزا ہوئی اور عمران خان بھی پیدائشی ٹھگ اور چور ہے جس نے والد کے چوری کے پیسے سے لندن جا کر پڑھائی کی ۔محمد شریف کی شرافت کی قسمیں زمانہ کھاتا ہے مگر عمران خان کے والد مستند چور تھے، ان کو کرپشن میں سزا ہوئی، انہوں نے پاکستان کے اداروں کے پیسے چوری کیے۔انہوں نے بابر اعوان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نندی پور میں کروڑوں روپے ہضم کرنے والا بڑی تیاری سے لاہور ہائی کورٹ گیا تھا مگر عدالت نے اس ٹھگ کو بے نقاب کر دیا ۔ بابر اعوان نے نندی پور کے کروڑوں روپے ہڑپ کیے اسے ہتھکڑی لگنی چاہیے ۔وفاقی وزیر مملکت عابد شیر علی نے کہا سپریم کورٹ سے عمران خان اور انکے حواریوں کے تابوت نکلیں گے،عابد شیر علی نے مزید کہا عمران خان نے کرپشن کے پیسوں سے آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کی، یہ پیدائشی ٹھگ اور چور ہیں، عمران خان نے پرویز مشرف دور میں 5 شیروانیاں سلوائیں، نوازشریف کا نام لنک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔گفتگو کے دوران صحافی نے عابد شیر علی سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے حوالے سے سوال پوچھ لیا جس پر عابد شیر علی خاموش ہو گئے ، چند سیکنڈ سوچنے کے بعد انہوں نے صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا لوڈ شیڈنگ آپ کو ملتی ہے؟ عابد شیر علی نے جواب کو گول کرتے ہوئے مزید کہا کہ آپ کے چہرے سے لگتا ہے بھابھی سے بھی آپکو مار نہیں پڑی ، آپ خوشی خوشی گھر سے آتے ہیں ۔ یہ کہہ کر عابد شیر علی اپنی گفتگو مختصر کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی عمارت میں داخل ہو گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.