‎HEC‎; ‎NCEAC‎; ‎PEC‎; ‎PCP

ہمدرد یونی ورسٹی کا 22واں کانووکیشن ،1447 ڈگریاں اور 32 گولڈ میڈلز دیئے گئے

کراچی جدت ویب ڈیسک ہمدرد یونیورسٹی کے 22ویں کانووکیشن میں کل 1447 فارغ التحصیل طلبہ کو مختلف شعبوں میں ڈگریاں دی گئیں جب کہ 32 طلبہ کو گولڈمیڈلزدیئے گئے -ہر سال اول آنے پر ہمدرد یونیورسٹی گولڈ میڈل25اور بہترین طالب علم ہونے پر7 طلبہ کو شہید حکیم محمد سعید گولڈ میڈلز دیئے گئے اور انسٹی ٹیوٹ اوف انجینئرزپاکستان ٗ کراچی سینٹر کی جانب سے انجینئرنگ میں طلبہ کی دلچسپی بڑھانے کے لیے 13 طلبہ کو بھی گولڈ میڈلز دیے گئے-نیز معروف ماہر گردہ و جگر ڈاکٹر سید ادیب الحسن رضوی کو ڈاکٹر ا وف میڈیکل سائنسز کی اعزازی ڈگری دی گئی -تمام ڈگریاں اور گولڈ میڈلزمہمان خصوصی اور اخوت کے مائکرو فنانس پروگرام کے بانی چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب نے طلبہ کو دیے-اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ زندگی خواب دیکھنے کے لیے ہے ٗ اور وہ خواب زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ٗ جو جاگتے میں دیکھے جاتے ہیں ٗ خواب ضرور دیکھیے انہیں پورا کرنے کی کوشش بھی کیجیے لیکن دوسروں کے خواب پورا کرنے میں ان کی مددبھی کیجیے- انہوں نے کہا کہ اخوت مائیکرو فنانس پروگرام میں یہی کیا گیا ہے کہ جب ایک خاتون نے ان سے دس ہزار روپے کی مدد طلب کی ٗ اخوت نے اسے دیئے ٗاس سے اس نے سلائی مشینیں خریدیں اور ایک سال میں وہ رقم انہیں لوٹادی-انہوں نیکہا کہ ایک فرد اور فیملی سے شر وع ہونے والا اخوت پروگرام ” اب پچیس لاکھ خاندانوں تک پہنچ چکا ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک کروڑ افرا د تک پہنچ گیاہے-انہوں نے مزید کہا کہ خواب ان ہی کے پورے ہوتے ہیں جو انہیں تعبیر دینے کے جذبے اور جنون سے کام لیتے ہیں اور انہیں اپنے مقصد سے عشق ہوجاتا ہے جس کا مظاہرہ شہید حکیم محمد سعید نے کیا انہوں نے ایک صحراکو گل گلزار بنادیا -وہ جب اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ یہاں آئے اور انہوںنے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ یہاں مدینۃ الحکمہ بنائیں گے-اس پر ان کے ساتھیوں نے حیرت کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ یہاں سینکڑوں بچوں کو تعلیم حاصل کرتے ٗاور کھیلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں – انہوں نے کہا کہ اہل بصیرت ایسے ہوتے ہیں جو مستقبل میں جھانک کر دیکھ لیتے ہیں-انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ سے کہا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایک عظیم انسان کی قائم کردہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ہے-انہوں نے کہا کہ غریب وہ ہے جس کا کوئی مربی و مددگار نہ ہو – لہذا طلبہ عملی زندگی میں غربیوں کے مربی اور ان کے مددگار بنیں-ہمدرد یونیورسٹی کی چانسلرمحترمہ سعدیہ راشد نے کانوو کییشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن گریجویٹس اور پوسٹ گریجویٹس کے لیے اور ہمدرد میں ہم سب کے لیے بڑی اہمیت کا دن ہے-انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ سے کہا کہ ان کے صحیح امتحان کا وقت آیا ہیٗ جو ان سے ان کی زندگی لے گی ٗ جس کو بہتر بنانے کے لیے وہ جدوجہد کریں گے ٗ لیکن اپنی اپنی زندگی بہتر بنانے میں دہ دوسروں کی زندگیوں کو بھی بہتر بنانے اپنا کچھ کچھ حصہ ضرور ڈالیں-مہمان خصوصی ڈاکٹر امجد ثاقب اور ان کی تنظیم کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس تنظیم کا آغاز صرف دس ہزار روپے کی معمولی رقم سے ہوا اور اب اس کا دائرہ 25لاکھ افراد تک پھیل گیاگویا یہ ایک کروڑ انسانوں کی مدد کرکے انہیںاپنے پائوں پرکھڑا کررہی ہے -انہوں نے کہا کہ ہمدرد انڈیا اور ہمدرد پاکستان دونوں ہمددر کا آغاز بھی بہت معمولی تھا- لیکن بعد ازاں یہ دونوں ادارے ہربل ادویہ کی دوا سازی کے بڑے ادارے اور عوامی فلاح و بہبود کی بڑی تنظیمیں بن گئیں- ہمدرد کے فلاحی کاموں کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دیہی بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے حکیم صاحب کے قائم کردہ ہمدرد ولیج اسکول کی ایک طالبہ نجمین رمضان ولیج اسکول سے میٹرک کرنے کے بعد ہمدرد یونیورسٹی سے ایسٹرن میڈیسن میں بی ای ایم ایس کرچکی ہے اور شفا ء الملک میموریل ہسپتال فار ایسٹرن میں ہائوس جاب بھی مکمل کرچکی ہے- اس کے نقش قدم پر چل کرہمدرد ولیج اسکول کے دو بچے ہمدرد یونیورسٹی میں پہنچ گئے ہیں اوربی ای ایم ایس کا کورس کررہے ہیں- ہمدرد یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شبیب ا لحسن نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے ہمدرد یونیورسٹی کی کارکردگی اور پیش ر فت پر مختصر روشنی ڈالی- آخیرمیں کلمات تشکر ہمدرد یونیورسٹی کے بورڈ اوف گورنرز کے رکن ڈاکٹر اظہر حسین نے پیش کیے- دعائے سعید پر کانووکیشن اختتام پذیر ہوا-

Leave a Reply

Your email address will not be published.