Daily archive

May 17, 2021

.ملک کی دوسری بلند ترین چوٹی کےٹو پر تیز ترین انٹرنیٹ سروس کی فراہمی شروع ہوگئی

//

اسکردو: ویب ڈٰسک ::پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کے بیس کیمپ پر تیز ترین انٹرنیٹ سروس کا آغاز کردیا۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کے ٹو بیس کیمپ پر واقع ایریا کنکورڈیا میں 4 جی بیس ٹرانسیور اسٹیشن نصب کردیا گیا۔

اس اسٹیشن کی تنصیب کے بعد ملک کی دوسری بلند ترین چوٹی پر تیز ترین انٹرنیٹ سروس کی فراہمی شروع ہوگئی۔ پی ٹی اے نے بتایا کہ اس سائٹ کو معروف پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ کا نام دیا گیا ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق اس سائٹ کا افتتاح وزیراعظم نے دورہ گلگت بلتستان کے دوران کیا تھا۔

پی ٹی اے کے مطابق سیاحتی مقامات پر ٹیلی کمیونیکیشن خدمات کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز ہے، ٹرانسیور اسٹیشن کی تنصیب سے کوہ پیماؤں اور ٹریکنگ کرنے والے افراد کو رابطوں کی بہتر سہولیات کی فراہمی ممکن ہوگی۔

دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی پر نصب ہونے والے ٹاور کی مدد سے موبائل کوریج، انٹرنیٹ رسائی میں بہتری آئے گی، علاوہ ازیں اس کی تنصیب سے کوہ پیماؤں اور ٹریکنگ گروپوں کو اپنے پیاروں کے ساتھ رابطے میں رہنے کے علاوہ ہنگامی صورت حال میں مدد فراہمی بھی ممکن ہوگی۔

اعلامیے کے مطابق اس ٹاور کی تنصیب سے ایڈونچر سیاحت کو فروغ  اور موسم کی صورت حال سے بروقت آگاہی بھی ملے گی۔ پی ٹی اے کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے کونے کونے میں رابطوں کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے یہ اقدام حکومت، آپریٹر اور ریگولیٹر کی کاوشوں کا عملی ثبوت ہے۔

کونسی غذائیں اور کونسی ورزش ہائی بلڈ پریشر سے بچا سکتی ہے جانیے

/

ویب ڈیسک :: آج پاکستان سمیت  پوری دُنیا میں ہاپر ٹینشین کا دن منایا جارہا ہے ہائی بلڈ پریشر ایسا خطرناک مرض ہے جو دل کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔

مانا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ افراد فشار خون کے شکار ہیں اور اگر اس کو کنٹرول نہ کیا جائے تو امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔

مگر اچھی خبر یہ ہے کہ بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر یہاں تک کہ ادویات کے بغیر بھی کم کرسکتے ہیں۔

کچھ سال پہلے کے ایک سروے کے مطابق تقریبا 52 فیصد پاکستانی آبادی ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے اور 42 فیصد لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ وہ ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں کیوں مبتلا ہیں۔

ایسے ہی قدرتی طریقوں کے بارے میں جانیں جو ہائی بلڈ پریشر کی روک تھام کرسکتے ہیں۔

الکحل تباہ کن

الکحل سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور دنیا بھر میں بلڈ پریشر کے 16 فیصد کیسز کا تعلق الکحل سے جوڑا جاتا ہے۔

تو اس سے گریز بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے کے لیے ضروری ہے

چہل قدمی اور ورزش

ورش ہائی بلڈ پریشر کی سطح میں کمی لانے کے لیے بہترین ذرائع میں سے ایک ہے۔

ورزش کو معمول بنانا دل کو مضبوط کرتا ہے اور خون پمپ کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔

ایک ہفتے میں 150 منٹ تک معتدل ورزش جیسے چہل قدمی یا 75 منٹ تک سخت ورزش جیسے دوڑنا، بلڈ پریشر کو کم کرنے کے ساتھ دل کی صحت کو بھی بہتر کرتا ہے۔

زیادہ ورزش سے بلڈ پریشر کی سطح کو مزید کم کیا جاسکتا ہے، درحقیقت دن بھر میں محض 30 منٹ تک چہل قدمی کرنا بھی بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

نمک کا استعمال کم کریں

دیا بھر میں نمک کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے س کی وجہ بازار کے کھانوں کا زیادہ استعمال بھی ہے۔

متعدد تحقیقی رپورٹس میں نمک کی زیادہ مقدار کے استعمال کا تعلق ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب بشمول فالج سے جوڑا گیا ہے۔

اگر آپ پہلے سے ہائی بلڈ پریشر کے شکار ہیں تو غذا میں نمک کا استعمال کم کردینا چاہیے جبکہ بازار کے کھانوں کی جگہ گھر کے پکے کھانوں کو ترجیح دینی چاہیے۔

پوٹاشیم سے بھرپور غذاؤں کا زیادہ استعمالل

پوٹاشیم انسانی صحت کے لیے بہت اہم جز ہے، جو جسم کو سوڈیم کے اخراج اور خون کی شریانوں پر دباؤ کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں جیسے سبز پتوں والی سبزیاں، ٹماٹر، آلو، شکرقندی، تربوز، خربوزے، کیلے، مالٹے، خوبانی، دودھ، دہی، مچھلی، گریاں اور بیج کا استعمال بلڈ پریشر کا خطرہ کم کرتی ہیں۔

کیفین کی کم مقدار کا استعمال

اگر آپ ہائی بلڈ پریشر کا شکار نہیں تب بھی کیفین کے زیادہ استعمال سے گریز بہتر ہوگا، کیونکہ یہ عنصر دل کی دھڑکن کی رفتار اور بلڈ پریشر کو بڑھا دیتا ہے۔

ابھی یہ تو واضح نہیں کہ کیفین سے بلڈ پریشر کیوں بڑھتا ہے مگر ایسا ہوتا ضرور ہے، اس لیے دن بھر میں 4 کپ سے زیادہ کافی کا استعمال بلڈپریشر کا مریض بنادینے کے لیے کافی ہے۔

تناؤ کو کنٹرول کرنا سیکھیں

تناؤ بلڈ پریشر کو بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اگر ہر وقت تناؤ کا سامنا ہو تو دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے اور خون کی شریانیں سکڑ جاتای ہیں۔

متعدد تحقیقی رپورٹس کے مطابق تناؤ میں کمی لانے میں مختلف طریقے مدد فراہم کرسکتے ہیں جیسے سکون پہنچانے والی موسیقی کو سننا اور کم کام کرنا وغیرہ۔

چاکلیٹ اور کوکا کا استعمال

ویسے تو ڈارک چاکلیٹ کی بہت زیادہ مقدار کو کھانا دل کے یے مفید نہیں مگر کم مقدار میں ضرور فائدہ ہوتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈارک چاکلیٹ اور کوکا پاؤڈر فلیونوئڈز سے بھرپور ہوتے ہیں، جو ایسا نباتاتی مرکب ہے جو خون کی شریانوں کو کشادہ کرتا ہے۔

مختلف تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ فلیونوئڈ سے بھرپور کوکا دل کی صحت کو مختصر مدت میں بہتر بناتا ہے اور بلڈ پریشر کی سطح بھی کم ہوتی ہے۔

جسمانی وزن میں کمی

موٹاپے کے شکار افراد جسمانی وزن میں کمی لاکر دل کی صحت کو نمایاں حد تک بہتر بناسکتے ہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق جسمانی وزن میں 5 فیصد کمی لانا ہائی بلڈ پریشر کو نمایاں حد تک کم کرتا ہے۔

یہ اثر اس وقت بڑھ جاتا ہے جب جسمانی وزن میں کمی کی کوششوں کے ساتھ ورزش کو بھی معمول بنالیا جائے۔

جسمانی وزن میں کمی سے دل کے خون پمپ کرنے کے دوران خون کی شریانوں کو کشادہ اور سکڑنے جیسے افعال کو بہتر طریقے کرنے سے مدد ملتی ہے۔

تمباکو نوشی سے گریز

سیگریٹ میں شامل نکوٹین بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے، تو جو لوگ دن بھر بے تحاشہ تمباکو نوشی کرتے ہیں ان کا بلڈ پریشر ہمیشہ بڑھا ہوا ہی آتا ہے، جس سے گریز امراض قلب اور فالج وغیرہ سے تحفظ کے لیے بہترین ثابت ہوسکتا ہے۔

چینی اور ریفائن کاربوہائیڈریٹس کا استعمال محدود کرنا

مسلسل ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں جن میں چینی اور بلڈ پریشر کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق جو خواتین روزانہ صرف ایک سافٹ ڈرنک پیتی ہیں ان میں بلڈ پریشر کی سطح ان مشروبات سے دور رہنے والی خواتین سے زیادہ ہوتا ہے۔

ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ میٹھے مشروبات کا کم استعمال بلڈ پریشر میں کمی لاتا ہے۔

صرف چینی ہی نہیں بلکہ ریفائن کاربوہائیڈریٹس جیسے سفید آٹا بھی دوران خون میں بہت تیزی سے شکر میں تبدیل ہوکر مسائل کا باعث بنتے ہیں۔

بیریز کو کھانا

بیریز پولی فینولز، قدرتی نباتاتی مرکبات سے بھرپور ہوتی ہیں جو دل کی صحت کے لیے مفید ہوتے ہیں۔

پولی فینولز فالج، امراض قلب اور ذیابیطس کا خطرہ کم کرتے ہیں جبکہ بلڈ پریشر، انسولین کی مزاحمت اور ورم کو بہتر بھی کرتے ہیں۔

ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ بیریز اور پولی فینولز سے بھرپور غذاؤں کا استعمال امراض قلب کا خطرہ کم کرتا ہے۔

مراقبے اور گہری سانسوں کو آزمائیں

ویسے تو یہ دونوں تناؤ میں کمی لانے میں بھی مددگار ہوتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ اعصابی نظام کے ان حصوں کو متحرک کرتے ہیں جو جسم کو پرسکون رکھنے، دل کی دھڑکن سست کرنے اور بلڈ پریشر کم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

کیلشیئم سے بھرپور غذائیں بھی مفید

جن لوگوں کو کیلشیئم کی کمی کا سامنا ہوتا ہے ان میں اکثر ہائی بلڈ پریشر عام ہوتا ہے۔

کیلشیئم سپلیمنٹس تو بلڈ پریشر میں کمی لانا ثابت نہیں ہوا مگر اس جز سے بھرپور غذائیں ضرور مفید ثابت ہوتی ہیں۔

دودھ اور اس سے بنی مصنوعات کے ساتھ سبز پتوں والی سبزیوں، بیج، مچھلی اور ترش پھل کیلشیئم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔

میگنیشم والی غذائیں

میگنیشم خون کی شریانوں کو پرسکون رکھنے کے لیے اہم جز ہے، ویسے تو اس کی کمی کا سامنا بہت کم افراد کو ہوتا ہے مگر بیشتر لوگوں کی غذاؤں میں یہ جز نہیں ہوتا۔

کچھ تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ میگنیشم کا کم استعمال ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے تاہم اس حوالے سے شواہد مکمل طور پر واضح نہیں۔

مگر یہ ضرور واضح ہے کہ میگنیشم سے بھرپور غذائیں ہائی بلڈ پریشر کی سطح میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

دودھ یا اس سے بنی مصنوعات، سبیاں، دالیں، چکن، گوشت اور اجناس اس جز کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔

املی صحت کے لئے کیوں ضروری ہے؟ انسانی بدن میں یہ کیا کام کرتی ہے؟

/

ویب ڈیسک :: املی صحت کے لئے کیوں ضروری ہے؟ انسانی بدن میں یہ کیا کام کرتی ہے؟ املی کا پودا شمالی افریقہ اور ایشیاء کے کئی ممالک میں پایا جاتا ہے اس میں موجود نامیاتی مرکبات کی بڑی تعدا د اسے ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلیمیشن بناتے ہیں املی وٹامن سی، ای اور بی، کیلشیم، فاسفورس، آئرن، پوٹاشیم، میگنیز اور غذائی فائبر کاخزانہ ہے اور اس میں وٹامنز اور منرلز کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں-

املی کے فوائد:املی میں پوٹاشیم پایا جاتا ہے جس کے باعث یہ بلڈ پریشر کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ املی میں موجود فائبر شریانوں سے ایل ڈی ایل کولیسٹرول کو ختم کرتاہے اور آنت کا کینسر نہیں ہونے دیتا اس میں موجود وٹامن سی فری ریڈیکل کے خطرات کو کم کرتا ہے املی مدافعتی نظام کو فروغ دیتی ہے-

املی میں پوٹاشیم،آئرن، سیلینیم، کیلشیم، زنک اور کاپر کی وافر مقدار پائی جاتی ہے اس میں موجود آئرن کی وجہ سے خون کے سرخ خلیے بنتے ہیں اور دیگر منرلز اور دھاتوں سے خون میں مادوں کی مقدار متوازن رہتی ہے اور بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے۔املی بھوک کم کرتی ہے اوریہ جسم میں فیٹ کو اسٹور نہیں ہونے دیتی۔ وزن میں کمی کے لیے املی سے بنائے گئے مشروبات بھی استعمال کیے جاتے ہیں املی میں موجود ٹارٹارک ایسڈ ایک طاقتور انٹی آکسیڈینٹ کا کام کرتے ہوئے جسم سے فاسد مادوں کو باہر نکالتاہے۔

املی متلی اورقے کی شکایت دور کرکے غذا کو ہضم کرتی ہے۔ متلی ہونے کی صورت میں اگر املی کا شربت استعمال کیا جائے تو فائدہ ہوتا ہے اور املی کا ستعمال طبیعت کو فرحت بخشتا ہے-املی کااستعمال نظام ہضم کے لیے بہت اچھا ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں فائبر کی وافر مقدار موجود ہوتی ہےاس لیے اس کا استعمال آنتوں کو تقویت دیتا ہے جس سے نظام انہضام بہتر طریقے سے کام کرتا ہے اور معدہ بھی بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔

کیا کریں کہ موٹاپا کم ہوجائے،وہ کونسی چیزیں ہیں جوکمی لاسکتی ہیں

ویب ڈیسک ::موٹا پا خود ایک بیماری ہے اگر ایک بار موٹاپا چڑھ جائے تو جسمانی وزن میں کمی لانا آسان نہیں ہوتا اور اکثر لوگ ایسے مشوروں پر عمل کرنے لگتے ہیں جو درست نہیں ہوتے۔

تاہم گزرے برسوں میں سائنسدانوں نے متعدد ایسے طریقوں کو دریافت کیا ہے جو جسمانی وزن میں کمی لانے میں مؤثر ہیں۔

ایسے ہی آسان طریقوں کے بارے میں جانیں جو سائنسی شواہد کی بنیاد پر تیار کیے گئے۔

ڈائٹنگ نہ کریں

ڈائٹنگ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ طویل المعیاد مدت کے لیے کارآمد نہیں۔

یہاں تک کہ اگر لوگ اس کو اپناتے بھی ہیں تو ان کا وزن وقت گزرنے کے ساتھ پہلے سے زیادہ بڑھ سکتا ہے اور رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ ڈائٹنگ کو دیکھ کر مستقبل میں موٹاپے کی پیشگوئی بھی کی جاسکتی ہے۔

لہذا ڈائٹ پر جانے کی بجائے صحت بخش، خوش باش اور فٹ بننے کو اپنا مقصد بنائیں اور اپنے جسم کو تازہ دم کرنے پر توجہ مرکوز کریں نہ کہ اسے فاقہ کشی پر مجبور کردیں۔

اس طرح وزن کم کرنے کے سے قدرتی طور پر مضر اثرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

نوالے آہستگی سے چبا کر نگلیں

اپنا کھانا بہت تیزی سے نگلنا وقت کے ساتھ جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتا ہے، اس کے مقابلے میں کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے نوالے اچھی طرح چبانا پیٹ کو بھرے رکھنے کے ساتھ جسمانی وزن میں کمی لانے والے ہارمونز کی تعداد کو بڑھاتا ہے۔

پانی پینا، بالخصوص کھانے سے قبل

ایسا اکثر کہا اتا ہے کہ پانی پینا جسمانی وزن میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور یہ درست بھی ہے۔

پانی پینے سے میٹابولزم کی رفتار ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کے لیے 24 سے 30 فیصد تک بڑھ جاتی ہے، جس سے زیادہ کیلوریز جلانے میں مدد ملتی ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھانے سے آدھے گھنٹے قبل آدھا لیٹر پانی پینا کم کیلوریز کو جزوبدن بنانے میں مدد دیتا ہے اور اس طریقے پر عمل نہ کرنے والوں کے مقابلے میں جسمانی وزن میں 44 فیصد زیادہ کمی آتی ہے۔

ناشتے میں انڈوں کا استعمال

انڈے صحت کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں جس میں جسمانی وزن میں کمی بھی ہے۔

تحقیقی رپورٹس میں ریافت کیا گیا کہ ناشتے میں انڈوں کا استعمال آئندہ 36 گھنٹوں میں کم کیلوریز جزوبدن بنانے میں مدد دیتا ہے جبکہ جسمانی وزن اور چربی زیادہ گھٹ جاتی ہے۔

کافی پینا

تحقیقی رپورٹس کے مطابق کافی میں موجود کیفین سے میٹابولزم 3 سے 11 فیصد تیز ہوتا ہے اور چربی گھلنے کا عمل 10 سے 29 فیصد تک تیز ہوجاتا ہے۔

تاہم اس مشروب کو پینے کے دوران چینی یا زیادہ کیلوریز والے اجزا کا استعمال کرنے سے گریز کریں ورنہ کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔

سبز چائے پینا

کافی کی طرح سبز چائے بھی اس مقصد کے لیے بہترین مشروب ہے۔

سبز چائے میں کیفین کی مقدار تو معمولی ہوتی ہے مگر اس میں ایسے طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹس ہوتے ہیں جو کیفین کے ساتھ مل کر چربی گھلنے کے عمل کو تیز کرتے ہیں۔

انٹرمٹنٹ فاسٹنگ

یہ موجودہ عہد کا ایک مقبول غذائی طریقہ کار ہے جس میں ایک خاص وقت کے اندر دن بھر کی کیلوریز استعمال کی جاتی ہیں اور باقی وقت غذا سے دور رہتے ہیں۔

مختلف تحقیقی رپورٹس سے عندیہ ملتا ہے کہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ جسمانی وزن میں کمی لانے میں مؤثر ہوتی ہے۔

میٹھے کا استعمال محدود کرنا

چینی کا استعمال موجودہ عہد میں بہت زیادہ بڑھ چکا ہے اور تحقیقی رپورٹس کے مطابق اس سے موٹاپے کا خطرہ تو بڑھتا ہی ہے، اس کے ساتھ امراض قلب اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔

اگر جسمانی وزن میں کمی لانا چاہتے ہیں تو غذائی معمولات میں چینی کی مقدار کو بھی کم کریں۔

ریفائن کاربوہائیڈریٹس کا کم استعمال

ریفائن کاربوہائیڈریٹس بشمول سفید ڈبل روٹی، پاستا اور چینی وغیرہ میں فائبر موجود نہیں ہوتا۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق ریفائن کاربوہائیڈریٹس بلڈ شوگر لیول کو تیزی سے بڑھاتے ہیں، جس سے بھوک، کھانے کی خواہش بڑھتی ہے جبکہ لوگ زیادہ کیلوریز استعمال کرتے ہیں، اسی وجہ سے ریفائن کاربوہائیڈریٹس کو موٹاپے سے منسلک کیا جاتا ہے۔

کاربوہائیڈریٹس کا استعمال کم کرنا

تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ غذا میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار کو محدود کرنے سے جسمانی وزن میں 2 سے 3 گنا تیزی سے کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔

چھوٹی پلیٹوں کا استعمال

چھوٹی پلیٹوں کا استعمال کرنے سے بھی لوگ خودکار طور پر کم کیلوریز کے استعمال کو ممکن بناسکتے ہیں، جس کی مختلف طبی رپورٹس میں تصدیق بھی کی گئی ہے۔ سننے میں جتنا بھی حیرت انگیز طریقہ ہو مگر یہ کارآمد ثابت ہوتا ہے۔

کھانے کی مقدار کو کنٹرول کرنا

کھانے کی مقدار کو کنٹرول کرنا یا آسان الفاظ میں کم مقدار میں کھانا بھی اس حوالے سے بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔

کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق فوڈ ڈائری کو مرتب کرنا یا اپنے کھانوں کی تصاویر لینا جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

بے وقت بھوک کے لیے اپنے ارگرد صحت بخش غذاؤں کو رکھنا

اپنے قریب صحت بخش غذا کو رکھنا آپ کو ایسی چیزوں سے دور رکھتا ہے جو غیرصحت مند ثابت ہوسکتی ہیں خاص طور پر بہت زیادہ بھوک لگنے کی صورت میں۔

کچھ چیزوں کو رکھنا اور تیار کرنا بہت آسان ہوتا ہے جیسے کچھ مقدار میں گریاں (اخروٹ، بادام وغیرہ)، دہی، ابلے ہوئے انڈے اور پھل۔

پروبائیوٹیک سپلیمنٹس

ان سپلیمنٹس میں ایسے بیکٹریا ہوتے ہیں جو جسمانی چربی کو گھٹا سکتے ہیں۔

تاہم اس طرح کے سپلیمنٹس کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے سے کرنا چاہیے۔

زیادہ مرچوں والی غذا

مصالحے دار غذاﺅں میں ایک جز کیپسیسین پایا جاتا ہے جو میٹابولزم کو فروغ دیتا ہے اور کھانے کی اشتہا میں کچھ حد تک کمی لاتا ہے۔

اس بات کی تصدیق کچھ طبی تحقیقی رپورٹس میں بھی کی گئی ہے۔

ایروبک ورزشیں بھی مددگار

ایروبک ورزشیں کیلوریز جلانے میں بہت مدد فراہم کرتی ہیں اور جسمانی و ذہنی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔

یہ ورزشیں بالخصوص توند کی چربی گھلانے میں بہت زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔

وزن اٹھانا

ڈائٹنگ کا ایک سب سے مضر اثر پٹھوں کو نقصان پہنچنے اور میٹابولک سست روی ہوتا ہے جسے اکثر فاقہ کشی کا نتیجہ بھی کہا جاتا ہے۔

اس سے بچنے کا بہترین طریقہ کسی قسم کی مزاحمتی ورزش کرنا ہے جیسے وزن اٹھانا۔

طبی سائنس نے ثابت کیا ہے کہ وزن اٹھانا آپ کے میٹابولزم کو متحرک رکھتا ہے اور پٹھوں کے حجم میں کمی بھی نہیں آنے دیتا۔

یقیناً اس سے صرف چربی ہی نہیں گھلتی بلکہ مسلز بھی بنتے ہیں۔

فائبر والی غذاؤں کا زیادہ استعمال

فائبر کا استعمال بڑھانا جسمانی وزن میں کمی لانے میں مدد دیتا ہے۔

اس حوالے سے شواہد ملے جلے ہیں مگر کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق فائبر کے استعمال سے پیٹ زیادہ دیر بھرنے کا احساس برقرار رہتا ہے اور طویل المعیاد بنیادوں میں جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔

پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال

سبزیاں اور پھلوں میں کیلوریز کی مقدار کم جبکہ فائبر کی زیادہ ہوتی ہے۔

اسی طرح ان میں پانی کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے جس سے پیٹ جلدی بھر جاتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو لوگ سبزیاں اور پھل زیادہ استعمال کرتے ہیں وہ جسمانی طور پر بھی کم وزن کے حامل ہوتے ہیں۔

پھل اور سبزیاں صحت بخش غذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں لہذا ان کا استعمال ہر قسم کے فوائد کے لیے اہم ہے۔

اچھی نیند

نیند بھی صحت بخش غذا اور ورزش جتنی اہمیت رکھتی ہے۔

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ کم نیند موٹاپے کا خطرہ بننے والی اہم ترین وجوہات میں سے ایک ہے۔

کم سونے سے بچوں میں موٹاپے کا خطرہ 89 فیصد جبکہ بالغ افراد میں 55 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

پروٹین کا زیادہ استعمال

پروٹین سے بھرپور غذاؤں کا استعمال میٹابولزم کو تیز کرتا ہے اور کم کیلوریز کو جزوبدن بنانے میں مدد دیتا ہے۔

ایک تحقیق میں دریاافت کیا گیا کہ دن بھر کی 25 فیصد کیلوریز پروٹین سے حاصل کرنا کھانے کے بارے میں مضطربانہ خیالات کو کم کرتا ہے اور رات گئے کھانے کی خواہش میں 60 فیصد کمی آتی ہے۔

میٹھے مشروبات سے گریز

چینی نقصان دہ ہے مگر سیال شکل میں شکر زیادہ بدترین ہے۔

طبی سائنس نے ثابت کیا ہے کہ سیال چینی سے حاصل ہونے والی کیلوریز موجودہ عہد کی غذاﺅں میں موٹاپے کا باعث بننے والا سب سے اہم پہلو ہے۔

مثال کے طور پر ایک تحقیق کے مطابق چینی سے بنے مشروبات کے نتیجے میں بچوں میں موٹاپے کا خطرہ ساٹھ فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس بات کا اطلاق فروٹ جوسز پر بھی ہوتا ہے جس میں اتنی ہی چینی ہوتی ہے جتنی ایک سافٹ ڈرنک میں۔

پھل کو کھانا اس کے جوس کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

مولانا طارق جمیل کی بولی وڈ اداکار سلمان خان اور ان کے اہل خانہ کے لیے ایک مختصر تعریفی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

/

ویب ڈیسک :: پاکستان کے معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل کی بولی وڈ اداکار سلمان خان اور ان کے اہل خانہ کے لیے ایک مختصر تعریفی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہی ہے، جس میں وہ بھارتی اداکار کے اچھے کاموں کی تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو چار منٹ سے کم دورانیے کی ہے، جس میں انہیں سلمان خان اور ان کے اہل خانہ کو عید کی مبارک باد دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔بظاہر ویڈیو نئی معلوم ہوتی ہے، جسے تین دن قبل بھارتی شخص عبدالرزاق پٹھان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ سمیت ان کی جانب سے چلائے جانے والے دوسرے سوشل میڈیا پیجز پر اپ لوڈ کیا گیا تھا، جس کے بعد مذکورہ ویڈیو کو متعدد دیگر پاکستانی و بھارتی سوشل میڈیا پیجز پر بھی شیئر کیا گیا۔

چار منٹ سے کم دورانیے کی ویڈیو کا آغاز مولانا طارق جمیل کی جانب سے سلمان خان کے والد سلیم خان کو سلام کہنے سے ہوتا ہے۔یہ واضح نہیں کہ مولانا طارق جمیل کی جانب سے بولی وڈ دبنگ ہیرو کو عید کی دی جانے والی مبارک باد گزشتہ ہفتے ہونے والی عید الفطر کی ہے یا اس سے قبل کسی عید کی ہے؟

پاکستان میں3 اور4 جی صارفین کی تعداد 9 کروڑ 81 لاکھ 20 ہزار ہو گئی

کراچی : جدت ویب دیسک:مارچ 2021 کے اختتام پر پاکستان میں تھری اور فور جی صارفین کی تعداد9 کروڑ 81 لاکھ 20 ہزار ہو گئی۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی رپورٹ کے مطابق فروری 2021 کے مقابلہ میں مارچ 2021 کے دوران تھری اور فور جی صارفین کی تعداد میں 1.86 ملین کا اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ فروری 2021 کے اختتام پر ملک میں تھری اور فور جی صارفین کی تعداد 96.26 ملین ریکارڈ کی گئی تھی تاہم مارچ 2021 کے اختتام پر پاکستان میں تھری اور فور جی صارفین کی تعداد 98.12 ملین تک بڑھ گئی۔ پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق اس دوران موبائل فون صارفین کی تعداد میں بھی 1.93 ملین کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں فروری 2021 کے اختتام پر صارفین کی 181.27 ملین ریکارڈ تعداد مارچ 2021 کے خاتمہ پر 183.20 ملین موبائل فون صارفین تک پہنچ گئی۔

ایک گھنٹہ اضافی نیند سے کورونا کے خطرات کو 12 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے ، ماہرین

/

امریکہ:جدت ویب ڈیسک:امریکی ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ رات میں ایک گھنٹہ اضافی نیند سے کورونا میں مبتلا ہونے کے خطرات کو 12 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
اوہایو سٹیٹ یونیورسٹی ویکسنر میڈیکل سینٹر سلیپ میڈیسن کے ماہر ڈاکٹر اسٹیون ہولفنگر کا کہنا ہے کہ نیند میں کمی سے انسانی جسم بہت سے مسائل کا شکار ہوجاتا ہے اور اسی وجہ سے ہیلتھ ورکرز میں کووڈ 19 میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے تاہم اس بات کو مزید ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔کورونا پر ہونے والی تحقیق میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اس مطالعے میں ایسے 2800 سے زائد فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو شامل کیا گیا جو اس وبا کے آغاز سے تاحال کورونا کا سامنا کر رہے ہیں۔تحقیق میں شامل جن ہیلتھ کیئر ورکرز کو رات میں سونے کے لیے ایک گھنٹہ اضافی وقت دیا گیا ان میں کووڈ۔ 19 میں مبتلا ہونے کا خطرہ 12 فیصد تک کم ہوگیا جب کہ وہ ورکرز جو گہری نیند سونے میں ناکام رہے ان میں وائرس سے متاثر ہونے کے خطرات بڑھ گئے۔ واضح رہے کہ اسی نوعیت کی ایک تحقیق گزشتہ سال یو ایس نیشنل لائبریری آف سائنس میں شائع ہوچکی ہے جس میں کورونا وائرس کو چین کے تناظر میں دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ کورونا میں مبتلا ہونے والے ایسے افراد جنہوں نے اس بیماری کا شکار ہونے سے ایک ہفتے قبل بھرپور نیند نہیں لی تھی ان کے جسم میں اس وائرس نے بہت نقصان پہنچایا۔ماہرین کے مطابق انسانی جسم میں سونے اور جاگنے کے چکر (سائیکل) میں اہم کردار ادا کرنے والے ہارمون میلا ٹونن کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے جس سے کووڈ۔ 19 وائرس کو توڑنے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ بھرپور نیند انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اکشے کمارکا کورونا مریضوں کے لیے قیمتی تحفہ

ممبئی: جدت ویب ڈیسک:بھارت میں کورونا کی تباہ کاریاں جاری ہے، بالی وڈ کی متعدد سیلیبریٹیز ملک میں کورونا کے خلاف جنگ میں عوام کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہیں۔بگ بی نے کورونا فنڈ میں کروڑوں روپیے عطیہ کیے توسلو بھائی کب کسی سے پیچھے رہنے والے ہیں؟

انہوں نے نہ صرف کورونا سے نمبردآزما تقریباً 5 ہزارفرنٹ لائن ورکرز میں کھانا، پانی اور دیگر ضروری اشیا تقسیم کیں، بلکہ انڈسٹری کے 25 ہزارورکروں کی مالی مدد بھی کردی۔

سونوسوڈ کورونا وبا کی ابتدا سے ہی مریضوں کے لیے ادویات، آکسیجن سلنڈر اور دیگر اشیا فراہم کرنے کی تگ ودومیں لگے رہتے ہیں اور حال ہی میں انہوں نے ریاست مدھیہ پردیش کے ایک پورے گاؤں کو لاک ڈاؤن کے خاتمے تک کھانا فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

اسی طرح انوشکا شرما اور ویرات کوہلی نے کورونا متاثرین کے لیے 11 کروڑ روپے کی رقم جمع کرلی۔اورجب بات ہوانسانی ہمدردی کی توپھرخطروں کے کھلاڑی اکشے کمار بھی کسی سے کم نہیں، اکشے کماراور ٹوئنکل کھنہ فلمی صنعت کی دیگر شخصیات کے ہمراہ اس وقت کورونا کے خلاف جنگ میں اہم ہتھیارآکسیجن کی بلا تعطل فراہمی کے لیے سرکاری اسپتالوں میں آکسیجن کنسینٹریٹر فراہم کر رہے ہیں۔

1 2 3 5