Daily archive

June 11, 2021

کراچی ملک کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کراچی کی ترقی میں پختون کمیونٹی کے کردار کو سراہا۔ ڈی جی رینجرزسندھ

//

کراچی:ویب ڈیسک  ::ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ میجر جنرل افتخار حسن چوہدری نے کہا ہے کہ  ہم سب کو لسانی تشخص سے بالاتر ہوکر ملکی ترقی کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔

 ڈی جی رینجرزسندھ  میجرجنرل افتخارحسن پختون کمیونٹی کی دعوت پر سہراب گوٹھ میں واقع الآصف اسکوائر پہنچے جہاں انہوں نے پختون عمائدین اور عام شہریوں سے ملاقات کی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی رینجرز کا کہنا تھا کہ ’کراچی ملک کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے رینجرز اپنا کردار ادا کرتی رہے گی‘۔

ڈی جی رینجرز نے سندھ اور بالخصوص کراچی کی ترقی میں پختون کمیونٹی کے کردار کو سراہا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم سب کو لسانی تشخص سے بالاتر ہوکر ملکی ترقی میں کردار ادا کرنا ہوگا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’جرائم پیشہ افراد کے خلاف رینجرز کی کارروائیاں بلا تفریق جاری رہیں گی اور شرپسند عناصر کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا‘۔

پختون کمیونٹی نے کراچی میں امن وامان قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے پر رینجرزکی کاوشوں پر اعتمادکا اظہار کیا اور امن و امان کے لیے اپنے بھرپور تعاون کا یقین بھی دلایا۔ ترجمان رینجرز کے بعد بعد ازاں میجر جنرل افتخار حسین نے سپرہائی وے اور اطراف کے علاقوں کا بھی دورہ کیا

بجٹ 2021-2022 :پر ایک نظر کیا مہنگا کیا سستا ہوا؟

//

اسلام آباد: ویب ڈیسک ::وزیر اعظم عمران خان نے  بجٹ  سے پہلے کہا تھا کہ  ابھی جو بجٹ پیش کیا جارہا  ہے وہ سب کے لئے خوشی کا باعث ہوگا تو آج پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے تیسرے مالی سال کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے جمعے کے روز ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ مالی سال 2021-2022 کا  84 ارب 87 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا جبکہ کم از کم تنخواہ کو بڑھا کر 20 ہزار روپے کردیا۔

بجٹ برائے سال 2021۔2022 میں حکومت نے شہریوں کو مراعات دیں ہیں، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

 ہر شہری گھرانے کو پانچ لاکھ روپے تک کا بغیر سود قرض

 کاشت کار گھرانے کو ہر فصل کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے بنا سود قرض

 غریب گھرانوں کو کم خرچ گھر کے لیے 20 لاکھ روپے کا قرض

 کم آمدنی والوں کو اپنے گھر کی تعمیر کے لیے تین لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی۔

 مقامی سطح پر تیار ہونے والی 850 سی سی گاڑیوں پر ایف ای ڈی ختم، سیلز ٹیکس کی شرح 12.5 فیصد کم کر کے ساڑھے بارہ فیصد کردی گئی جبکہ ویلیو ایڈیڈ ٹیکس (ڈبلیو اے ٹی) کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔

 قرآن پاک کی چھپائی میں استعمال ہونے والے معیاری کاغذ کی درآمد پر ٹیکس کی چھوٹ

 مقامی سطح پر بنائی جانے والی گاڑیوں کے لیے ناٹ ڈاؤن (سی کے ڈی) کٹس کی درآمد پر ٹیکس کی چھوٹ

 پاکستان میں تیار ہونے والی الیکٹریکل گاڑیوں پر عائد سیلز ٹیکس کو 17 فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کردیا گیا جبکہ چار پہیوں والی الیکٹرک گاڑیوں پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی)  کو بھی ختم کردیا گیا۔

ایک بار استعمال ہونے والی سرنجوں، خام مال اور آکسیجن سلنڈرز پر عائد سیلز ٹیکس ختم، انفارمیشن ٹیکنالوجی زونز میں پلانٹ، مشینری، سازوسامان اور خام مال کی امپورٹ پر ٹیکس کی چھوٹ، ٹیلی مواصلات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) 17 فیصد سے کم کر کے 4.6 فیصد کر دی گئی

 بینکوں کے پوائنٹ آف سیلز (پی او ایس) پر مرچنٹ ڈسکاونٹ ریٹ پر ایف ای ڈی کی چھوٹ

 بینکنگ ٹرانسیکشنز، کیش نکالنے، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، مارجن فنانسنگ، ائیر ٹریول سروسز، ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کے ذریعے بین الاقوامی ٹرانسیکشنز اور معدنیات کی دریافت پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کر دیا گیا

 موبائل سروسز پر عائد 12.5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کو کم کر کے 10 فیصد کر دیا گیا

 آئل فیلڈ سروسز، وئیر ہاوس سروسز، کولیٹرل مینیجمنٹ سروسز، سیکیورٹی سروسز، اور ٹور اینڈ ٹریول سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس کو 8 فیصد سے کم کر کے 3 فیصد کر دیا گیا

اسٹاک مارکیٹ پر کیپیٹل گین ٹیکس 15 سے کم کر کے 12.5 فیصد کر دیا گیا، غیر سرکاری انسان دوست اداروں بشمول عبدالستار ایدھی فاؤنڈیشن، انڈس اسپتال اینڈ نیٹ ورک، پیشنٹ ایڈ فاونڈیشن وغیرہ کو ٹیکس کے دائرہ کار سے ہٹا دیا گیا۔

 بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو وراثت میں ملنے والی جائیداد پر ٹیکس کی چھوٹ، عمومی ٹیکس کو 1.5 سے کم کر کے 1.25 فیصد مقرر کردیا گیا۔

 مخصوص سیکٹرز ایف ایم سی جی اور ریفائنریز کے ریٹیلرز کے لیے ٹیکس شرح میں کمی کردی گئی، کتابوں، رسالوں، زرعی آلات اور 850 سی سی تک کی گاڑیوں کے سی بی یو کی درآمد پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کردیا گیا۔

 اسپیشل اکنامک زونز انٹرپرائززکو کم از کم ٹیکس سے استشنیٰ دیا گیا، اسپیشک ٹیکنالوجی زون اتھارٹی، زون ڈویلپرز، اور زون انٹرپرائزز کو دس سالہ ٹیکس کی چھوٹ دی گئی، کیپیٹل گڈز کی درآمد پر ٹیکس کی چھوٹ دی گئی۔

 زون انٹرپرائزز میں سرمایہ کاری پر پروائیوٹ فنڈز سے حاصل کردہ آمدنی پر ٹیکس کی چھوٹ، پاکستان مرکینٹائل ایکسچینج پر الیکٹرانک وئیر ہاؤس ریسیٹس پر ودہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ جبکہ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی کم کردی گئی۔

 طبی سازوسامان اور اشیا میں استعمال ہونے والے 35 فیصد اضافی خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی کو ختم کردیا گیا۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشن اور ماہانہ اجرت

  سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں یکم جولائی سے 10 فیصد اضافہ، سرکاری ملازمین کی پینشنز میں بھی 10 فیصد کا اضافہ، اردلی الاؤنس چودہ ہزار ماہانہ سے بڑھا کر 17 ہزار، گریڈ 1 سے 5 کے ملازمین کے لیے انٹیگریٹڈ الاؤنس ساڑھے چار سو سے 9 سو روپے  جبکہ مزدور کی کم سے کم اجرت کو بڑھا کر 20 ہزار روپے ماہانہ کردیا گیا ہے۔

بجٹ تقریر کے اہم نکات

وفاقی بجٹ کا حجم 8ہزار 487ارب روپے ہوگا

بیس ارب ڈالر خسارے کو 800 ملین سرپلس میں لے آئے

کرونا کی وجہ سے معیشت کو مستحکم کرنے میں وقت لگا

ماضی میں 5.5فیصد شرح نمو کا ڈھول پیٹا گیا

ماضی کی تمام ادائیگیاں ہمیں کرنا پڑیں ورنہ ملک دیوالیہ ہوجاتا

پاکستان کو کرونا وبا کی دو اضافی لہروں کا سامنا رہا مگر بھیانک نتائج سے بچ گئے

کرونا کے باوجود فی کس آمدنی میں 15فیصد اضافہ ہوا

ٹیکس وصولیوں میں 18فیصد اضافہ ہوا

پچھلےسال کی نسبت75فیصد ریفنڈ زیادہ ادائیگی کی گئی

وفاقی بجٹ میں احساس پروگرام کے لئے 260ارب روپے مختص

ترسیلات زر 25فیصد اضافے سے 29بلین ڈالر تک پہنچ گئیں

سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 900ارب روپے ہوگا

پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے لئے 2135 ارب روپے مختص

پی ایس ڈی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 33فیصد اضافہ کیا گیا

وفاقی بجٹ میں ٹڈی دل ایمرجنسی فوڈ سیکیورٹی کے لئے ایک ارب روپے مختص

بجٹ میں خوراک، پانی کی فراہمی اور توانائی کا تحفظ اہم ترجیح ہوگی

چار سے 6ملین گھرانوں کو 4سے5 لاکھ روپے تک قرضے دیئےجائیں گے

کم آمدنی والوں کو 20لاکھ روپے تک کے سستے قرضےدیئےجائیں گے

ہر گھرانے کو صحت کارڈ فراہم کیاجائےگا

اس بار ہم غریب کو مکمل پیکج دیں گے

داسو ہائیڈرو پراجیکٹ، پہلے مرحلے کیلئے57ارب روپے مختص

دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے 23 ارب روپے رکھے جارہے ہیں

مہمند ڈیم کیلئے 6ارب روپے مختص

نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ کیلئے 14ارب روپے کی تجویز

احساس پروگرام کیلئے260ارب روپے تجویز

سی پیک میں 13ارب ڈالرز کے 17بڑے منصوبے مکمل

سی پیک کے 21ارب ڈالرز کے مزید 21منصوبوں پر کام جاری

جنوبی بلوچستان کے لئے 601ارب روپے کا ترقیاتی پیکج

کووڈ ویکسین پر 1.1ارب ڈالر خرچ کیئے جائیں گے

پی آئی اےکیلئےارب اور اسٹیل مل کیلئے 16ارب امداد کی تجویز ہے

کراچی ٹرانسفرمیشن پلان کیلئے 739 ارب کی منظوری

وفاقی حکومت کراچی ٹرانسفرمیشن پلان کیلئے 98 ارب دے گی

زرعی شعبےکی ترقی کیلئے12ارب روپے مختص

آبی وسائل کے تحفظ کیلئے 91ارب روپے مختص

کراچی بحالی منصوبے میں سپریم کورٹ فنڈ سے 125ارب روپے شامل ہوں گے

سندھ کے 14اضلاع کے لئے اس سال 19.5ارب روپے مختص

ایم ایل ون کی تعمیر کیلئے 9.3ارب روپے مختص

کے پی کے ضم اضلاع کی ترقی کے لئے 54ارب روپے مختص

حیدرآباد سکھر ٹرانسمیشن لائن کیلئے 12ارب روپے رکھے گئے ہیں

جامشورومیں کوئلے سے بجلی پیداکرنے کیلئے 22ارب روپے رکھے گئے ہیں

داسو سے 2160میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے 8.5ارب روپے مختص

سکی کناری،کوہالہ،محل ہائیڈروپراجیکٹس سےبجلی پیداکرنےکیلئے5.5ارب روپےمختص

کراچی کے ون ،کے ٹو،تربیلا ہائیڈرو پاورپراجیکٹ کیلئے 16.5ارب روپے مختص

پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے 100ارب روپے مختص

صحت 30 ارب، ہائر ایجوکیشن 44،پائیدار ترقی کے لئے 16ارب روپے مختص

مجموعی محاصل کا تخمینہ 7909ارب روپے لگایا گیا ہے

ٹیکس محصولات کا ہدف 5829ارب روپے ہوگا

وفاقی ٹیکس میں صوبوں کا حصہ 3411ارب روپے ہوگا

آئندہ سال این ایف سی سے صوبوں کو 707ارب روپے زائد ملیں گے

گلگت بلتستان سوشل اکنامک پلاننگ کیلئے40ارب روپے مختص

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں،پنشن میں 10فیصداضافہ

کےپی کے ضم اضلاع کی ترقی کیلئے54ارب روپے رکھےگئے ہیں

وفاقی حکومت کا آئندہ سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر نیا ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ

بلین ٹری منصوبےکیلئے بجٹ میں 14ارب روپےمختص

صحت ،تعلیم،معاشی ترقی،موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے118ارب روپےمختص

سیالکوٹ کھاریاں،حیدرآباد سکھر موٹروے 233ارب روپے کےریکارڈ رقم سے شروع کردی گئی

850 سی سی تک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 سےکم کر کے 12.5فیصد کرنےکی تجویز

پھلوں کے رس پرعائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم

آئی ٹی زون کیلئے پلانٹ مشینری ، سامان ،خام مال پر ٹیکس کی چھوٹ کی تجویز

زرعی اجناس کےگوداموں پرٹیکس میں چھوٹ کی تجویز

ای کامرس کو سیلز ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی تجویز

تین منٹ سے زائد کالز،انٹرنیٹ استعمال،ایس ایم ایس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ کرنےکی تجویز

کامیاب پاکستان پروگرام کیلئے 10ارب روپے رکھے گئے ہیں ،شوکت ترین

ایچ ای سی کو 66ارب روپے مہیا کرنے کی تجویز

وزیراعظم کی ہدایت پر اینٹی ریپ فنڈ قائم کیا جارہاہے، اینٹی ریپ فنڈ کیلئے 10کروڑ روپے رکھے گئے بعد میں اضافہ کیاجائیگا۔

موبائل سروسز پرودہولڈنگ ٹیکس 12.5فیصد سے کم کرکے کے 10فیصد کرنے کی تجویز

آزاد کشمیر کیلئے رقم 54 ارب سے بڑھاکر60ارب روپے کردی گئی

گلگت بلتستان کا بجٹ 32ارب سے بڑھاکر47ارب روپےکرنے کی تجویز

سندھ کو 12ارب روپے کی خصوصی گرانٹ دی جائےگی

بلوچستان کو بھی این ایف سی کےعلاوہ مزید10ارب روپے دیئےجائیں گے

نئی مردم شماری کیلئے5ارب روپے کی رقم تجویز

بلدیاتی الیکشن کیلئے5ارب روپے کے رقم مختص

ایک بچے کی سالانہ 2 لاکھ روپے اسکول فیس پر اتنا ہی ٹیکس لیا جائے گا

یکم جولائی سے وفاقی سرکاری ملازمین کو10فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس ملےگا

ٹیلی کام سیکٹر کو صنعت کا درجہ دے دیا گیا

اجناس ذخیرہ کرنے والے پلاسٹک گوداموں پر کسٹم ڈیوٹی ختم

حکومت کا اسپیشل ٹیکنالوجی زون اتھارٹی کے لئے 10سال کی ٹیکس چھوٹ کا اعلان

کیپٹل گین ٹیکس کی شرح 15سے کم کرکے ساڑھے 12فیصد کردی گئی

پی سی بی نےپھر کہاں نظریں جمالیں۔؟

/

لاہور: ویب ڈیسک ::پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی پر نظریں جمالیں۔

تفصیلات کے مطابق پی سی بی نے 2024 سے 2031 کے درمیان آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی میں دلچسپی کا اظہار کردیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے سرکل میں فروری اور جون میں ہونے والے ایونٹس پی سی بی کے لیے ممکن نہیں ہیں۔

اکتوبر میں ہونے والے ایونٹس میں 2027 اور 2031 کا کرکٹ ورلڈ کپ شامل ہے، 2028 کا ٹی 20 ورلڈ کپ اور 2029 کی چیمپئنز ٹرافی بھی اکتوبر میں شیڈول ہے۔

ذرائع کے مطابق 2029 کی چیمپئنز ٹرافی پی سی بی اکیلے کروانے کا خواہشمند ہے، دیگر تین ورلڈ کپ کی میزبانی پی سی بی تین ممالک کے ساتھ مشترکہ طور پر کرنے کا خواہشمند ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال اکتوبر نومبر میں ٹی 20 ورلڈ کپ بھارت میں شیڈول ہے لیکن بھارت میں کورونا کیسز میں اضافے کی وجہ سے ورلڈ کپ یو اے ای منتقل کیے جانے کا قومی امکان ہے۔

.وزیراعظم اور وفاقی کابینہ نے بجٹ میں کال ‏اور انٹرنیٹ پر اضافی ٹیکس کی منظوری نہیں دی۔

//

ویب ڈیسک ::وزیراعظم اور وفاقی کابینہ نے بجٹ میں کال ‏اور انٹرنیٹ پر اضافی ٹیکس کی منظوری نہیں دی۔وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے تین منٹ سے لمبی کال اور انٹرنیٹ کے استعمال پر نئے ٹیکس ‏سے متعلق اہم وضاحت کر دی۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں حماداظہر نے واضح کیا کہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ نے بجٹ میں کال ‏اور انٹرنیٹ پر اضافی ٹیکس کی منظوری نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیے جانے سے قبل اسے فنانس بل میں شامل نہیں ‏کیا گیا تھا

وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی میں پیش کردہ بجٹ میں اعلان کیا تھا کہ تین منٹ ‏سے زیادہ موبائل فون کال اور انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال پر ‏ایف ای ڈی کی تجویز ہے۔

تین منٹ سے زائد کال اور انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ ایس ایم ایس پیغامات پر بھی ایف ای ڈی عائد ‏کردیا ‏گیا ہے۔

حکومتی اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر اضافی ٹیکسوں پر صارفین نے شدید ردعمل دیتے ہوئے ‏فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

Hammad Azhar
@Hammad_Azhar
The PM and Cabinet did not approve the FED levy on internet data usage. It will not be included in the final draft of the Finance Bill (budget) that is placed before parliament for approval.

معمر شخص کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل، دیکھئے

/

ویب ڈیسک ::کورونا سے بچاؤ کے لیے سینیٹائزر کا استعمال کیا جارہا ہے، شاپنگ مال، دکان، اسپتال، اے ٹی ایم سمیت متعدد جگہوں پر ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کیا جاتا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بھارتی پولیس افسر روپن شرما نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مزاحیہ کیپشن لکھا کہ ’ان کا کورونا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا، پر ماسک نیچے نہیں کرنا تھا چاچا۔

بھارت میں معمر شخص کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جب انہیں ہاتھ صاف کرنے کے لیے سینیٹائزر دیا گیا تو انہوں نے پورے جسم پر سینیٹائزر ملنا شروع کردیا۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ معمر شخص کرسی پر براجمان ہیں انہیں ایک شخص نے سینیٹائزر لاکر دیا تو وہ اسے پہلے پورے ہاتھ پر ملنے لگتے ہیں اس کے بعد ماسک نیچے کرکے اسے منہ پر ملنا شروع کردیتے ہیں انہوں نے یہی بر بس نہیں کیا بلکہ سینیٹائزر پیروں پر بھی ملنا شروع کردیا۔ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے ویڈیو اب تک ہزاروں صارفین دیکھ چکے ہیں اور اس پر دلچسپ تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔

 

فائیو جی اب ایک حقیقت ہے۔ یہ سب کچھ آپ کو جاننے کی ضرورت ہے

/

ویب ڈیسک ::موبائل نیٹ ورک کی پانچویں نسل ، جی فائیو ، آج کے 4 نیٹ ورک کی ترقی ہے۔
یہ آج کے حقیقت کو بدلنے اور کل کے لئے راہ ہموار کرنے ، ڈیٹا اور آئی او ٹی کنیکشن کی وسیع پیمانے پر نشوونما سے ملنے اور اس سے تجاوز کرنے کے لئے بنایا گیا تھا۔

5G آپ کے لئے کیا کرسکتا ہے؟
اربوں آلات اور فوری طور پر اس سے تیز تر رابطے کی رفتار ، صلاحیت اور مواصلات کے ردعمل کے اوقات کو (فوری طور پر جانا جاتا ہے) کو فوری طور پر جوڑنے کی صلاحیت کے ساتھ۔ 5 جی جدید مصنوعات اور خدمات کی ناقابل یقین حد کو قابل بنائے گی۔
چیزوں کا انٹرنیٹ
انٹرنیٹ آف تِنگس (IoT) ، جو اربوں مشینوں اور گیجٹ کو جوڑتا ہے ، جدید صنعتی عمل اور اطلاق کی نئی تعریف کررہا ہے۔
ریئل ٹائم کنٹرول
ریئل ٹائم ڈیوائس کنٹرول ، آٹوموبائل مواصلات ، خود کار ڈرائیونگ ، اور ریموٹ میڈیکل کیئر انتہائی قابل اعتماد کم لیٹینسی مواصلات کی صرف چند مثالیں ہیں۔
بڑھا وائرلیس براڈ بینڈ
بڑھا ہوا موبائل براڈ بینڈ بہتر ڈیٹا کی شرح کے ساتھ ساتھ رہائش گاہوں کے لئے فکسڈ وائرلیس انٹرنیٹ اور مسافروں کے لئے زیادہ رابطے مہیا کرے گا۔
اس سے قبل ، 5 جی نیٹ ورک کے ساتھ دو گھنٹے کی فلم ڈاؤن لوڈ کرنا سیکنڈ کا کام بن جائے گا۔ تیز رفتار نیٹ ورک تفریحی مقاصد کے لئے ضروری نہیں ہے لیکن یہ شعبوں میں ضروری ہے۔ اس سے آپ اپنے تصوروں سے کہیں زیادہ تیز ایپ ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔
4 جی نیٹ ورکس میں گنجائش کا فقدان ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کے بنیادی ڈھانچے میں بیک وقت متعدد آلات کو کنٹرول نہیں کیا جاسکتا ہے۔ لہذا ، اس کی وجہ سست ڈیٹا کی رفتار اور اثرات کو سختی سے ڈاؤن لوڈ کیا جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ نیٹ ورک کے ساتھ ، صلاحیت کے معاملے کو بھی حل کرنے کی امید ہے۔ 4G نیٹ ورکس میں لاٹریسی ایک اور عنصر ہے۔ 5 جی نیٹ ورک کا استعمال آپ کے دوست کو بھیجنے والے پیغام کو یقینی بنائے گا ، صرف چند سیکنڈ میں ان کے آلے تک پہنچ جائے گا۔

روس نے (آج) جمعہ سے 4 پاکستانی کاروباری اداروں سے چاول کی درآمد کی اجازت دے دی

//

ویب ڈیسک ::روس نے ہدایات کی بنیاد پر (آج) جمعہ سے 4 پاکستانی کاروباری اداروں سے چاول کی درآمد کی اجازت دے دی ہے۔ابتدائی طور پر ، چاول کی چار کمپنیوں کو روس کے این پی پی او نے پاکستان سے چاول کی درآمد کے لئے منظور کیا ہے ، دو کراچی سے ، ایک لاہور سے اور ایک چنیوٹ سے۔چاول کی دیگر کمپنیوں کی اجازت کا تعلق ڈی پی پی کے پلانٹ کے سنگرودھ ڈویژن کی مجازی توثیق سے ہے۔اس سے قبل ، وزارت تجارت نے جغرافیائی اشارے (GI) میں 10 پاکستانی مصنوعات کی رجسٹریشن کی منظوری دے دی ہے۔

یہ فیصلہ وزارت فوڈ سیکیورٹی کے سنگروی ڈویژن کے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن (ڈی پی پی) کے تجویز کردہ اقدامات پر عمل درآمد کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔روس میں پاکستانی سفارت خانے میں ، وزیر تجارت ناصر حمید نے میزبان ملک کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا اور روسی عہدیداروں کے ساتھ پیروی کی۔
روس نے ہدایات کی بنیاد پر (آج) جمعہ سے 4 پاکستانی کاروباری اداروں سے چاول کی درآمد کی اجازت دے دی ہے۔

یہ فیصلہ وزارت فوڈ سیکیورٹی کے سنگروی ڈویژن کے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن (ڈی پی پی) کے تجویز کردہ اقدامات پر عمل درآمد کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔روس میں پاکستانی سفارت خانے میں ، وزیر تجارت ناصر حمید نے میزبان ملک کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا اور روسی عہدیداروں کے ساتھ پیروی کی۔

وزارت فوڈ سیکیورٹی کے جاری کردہ بیان کے مطابق ، ڈی پی پی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنیکل سنگروین سہیل شہزاد پاکستانی چاول کی درآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کے لئے گذشتہ سال سے روس کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔اس شعبے نے روس کو تمام ضروری تکنیکی معلومات فراہم کیں ، جس میں چاول کمپنیوں اور پیداوار کے علاقوں میں کیڑوں پر نگاہ رکھنا اور اس پر قابو پانا شامل ہے ، اور پاکستان پلانٹ کے سنگرودھ نظام کی ضمانت ہے۔ابتدائی طور پر ، چاول کی چار کمپنیوں کو روس کے این پی پی او نے پاکستان سے چاول کی درآمد کے لئے منظور کیا ہے ، دو کراچی سے ، ایک لاہور سے اور ایک چنیوٹ سے۔

چاول کی دیگر کمپنیوں کی اجازت کا تعلق ڈی پی پی کے پلانٹ کے سنگرودھ ڈویژن کی مجازی توثیق سے ہے۔اس سے قبل ، وزارت تجارت نے جغرافیائی اشارے (GI) میں 10 پاکستانی مصنوعات کی رجسٹریشن کی منظوری دے دی ہے۔
وزارت فوڈ سیکیورٹی کے جاری کردہ بیان کے مطابق ، ڈی پی پی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنیکل سنگروین سہیل شہزاد پاکستانی چاول کی درآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کے لئے گذشتہ سال سے روس کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے۔اس شعبے نے روس کو تمام ضروری تکنیکی معلومات فراہم کیں ، جس میں چاول کمپنیوں اور پیداوار کے علاقوں میں کیڑوں پر نگاہ رکھنا اور اس پر قابو پانا شامل ہے ، اور پاکستان پلانٹ کے سنگرودھ نظام کی ضمانت ہے۔

امریکی سینیٹ کی پہلے مسلم امریکی وفاقی جج زاہد قریشی کی تعیناتی کی منظوری

/

واشنگٹن:  امریکی سینیٹ نے پہلے مسلم امریکی وفاقی جج زاہد قریشی کی تعیناتی کی منظوری دے دی، ان کے حق میں 81 اور مخالفت میں 16 ووٹ آئے۔پاکستانی نژاد جج زاہد قریشی کو امریکی تاریخ کے پہلے مسلم امریکی وفاقی جج بننے کا اعزاز حاصل ہوا ہے، ان کی بطور وفاقی جج نامزدگی وائٹ ہاؤس کی طرف سے کی گئی تھی، وہ اس سے پہلے مجسٹریٹ جج کے طور پر کام کرتے رہے ہیں، زاہد قریشی ڈسٹرکٹ نیوجرسی میں وفاقی جج کی ذمے داریاں نبھائیں گے۔