PRESIDENT OF PAKISTAN MAMNOON HUSSAIN

ہمارے تہذیبی ورثے کا مستقبل تابناک ہے ، ممنون حسین

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک : صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ اپنے تہذیبی ورثے کےساتھ وابستگی برقرار رکھنے اور اسے پروان چڑھانے والی قومیں ہر اعتبار سے کامیاب رہیں، تہذیبی اقدار علمی، ثقافتی اور اقتصادی ترقی کو بنیاد فراہم کرتی ہیں، نوجوان خوش نویسوں کی محنت صرف ان کےلئے ہی سود مند ثابت نہیں ہو گی بلکہ یہ قومی خدمت وطن عزیز کو زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی فائدہ پہنچائےگی، انہیں دور جدید کی ایجادات کو اپنے فنون کے فروغ میں معاون کے طور پر استعمال کرنا چاہئے۔ صدر مملکت ممنون حسین نے یہ بات بدھ کو یہاں عبدالمجید پروین رقم قومی خطاطی مقابلہ کے اختتامی سیشن سے خطاب کر تے ہوئے کہی۔ مشیر وزیراعظم برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویڑن عرفان صدیقی، وفاقی سیکریٹری عامر حسن، صاحبان علم و دانش، سفارتکار اورنوجوان خطاط نویس بھی اس موقع پر موجود تھے۔صدر مملکت نے کہا کہ فن خطاطی کے بے تاج بادشاہ عبدالمجید پروین رقم سے منسوب خوش نویسی کے اس عظیم الشان مقابلہ میں نوجوانوں کے قلم سے نکلنے والے خوش نویسی کے جو نمونے دیکھے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا یہ تہذیبی ورثہ میراث کی طرح ایک سے دوسری نسل کو منتقل ہو رہا ہے اور اس سے میرا یقین پختہ ہو ا ہے کہ ہمارے تہذیبی ورثے کا مستقبل تابناک ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں اس خوبصورت فن کے احیا اور اس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد کی دلچسپی صرف اس حقیقت کی مظہر نہیں کہ ہماری نئی نسل اپنے ثقافتی ورثے کے ساتھ شعوری دلچسپی رکھتی ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے دن نہ صرف ہماری تہذیبی شان و شوکت کے احیا بلکہ قومی ترقی اور قومی وقار میں اضافے کا بھی ذریعہ بنیں گے۔ صدر مملکت نے کہا کہ جن قوموں نے اپنے تہذیبی ورثے کے ساتھ وابستگی برقرار رکھی اور اسے پروان چڑھایا، وہ ہر اعتبار سے کامیاب رہیں۔صدر مملکت نے فنِ خطاطی کے احیا کے لیے عرفان صدیقی کی قیادت میں قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویڑن کی خدمات کو سراہا اور اس توقع کا اظہار کیا کہ ایسی صحت مند سرگرمیاں مستقبل میں بھی پورے جوش وجذبے کے ساتھ جاری رہیں گی۔ قبل ازیں صدر مملکت نے مقابلہ حسن خطاطی کے شرکائ 4 میں انعامات اور اعزازات تقسیم کئے۔اس موقع پر مشیر وزیر اعظم برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویڑن عرفان صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے علمی و ادبی ادارے گراں خوابی کے دور سے نکل چکے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ خطاطی اسلامی دنیا کے درمیان قربت کا ایک بڑا ذریعہ ہے جس ترویج کے لیے ادارہ فروغ قومی زبان کے زیر اہتمام ایک ذیلی ادارہ بھی قائم کر دیا گیا ہے جس سے فن خطاطی کو ملک میں مزید پزیرائی ملے گی۔ انھوں نے کہا کہ خطاطوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایسی نمائشیں ملک کے دیگر حصوں میں بھی منعقد کی جائیں گی۔اس سلسلے کی پہلی نمائش فیصل آباد میں منعقد ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.