محسن شیخانی نے کے الیکٹرک کی اینٹ سے اینٹ بجادی

کراچی جدت ویب ڈیسک ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرزکی شکایات پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی حکام نے کہا کہ قوانین کے خلاف ورزی پرکے الیکٹرک کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین محسن شیخانی کی قیادت میں آباد کے وفد نے نیپرا کے ڈائریکٹر کنزیو مر نوید الہی شیخ سے ملاقات کی ،وفد میں سینئر وائس چیئرمین محمد حسن بخشی ،رضوان آڈھیا،مصطفی شیخانی ، دانش بن رئوف اور دیگر ممبران شامل تھے۔اس موقع پر آباد نے کے الیکٹرک سے متعلق شکایات کے انبار لگادیے۔ چیئرمین محسن شیخانی نے کہا کہ کے الیکٹرک کی من مانیاں عروج پر ہیں، نئے کنکشنز پرصارفین کو نیپرا کے قوانین و بائی لاز کے نقول فراہم نہیں کی جاتیں اور نہ ہی نئی بلڈنگ کا لوڈ جانچنے کا کوئی طریقہ کار ہے، کے الیکٹرک اپنی مرضی کا لوڈ لگا دیتا ہے، نئے کنکشن پر برسوں لگ جاتے ہیں۔محسن شیخانی نے بتایا کہ نئے پروجیکٹ پر پی ایم ٹی ، سب اسٹیشن اور فیڈر نصب کرنے کے لیے نام نہاد سیلف فنانسنگ کے تحت کے الیکٹرک کی جانب سے کروڑوں روپے طلب کیے جاتے ہیں اور اگر کوئی ممبر پیسے دینے سے انکار کرے تو نئی بلڈنگ کو کنکشن ہی نہیں دیا جاتا۔آباد کے تحفظات پر نوید الہی شیخ نے کہا کے الیکٹرک کو من مانیا ں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انھوں نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ نیپراا قوانین کی خلاف ورزی پر کے الیکٹرک کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انھوں نے کے الیکٹرک حکام سے جواب طلبی کے لیے اگلے مہینے سماعت طلب کرلی اور آباد رہنمائوں سے کہا کہ وہ اپنی شکایات دستاویزات کے ساتھ پیش کریں ۔ ڈائریکٹر نیپرا نے نئی بلڈنگ کو کنکشن کی تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا۔انھوں نے بتایا کہ نیپرا کے نئے متعین کردہ کے الیکٹرک کے ٹیرف میں میٹر رینٹ اور دیگر اخراجات ختم ہوجائیں گے،بینک چارجز نئے ٹیرف میں شامل ہونے کی وجہ سے کے الیکٹرک وصول نہیں کرسکے گا۔ نوید الہی شیخ نے واضح کیا کہ نیپرا کے قوانین بجلی ترسیل کے دیگر اداروں کے طرح کے الیکٹرک پر بھی لاگو ہےں،کے الیکٹرک نیپرا قوانین کی پاسداری کرے۔ کے الیکٹرک کے تیز میٹر کی شکایت پر نوید الہی شیخ نے بتایا کہ تیز میٹر کے معاملے پر تھرڈ پارٹی کاکے الیکٹرک کے میٹر چیکنگ پر کا م جاری ہے۔ انھوں نے صارفین کو ہدایت کی کہ تیز میٹر کی شکایت الیکٹرک انسپکٹر سے کی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.