پاکستان کی پہلی کوریئرگرل،عائشہ صدیقہ

جدت ویب ڈیسک :بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں جو ایک تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ خواتین بھی فیلڈ میں کام کرنے کو ترجیح دینے لگی ہیں اور خصوصاً ان شعبوں میں جو مردوں کے لئے خاص سمجھے جاتے تھے ان میں بھی خواتین نے نمایاں کردار ادا کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ خواتین کسی بھی لحاظ سے مردوں سے کم نہیں۔ایسی ہی ایک پر عزم،بہادر اور باصلاحیت شخصیت ہیں عائشہ صدیقہ جو محض 19سال کی عمر میں صنف نازک کیلئے بہترین مثال کے طور پر سامنے آئی ہیں ان کے بقول بچپن سے کچھ انوکھا کام کرنا چاہتی تھیں اس لئے ایسے شعبہ کا انتخاب کیا جس میں عام طور پر خواتین آنا پسند نہیں کرتیں یا ان کیلئے غیر موزوں تصور کیا جاتا ہے۔ عائشہ سردار دنیا کی سب سے بڑی کوریئر کمپنی فیڈ ایکس کی پہلی پاکستانی خاتون ہیں جو ڈاک لینے اور تقسیم کرنے کا کام کررہی ہیں۔ انہوں نے اپنی تعلیم پی ای سی ایچ ایس کالج سے کامرس میں انٹر کیا والد پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور والدہ بینکر ہیں ان کی ایک بہت بھی ملازمت کررہی ہیں۔ میں نے اس شعبہ کا انتخاب ایک روایتی سوچ”خواتین یہ کام نہیں کرسکتیں“کے خاتمے کیلئے کیا تاکہ خواتین کیلئے ایک مثال قائم ہو اور دوسری خواتین کو بھی تحریک ملے۔ اپنے کام کر حوالے سے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ میرا تجربہ انتہائی خوشگوار ثابت ہوا،عملہ میرے ساتھ تعاون کرتا ہے اور سب سے اطمینان بخش بات یہ ہے کہ میرے والدین کو میری اس ملازمت پر کوئی اعتراض نہیںبلکہ جب انہیں پتا چلا کہ ہماری بیٹی ایک ایسا کام کرنا چاہتی ہے جو پاکستان میں پہلے کسی خاتون نے کیا تو انہوں نے بڑی حوصلہ افزائی کی جبکہ فرم کی انتظامیہ کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ایک لڑکی نے کویئر کی ملازمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور انہوں نے ایک کے بجائے تین انٹرویوز لئے اور میرے جذبے اور اعتماد کو جانچ کر مجھے ملازمت دی۔ اب میں ملازم کے ساتھ تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہوں۔ میری ڈیوٹی کے اوقات صبح نو سے شام سات بجے تک ہیں اور اگر دیر سویر بھی ہوجائے تو مجھے پریشانی نہیں ہوتی۔ فیلڈ میں جہاں جاتی ہوں سب اچھے اخلاق سے پیش آتے ہیں اور فیلڈ میں دیکھ کر کئی لڑکیاں نہ صرف خوش ہوتی ہیں بلکہ کوریئر بننے کی خواہش کا اظہار بھی کرتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.