Daily archive

July 09, 2021

بابر اعظم کو صفر پر آٹ کرنے والے انگلش بولر خوشی سے نہال

کارڈف: جدت ویب ڈیسک:انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر ثاقب محمود قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم کی وکٹ لینے پر خوشی سے نہال ہیں۔
ثاقب محمود کا کہنا تھا کہ دنیا کی نمبر ون ٹیم میں آنے کے لیے بہت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، اس کے بعد ہی کسی کی جگہ لی جاسکتی ہے، مجھے بہت خوشی ہے کہ یہ موقع ملا، ریڈ بال کرکٹ کھیلنا زیادہ انجوائے کرتا ہوں۔پاکستان کے خلاف میزبان ٹیم انگلینڈ کو پہلی فتح دلوانے میں اہم کردار ادا کرنے والے فاسٹ بولر نے کہا کہ میری تیاری پہلے سی ہی بہترین تھی، میچ کی ٹریننگ کے لیے صرف ایک ہی دن ملا، منگل کی صبح مانچسٹر میں ہوئی اور اختتام کارڈف میں، آج کے میچ کا وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے جس بھی کانٹی ٹیم میں کھیلا ہمیشہ بہترین کھیل پیش کرنے کی کوشش کی اور آج بھی وہی کیا، مجھے خوشی ہوئی کہ آج کے میچ میں میرا کردار بہت اہم تھا۔انہوں نے کہا کہ لارڈز اور ایجباسٹن کے فل ہاس کے سامنے کھیلنے کے لیے پرجوش ہوں، آئندہ بھی ایسے ہی کھیل پیش کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ شائقین کو اچھا کرکٹ دیکھنے کو ملے۔ثاقب محمود نے کہا کہ پہلے اوور میں دو وکٹیں لیں تو یقین نہیں آرہا تھا، بابر اعظم کی وکٹ بہت اہم تھی، مجھے پہلی ہی بال پر وکٹ لینے کا موقع ملا، جو زندگی کی اہم کامیابیوں میں سے ایک ہے کیونکہ بابر اعظم کی وکٹ جلد سے جلد لینا ضروری اور اہم تھا وہ جتنی دیر کریز پر رہتے ہمارے لیے مشکل پیدا ہوتی، ہماری خوش قسمتی تھی کہ ہم نے بابر کو جلد پویلین بھیج دیا۔

پینشن میں اضافہ ، ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خبر آگئی

///

اسلام آباد :جدت ویب ڈیسک: ریٹائرڈ وفاقی سرکاری ملازمین کی پنشن میں دس فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، پنشن میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2021 سے ہوگا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پنشن میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی دوہزاراکیس سے وفاقی حکومت کیتمام پنشنرز سمیت سول وآرمڈفورسزپنشنرز پر ہوگا۔خیال رہے وفاقی حکومت نے آئندہ سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر نیا ٹیکس نہ لگانے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا۔وزیر خزانہ شوکت ترین نے بجٹ تقریر کے دوران کہا تھا کہ یکم جولائی سے وفاقی پنشنرز کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا، اردلی الانس 14000 سے بڑھا کر 17500 روپے ماہانہ کیا جارہا ہے۔صدر مملکت عارف علوی نے سرکاری ملازمین کیلئے پنشن میں دس فیصد اضافے کی منظوری دے دی ، صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت خزانہ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

پورے سندھ میں سینٹرلائزڈ سسٹم بنا رہے ہیں، آئی جی سندھ مشتاق مہر

کراچی:جدت ویب ڈیسک: انسپیکٹر جنرل(آئی جی) سندھ مشتاق مہر نے وزیراعظم پورٹل طرز پر کمپلین سسٹم بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو صوبے بھر میں کام کرے گا۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ سب سے پہلے شعبہ تفتیش کا منظم میکنزم بنایا جائے گا، کیس کس مرحلے میں ہے، اگلی پیشی کب ہے، پتہ ہونا چاہیے، کون افسر پیشی پر گیا کون نہیں گیا سسٹم پر ہونا چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ معلومات سینٹرلائزڈ سسٹم پر موجود ہونے سے بہتری آئے گی، پہلے تفتیشی افسر کو پتہ ہوتا تو دوسرے کو پتہ نہیں ہوتا تھا، کیس کا فالو اپ موجود ہوگا تو پراسیکیوشن میں بھی مدد ملے گی، ایچ آرایم آئی ایس سسٹم تھانوں کی سطح تک اپڈیٹ ہونا چاہیے، اپڈیٹ نہ ہونے پر ایس ایچ او سے ڈی آئی جی تک کے خلاف ایکشن ہوگا۔اس حوالے سے مشتاق مہر کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس ویلفیئر کو بھی سینٹرلائزڈ سسٹم پر لارہے ہیں، اگر پولیس اہلکار شہید ہوگیا تو ورثاخوار نہیں ہوں گے، جگہ جگہ جا کر درخواستیں نہیں دینا پڑیں گی۔مشتاق مہر کا کہنا ہے کہ پورے سندھ میں سینٹرلائزڈ سسٹم بنا رہے ہیں، سب سے پہلے اپنے گھر کو سیدھا ہونا چاہیے، شہری صرف ایک شکایت کرے گا جو ہر کوئی دیکھ سکے گا، سسٹم میں درخواست متعلقہ محکمے تک پہنچائی جائے گی، سندھ پولیس کو مکمل آئی ٹی بیس پر ہونا چاہیے۔انسپیکٹر جنرل سندھ نے مزید کہا کہ ایک ایپلی کشن فارم بھریں گے اور ان کو فون کال آجائے گی، سندھ پولیس مختلف اہم پراجیکٹس پر کام کر رہی ہے۔

رانا ثنا اللہ کیلئے بڑی مشکل کھڑی ہوگئی، نیب کا بڑا فیصلہ

//

لاہور :جدت ویب ڈیسک: نیب نے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ کی ضمانت منظوری کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ضمانت منسوخی کے لیے اپیل تیار کرلی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پراسیکیوشن ٹیم نے راناثنااللہ کی ضمانت منسوخی کے لیے اپیل تیارکرلی، نیب نیاپنی اپیل میں راناثناللہ کوفریق بنایاہے۔نیب اپیل میں کہا گیا ہے کہ لاہورہائیکورٹ نیحقائق کیبرعکس ضمانت کنفرم کی، راناثنااللہ کیاثاثیانکی آمدن سیمطابقت نہیں رکھتے ، سپریم کورٹ ضمانت منظورکرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔خیال رہے عدالت نےآمدن سے زائد اثاثے کیس میں رانا ثنااللہ کی عبوری ضمانت کنفرم کی تھی۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ کی ضمانت منظوری کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

کورونا کی چوتھی لہر؛ شادی ہالز اورریسٹورنٹس ایک بارپھربند کرنے کا عندیہ

//

اسلام آباد: جدت ویب ڈیسک:وزیرمنصوبہ بندی اسد عمرنے کہا کہ کورونا کی چوتھی لہرکے اثرات اب ظاہرہورہے ہیں۔
اسد عمرنے کہا کہ فیلڈ رپورٹس کے مطابق عوام ان ڈورشادیوں، ریسٹورنٹ اورجم میں شرکت کے لیے ویکسینیشن کی شرط کو نظرانداز کررہے ہیں، اگرمالکان ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایس اوپیزپرعملدر آمد نہیں کریں گے توہمیں یہ سہولیات بند کرنا پڑیں گی۔اسد عمرنے کہا کہ کورونا وبا کی چوتھی لہر میں بھارتی کورونا کی قسم بنیادی وجہ ہے۔وزیرمنصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ دوہفتے قبل میں نے ٹوئٹ کرکے آگاہ کیا کہ ہمارے مصنوعی انٹیلی جنس ماڈلز کورونا کی متوقع چوتھی لہر کو ظاہرکررہے ہیں اور چوتھی لہرکے اثرات اب ظاہرہورہے ہیں۔

 

کرونا وبا سے نمٹنے کیلئے سندھ حکومت کا اہم فیصلہ

//

کراچی: جدت ویب ڈیسک:صوبائی حکومت نے کرونا کے بڑھتے کیسز کے باعث اندورن ملک سے سندھ آنے والے مسافروں پر کڑی شرائط عائد کردی ہیں۔
وزیرٹرانسپورٹ سندھ کی جانب سے جاری بیان میں سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ بس مالکان کرونا سرٹیفکیٹ کے بغیر مسافروں کی ٹکٹس بک نہ کریں، اویس قادر شاہ کا کہنا تھا کہ شہریوں کیتعاون سیہی ہم کرونا کی وبا کے پھیلا کو روک سکتے ہیں۔گذشتہ روز وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کرونا وائرس کی صورتحال پر بیان میں کہا کہ آج کرونا وائرس کے باعث مزید 14 مریض انتقال کرگئے، جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوراں 920 نئے کیسز سامنے آئے۔وزیراعلی نے کہا کہ کرونا کے باعث انتقال کرنے والوں کی مجموعی تعداد 5566 ہوگئی ہے، اس وقت 22359 مریض زیرعلاج ہیں اور 21590 مریض گھروں اور 65 مریض آئسولیشن سینٹرز پر زیرعلاج ہیں۔تفصیلات کے مطابق وزیر ٹرانسپورٹ سندھ اویس قادرشاہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے دیگر شہروں سے سندھ آنے والے مسافروں کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ دوران سفر اپنے کرونا سرٹیفیکٹ ساتھ رکھیں، پبلک ٹرانسپورٹ میں مسافر کرونا ویکسی نیشن کیساتھ ہی سفر کرسکتے ہیں۔اویس قادرشاہ نے ڈرائیورز،کنڈیکٹرز کو بھی کرونا سرٹیفکیٹ ساتھ رکھنیکی ہدایت کرتے ہوئے شہریوں اور ٹرانسپورٹرز سیدرخواست کی ہے کہ فوری طور پر کرونا ویکسین کرائیں،اس سلسلے میں سندھ کے تمام ریجنل ٹرانسپورٹ سیکریٹریزکو احکامات جاری کردی گئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ: صدر، چیئرمین نیشنل بینک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ معطل

///

اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر عارف عثمانی اور چیئرمین زبیر سومرو کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا سنگل رکنی بینچ کا حکم معطل کرتے ہوئے انہیں عہدوں پر بحال کردیا۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سنگل رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف وزارت خزانہ اور نیشنل بینک کی الگ الگ انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔وزارت خزانہ کی جانب سے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور نیشل بینک کی جانب سے مخدوم علی خان عدالت میں پیش ہوئے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عارف عثمانی اور زبیر سومرو سنگل رکنی بینچ کے فیصلے سے متاثر ہوئے ہیں، سنگل رکنی بینچ نے ٹھیک سے کیس سنا ہی نہیں، نیشنل بینک کے صدر کے عہدے کو پُر کرنے کے لیے اشتہار کی ضرورت نہیں تھی جبکہ مخدوم علی خان کی موجودگی میں مجھے زیادہ دلائل دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ نیشنل بینک کے صدر اور چیئرمین اپنے عہدوں کے اہل ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے دلائل سننے کے بعد سنگل رکنی بینچ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے فریقین کو اگلی سماعت کے لیے نوٹس جاری کر دیے اور صدر نیشنل بینک عارف عثمانی اور چیئرمین نیشنل بینک زبیر سومرو کو عہدوں پر بحال کر دیا۔

واضح رہے کہ 29 جون کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل رکنی بینچ نے نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر عارف عثمانی اور چیئرمین زبیر سومرو کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے صدر نیشنل بینک عارف عثمانی کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست پر 2 جون کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔

واضح رہے کہ عارف عثمانی پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن کیانی نے تعلیمی نا اہلی، فزکس میں گریجویٹ، ایک ارب 84کروڑ کے اثاثے چھپانے اور 26ارب روپے کے غیر قانونی ٹھیکے اور سپریم کورٹ کے احکامات کے خلاف بھاری معاوضوں پر تقرریوں اور بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات کی بنیاد پر عہدوں سے برطرف کیا تھا۔

لاہورہائیکورٹ کا ججز کوغیرسرکاری واٹس ایپ گروپس چھوڑنے کا حکم

//

لاہور :جدت ویب ڈیسک: لاہور ہائی کورٹ نے ماتحت عدلیہ کے ججز کو غیرسرکاری واٹس ایپ گروپس چھوڑنے کا حکم دیتے ہوئے احکامات پرعمل نہ کرنیوالے ججز کیخلاف تادیبی کارروائی کا عندیہ دے دیا۔
ہائیکورٹ نے احکامات پرعمل نہ کرنیوالے ججزکیخلاف تادیبی کارروائی کا بھی عندیہ دیا ، چیف جسٹس امیربھٹی کی منظوری کے بعد ضلعی عدلیہ کے ججز کومراسلہ ارسال کردیا گیا ہے۔
جس میں کہا گیا ہے کہ ضلعی عدلیہ میں کچھ عناصر کی وجہ سے عدالتی وقار خراب ہو رہا ہے، جوڈیشل افسروں کو اپنی سماجی زندگی محدود رکھنی چاہئے اور ججزکوفیس بک، ٹویٹر،انسٹاگرام ودیگر سول ایپس سے پرہیز کرنا چاہئے۔تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ نے ماتحت عدلیہ کے ججز کو سوشل میڈیا سے پرہیز کرنے اور غیر سرکاری واٹس ایپ گروپس چھوڑنے کا حکم دے دیا۔
مراسلے میں کہا گیا کہ ضلعی عدلیہ کے جج صرف آفیشل واٹس ایپ گروپ استعمال کریں، تمام غیر سرکاری واٹس ایپ گروپ چھوڑ دیں ، غیر سرکاری واٹس ایپ گروپس میں معلومات شیئر کرنیوالوں کیخلاف کارروائی ہوگی۔لاہور ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ جج خط وکتابت سیشن جج ،رجسٹرار ہائیکورٹ کیذریعے کرنے کے پابند ہوں گے ، من پسندتبادلہ کرانیکی سفارش کرنیوالے جج زکیخلاف محکمانہ کارروائی ہوگی۔
مراسلے میں کہا ہے کہ ضلعی عدلیہ کے ججزکے تبادلے مانیٹرنگ نظام ،کارکردگی کی بنیادپرہوں گے اور ججز کے تبادلوں کیلئے 6 سے 31 جولائی تک کی کارکردگی جانچی جائیگی۔جاری مراسلے کے مطابق سرکاری ،نجی گاڑیوں پر نیلی لائٹ اور سبز نمبر پلیٹس لگانے پرسخت تادیبی کارروائی ہوگی اور چیف جسٹس ودیگر ججزکی عدالتی کارروائی بغیر اجازت دیکھ نے پرپابندی ہوگی جبکہ عدالتی کارروائی دیکھنے کیلئے بغیراجازت ججزکیخلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی ہوگی، ضلعی عدلیہ کے جج وقت اور یونیفارم کی پابندی کی یقینی بنائیں۔

پاکستان کا وہ صوبہ جس میں کم عمر ملزمان کی تعداد بڑھنے لگی

//

کراچی: جدت ویب ڈیسک:جیونائل جسٹس سسٹم کے باوجود سندھ میں کم عمر ملزمان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔
اس سلسلے میں سندھ کے جیلوں کی رپورٹ شائع کی گئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت سندھ کی جیلوں میں دو سو سے زائد نو عمر ملزمان ہیں، جن میں سے 126 کراچی، 22 حیدر آباد، سکھر 18 اور لاڑکانہ جیل میں 5 نو عمر ملزمان موجود ہیں۔
جیل رپورٹ کے مطابق انڈر ٹرائل ماں کے ہمراہ جیل کاٹنیوالے بچوں کی تعداد چھبیس ہے، ان میں سے کراچی میں 17،حیدرآباد 2، سکھرجیل میں 5بچے ماں کے ساتھ موجود ہیں، اس کے علاوہ سکھر جیل میں اٹھارہ اور لاڑکانہ جیل میں پانچ نوعمر قانونی امداد کے منتظرہیں۔
سال دو ہزار اٹھارہ میں پاکستان میں اٹھارہ سال سے کم عمر مجرم بچوں سے متعلق جووینائل جسٹس ایکٹ دو ہزار اٹھارہ نافذ کیا گیا، جس کے تحت دس سال سے کم عمر کا بچہ کوئی بھی جرم کرے تو وہ جرم تصور نہیں ہو گا اور دس سے اٹھارہ سال کی عمر کے بچوں کے جرائم کا فیصلہ اس نئے قانون کے تحت کیا جائے گا۔اس قانون کے تحت بچوں کے جرائم کے تین درجے بنائے گئے، چھوٹے جرائم انہیں کہا گیا جن کی سزا تین سال سے کم ہے، بڑے جرائم وہ ہیں جن کی سزا سات سال ہے اور سنگین جرائم انہیں قرار دیا گیا جن کی سزا سات سال سے زیادہ ہے۔طاہر اقبال ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پولیس کم عمر ملزمان کی گرفتاری کے بعد فوری ایف آئی آر سیگریز کرے۔ایس ایس پی شاہ جہان خان نے بتایا کہ سندھ پولیس کے چائلڈ پروٹیکشن سینٹر معاون ثابت ہورہے ہیں، جس میں بچوں کیخلاف مقدمیکیاندراج سیقبل جرم کی نوعیت کودیکھاجاتا ہے، معمولی نوعیت کیکیسز پر ایف آئی آردرج نہیں کرتے، بچوں کی لڑائی کیکیسزمیں کوشش ہوتی ہیفریقین صلح کرسکیں۔