Daily archive

July 17, 2021

معروف اداکارہ نائلہ جعفری انتقال کرگئیں

/

کراچی ۔ویب ڈیسک ::معروف اداکارہ نائلہ جعفری انتقال کرگئیں اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ وہ طویل عرصے سے کینسر جیسی مہلک بیماری میں مبتلا تھیں

اداکارہ طویل عرصے سے کینسر جیسی مہلک بیماری میں مبتلا تھیں۔

نائیلہ جعفری کی نماز جنازہ آج بعد نماز عشاء ڈیفنس فیز 2 میں ادا کی جائے گی۔

نائیلہ جعفری کے بھائی عاطف جعفری کا کہنا ہے کہ ان کی تدفین کالاپل پر آرمی قبرستان میں ہوگی۔

اداکارہ 2016 سے بیمار تھیں اور ابتدائی طور پر ان میں اوورین کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور بعد ازاں ان میں معدے کے کینسر کی بھی تشخیص ہوئی تھی۔

نائلہ جعفری سے متعلق 4 سال قبل 2017 میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ کینسر کے تیسرے اسٹیج کی وجہ سے انہیں تشویش ناک حالت میں اسپتال داخل کرایا گیا تھا۔

بعد ازاں اداکارہ کو کچھ عرصہ اسپتال میں رکھنے کے بعد ڈسچارج کردیا گیا تھا تاہم وہ 2016 سے مسلسل زیر علاج تھیں اور وقتاً فوقتاً اسپتال داخل ہوتی رہتی تھیں۔

حال ہی میں نائلہ جعفری کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں انہوں نے ٹی وی مالکان، ڈراما سازوں اور مخیر حضرات سے مدد کی اپیل کی تھی۔

نائلہ جعفری کو اسپتال کے بستر پر کسم پرسی کی حالت میں دیکھا گیا تھا اور وہ مدد کی اپیل کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئی تھیں۔

اداکارہ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد لوگوں نے بھی حکومت سے اپیل کی تھی کہ وہ نائلہ جعفری کی مدد کرے جس کے بعد سندھ حکومت نے نائلہ جعفری کی مدد کا اعلان کیا تھا۔

Germany Rains: Currently Western Europe is seeing “worst flood in a century”

Web desk  ::Currently Western Europe is seeing “worst flood in a century”. Especially Germany & Belgium.

Heavy rains and subsequent flash floods have wreaked havoc in several German states. At least 120 deaths have been confirmed with thousand missing while hundreds of homes and roads have been destroyed.

According to the German police, the flash floods caused by the rains have washed away many houses.

پریشان نہ ہوں اب واٹس ایپ کے نئے فیچر کے لئے انٹرنیٹ درکار نہیں ہوگا

/

 ویب ڈیسک ::میڈیا شیئرنگ ایپ واٹس ایپ  نے صارفین کے لئے ایسی سہولت متعارف کروادی ہے جس میں انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر صارف کے فون کا انٹرنیٹ ڈس کنیکٹ ہوجائے تب بھی ڈیسک ٹاپ پر واٹس ایپ کی سہولت موجود ہوگی یعنی اب لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ پر واٹس ایپ استعمال کرنے کیلئے فون کی ضرورت نہیں ہوگی۔خیال رہے کہ کمپنی کی جانب سے یہ سہولت فی الحال اائی فون کے صارفین کے لئے پیش کی گئی ہے تاہم کچھ دنون میں یہ سہولت انیڈرائیڈ یوسرز کے لئے پیش کردی جائے گی۔اس سو قبل پیش کی جانے والی سہولت کے مطابق واٹس ایپ کے نئے فیچر کے ذریعے صارف گروپ میں مِس کی ہوئی کال کو دوبارہ جوائن کر سکتا ہے۔اس فیچر کے ذریعے صارف کال کے دوران دیگر آپشنز آسانی سے ڈھونڈ سکے گا جبکہ سکرین کے نیچے رنگ کا آپشن بھی موجود رہے گا۔یہ آپشن فی الحال آئی او ایس بیٹا ورژن استعمال کرنے والوں کیلئے ہے البتہ امید کی جا رہی ہے کہ یہ فیچرز  اینڈرائیڈ صارفین کیلئے بھی جلد میسر ہوں گے۔

 

پاک فضائیہ سے متعلق افغان نائب صدر کے الزامات بے بنیاد ہیں: ترجمان پاک فوج

//

اسلام آباد: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ افغانستان میں کارروائی کے حوالے سے پاک فضائیہ سے متعلق افغان نائب صدر کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ پاکستان نے افغانستان میں کوئی کارروائی نہیں کی۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ویژن کے مطابق بھرپور کام کر رہے ہیں، مغربی بارڈر پر باڑ کا کام تیزی سے جاری ہے، سینکڑوں پوسٹیں تعمیر کی گئی ہیں۔ جدید بائیو سسٹم کی تنصیب کی گئی ہے۔ غیر قانونی کراسنگ پوائنٹس کو سیل کر دیا گیا ہے، ایف سی کی استعداد میں اضافہ کیا گیا ہے، بلوچستان اور سابقہ قبائلی علاقوں میں پولیس اور لیویز اہلکاروں کو پاک فوج نے تربیت دی ہے۔۔انہوں نے کہا کہ خطے کا دارو مدار افغانستان میں امن عمل سے ہے، بلوچستان میں شدت پسندوں گروپوں کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔ بلوچستان میں دہشتگرد دوبارہ فعال ہو سکتے ہیں، ملک و قوم کے لیے سکیورٹی کے اقدامات کیے ہیں۔ پر امن افغانستان کا بھی سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہو گا۔ افغانستان میں دہشتگرد گروپوں کے دوبارہ فعال ہونے کا خدشہ ہے، ہم اپنی قربانیوں کو کسی صورتحال رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ مستقبل میں پیدا ہونے والے واقعات کی تیاری پہلی ہی کر لی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے دہشتگردی کیخلاف طویل جنگ لڑی ہے، پاک افغان بارڈر پر 90 فیصد باڑ لگائی جا چکی ہے، ہم نے نہایت کمپری ہینسو سسٹم بنایا ہے، پاک ایران سرحد پر بھی فیسنگ ہو رہی ہے، ملک و قوم کے لیے سکیورٹی کے اقدامات کیے ہوئے ہیں۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا تعلق افغانستان کی صورتحال سے ہے، پاکستان میں کوئی آرگنائزڈدہشت گردوں کا انفراسٹرکچرنہیں، دہشت گردافغانستان میں بیٹھے ہیں، ان کو بھارت کی سپورٹ حاصل ہے، افواج پاکستان ملک دشمن عناصرکی سرکوبی کے لیے ہرطرح تیارہے، ملک دشمنوں کوکسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے، دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ہمارے جوانوں کی بھی شہادتیں ہوئیں۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ بھارت کا افغانستان میں عمل دخل بہت زیادہ ہے، وہاں پر بلین ڈالرز سرمایہ کاری کی ہوئی ہے، تاکہ پاکستان کو نقصان پہنچا سکیں۔ وہاں انکی اربوں ڈالرز کی سرمایہ ڈوب رہی ہے جس کی وجہ سے وہ زیادہ پریشان ہیں۔ نومبر 2020ء کو ایک ڈوزیئر بنایا تھا جسے ہم نے عالمی دنیا دیا تھا۔ جس میں تمام ثبوت موجود تھے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغان نائب صدر امر اللہ صالح کے پاک فضائیہ سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں اور دفتر خارجہ نے اس پر وضاحت دے دی ہے۔ اس طرح کے کوئی اقدامات نہیں ہو رہے۔ پاک ایئر فورس نے کوئی اس طرح کی تیاری کی ، فضائیہ صرف اپنے ملک کی حفاظت کیلئے کام کرتی ہے۔ضلع کرم سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اغواء ہونے والے 10 مزدوروں کو دہشتگردوں نے چھوڑ دیا تھا، ایک کی ڈیڈ باڈی ملی تھی، گزشتہ ہفتے کے دوران آپریشن کے دوران ہم نے باقی مزدوروں کو بازیاب کرا لیا تھا۔ پاک فوج کے جوانوں عبد الباسط اور حضرت بلال کی شہادت ہوئی تھی۔ باقی لوگوں کی بازیابی کے لیے آپریشن جاری ہے

اب ہر کیس میں گرفتاری نہیں ہوسکے گی, سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ

//

کراچی:ویب ڈیسک :: سندھ کابینہ نے پولیس رولز کے قانون 26 میں ترمیم کرنے کی منظوری دے دی ، جس کے تحت سندھ اب ہر کیس میں گرفتاری نہیں ہوسکے گی، اب پولیس پولیس شواہد اکٹھے کرنے کے بعد گرفتاری کی اجازت لیکر گرفتارکرے گی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ، چیف سیکریٹری، ایڈوکیٹ جنرل، مشیران اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔حکومت سندھ نے پولیس رولز میں ترامیم کا فیصلہ کیا گیا ، جس کے بعد پولیس رولز میں ترامیم کامسودہ سندھ کابینہ اجلاس میں منظورکرلیا گیا، سندھ کابینہ کا کہنا ہے کہ پولیس ایف آئی آر میں نام آنے سےملزموں کوگرفتار نہیں کرے گی، پولیس شواہد اکٹھے کرنے کے بعد گرفتاری کی اجازت لیکر گرفتارکرے گی۔

اس حوالے سے مشیرقانون سندھ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پاکستان کےکرمنل جسٹس سسٹم میں ایک سقم ہے، ایف آئی آرکٹتےہی ملزم کوگرفتارکرلیاجاتا تھا اب جب تک جرم ثابت نہ ہوگرفتاری نہیں ہوگی۔بیرسٹرمرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ بےگناہ افرادکوگرفتارکرلیاجاتاہے، ایسی گرفتاریوں سےجیلوں اورعدلیہ پربوجھ بڑھتاہے، سندھ حکومت نے قانون میں ترمیم کافیصلہ کیا، اس پرپولیس حکام اورماہرین سےمشاورت کی گئی۔

مشیرقانون سندھ نے مزید کہا کہ ایف آئی آرمیں نام سےضروری نہیں نامزدشخص کوگرفتارکیاجائے اور تفتیشی پولیس افسرکےلئےلازم ہے شواہدکی بنیاد پر گرفتار کیاجائے جبکہ بعض کیسزمیں تفتیشی افسرمنظوری کےبعدملزم گرفتارکرےگا، مقدمےکی تفتیش کےبعدملزم کی گرفتاری کافیصلہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ گرفتاریوں سےمتعلق پولیس کےاختیارات میں ترامیم کی گئیں، پولیس رول26میں ترمیم سےغیر ضروری گرفتاریوں کی حوصلہ شکنی ہو گی  اور جیلوں میں انڈرٹرائل قیدیوں کی تعدادمیں کمی آئےگی۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ یہ انتہائی مثبت ترمیم اور اہم سنگ میل ہے ، اس سےلوگوں کوحقیقی انصاف مہیاہوسکےگا، شہریوں کےمفاد، جیلوں اورعدلیہ پربے جا بوجھ کم کرنے کے لئے قدم اٹھایا۔

معروف اداکار بہروز سبزواری انٹرویو میں کس کا زکر کرنے پرافسردہ؟

/

کراچی ویب ڈیسک ::معروف اداکار بہروز سبزواری ایک انٹرویو میں اپنی پہلی بہو سائرہ یوسف کا زکر کرتے ہوئے افسردہ ہوگئے کہا کہ سائرہ ہماری بیٹی ہے  اور نورے ہماری پوتی ہماری جان ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

احتیاط کریں، جسم کے کچھ ایسے حصوں پر موجود بال نکالنے سے آپ کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے

/

ویب ڈیسک ::احتیاط کریں، کیونکہ جسم کے کچھ ایسے حصوں پر موجود بال نکالنے سے آپ کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کوئی بھی چیز بیکار یا فالتو نہیں بنائی ہے اور بالکل اسی طرح جسم کا ہر حصہ، ہر ایک جوڑ، ہر ایک موڑ، ہر ایک ہڈی اور چھوٹے سے چھوٹا بال بھی بہت زیادہ کارامد ہے، لیکن انسان کی سوچ اس سے ذرا دور ہی ہے کوینکہ ہمیں تو اپنی مرضی کی چیزیں اچھی لگتی ہیں، اب جیسے کچھ لوگوں کے چہروں پر اضافی بال آجائیں تو لوگ ان کو یہ باتیں سناتے رہتے ہیں ارے کوئی مسئلہ کوئی بیماری تو نہیں؟ یا اگر خواتین کے چہروں پر تھوڑے سے بال نکل آئیں تو طنزیہ ان کو مرد کی مشابہت دینے لگتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار وہ جاتی ہیں اور جب ہارمونز کے ٹیسٹ کرواتی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، وقت کے ساتھ خود بخود ختم ہو جائیں گے، لیکن ہم لوگ ان پر بھی ضرورت سے زیادہ دھیان دے دیتے ہیں، اب اگر آپ دیکھیں تو کچھ لوگوں کی ناک کے اندر چھوٹے چھوٹے بہت سارے بال اُگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے شاید انہیں خود بھی ہچکچاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے اور پھر ان کو ویکس یا ریزر کی مدد سے نکال دیتے ہیں۔لیکن احتیاط کریں، کیونکہ جسم کے کچھ ایسے حصوں پر موجود بال نکالنے سے آپ کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ اب وہ کون سے 3 حساس حصے ہیں جن پر موجود بالوں کو نکالنا خطرناک ثابت ہوتا ہے؟ جانیئے ہماری ویب کی اس سائنس فیچرڈ نیوز میں ، جس کو جاننے کے بعد آپ بھی ان بالوں کو ویکس نہیں کریں گے۔

ناک

٭ ناک کے اندر کے بالوں کو ہر گز ویکس یا ریزر نہ کریں، ہاں قینچی کی مدد سے جتنے کاٹ سکتے ہیں آسانی سے وہ کاٹ لیں، مگر کبھی ان بالوں کو توڑ کر کھینچ کر نکالنے کی کوشش نہ کریں، اس سے آپ کو پھیھپڑوں کا کینسر بھی ہو سکتا ہے اور ناک کے اندر موجود بالوں کی جلد کے نیچے خون کی نالیاں پھٹ سکتی ہیں، جس سے سارے بیکٹریا پورے جسم میں پھیل جاتے ہیں اور یوں آپ کی موت واقع ہوسکتی ہے۔

کان

٭ کانوں کے اندر موجود بال اکثر مرد حضرات کو ہی زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ ان میں ٹیسٹیرونز ہارمونز موجود ہوتے ہیں جو زیادہ بالوں کی نشوونما کرتے ہیں، بہرحال کانوں کے بالوں کو کھینچنے سے آپ سماعت سے محروم بھی ہوسکتے ہیں یا پھر ایئر کینال کانوں کا پردہ پھٹنے کا خدشہ ہوتا ہے ، لہٰذا بہرے ہونے سے پہلے یہ کام بالکل چھوڑ دیں۔

پلکیں

٭ کچھ لوگوں کو بیٹھے بیٹھے اپنی پلکیں کھینچنے کا شوق ہوتا ہے اور وہ ان کو کھینچ کر توڑتے رہتے ہیں، جبکہ ان کو نہیں معلوم کہ یوں ان کی آنکھوں کا ریٹینا اُلٹ سکتا ہے جس کی وجہ سے ان کو آنکھوں کی شدید بیماری ہوسکتی ہے۔ یا پھر دماغ کے جوابی ردِعمل کے واپس آنے کا انتظام بالکل ختم ہوسکتا ہے۔

عمر اکمل کا حملہ آور ملزمان کو معاف کرنے کا فیصلہ

لاہور:جدت ویب ڈیسک:قومی کرکٹر عمر اکمل نے حملہ کرنے والے تمام ملزمان کو معاف کرنے کا فیصلہ کر لیا، جج پر عدم اعتماد کی دائر درخواست بھی واپس لے لی۔

لاہور کے علاقے ڈیفنس میں عمر اکمل پر حملہ کرنے کے کیس میں تازہ ترین پیش رفت کے مطابق کرکٹر نے حملہ کرنے والے تمام ملزمان کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس موقع پر وکیل عمر اکمل کا کہنا ہے کہ ملزمان کی درخواست ضمانتوں کی مخالفت نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ عمر اکمل پر حملہ کیس میں ملزمان کیخلاف تھانہ ڈیفنس بی نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔عمر اکمل نے ضمانتوں کی سماعت کرنے والے جوڈیشل مجسٹریٹ پر عدم اعتماد کا بھی اظہار کیا ہوا تھا۔