Mirwaiz Umar Farooq APHC Chairman

گوتم نولکھا اور دیگر کی گرفتاری مودی حکومت کی فسطائی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے‘میر واعظ عمر فاروق

سرینگر جدت ویب ڈیسک :مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنمائوں نے ممتاز بھارتی صحافتی اور انسانی حقوق کے کارکن گوتم نولکھا اور دیگر کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بھارتی حکومت کی فسطائی پالیسی کا مظہر قرار دیا ہے۔ گوتم نولکھا بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہے ہیں اور وہ ہندو انتہا پسندجماعتوں کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی پولیس نے گوتم نولکھا، وکیل سدہا براد واج اور ارون فریرا کو منگل کے روز گرفتار کیا تھا جبکہ قبل ازیںشوما سن، رونا ولسن، سدھیرداولی، ان ٹچی چلوال، سرندھرگڈلنگ اور مہیش رٹ کو گرفتار کیاگیا ہے۔حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوںاور آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ اور دیگر کالے قوانین کیخلاف اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کیا جا رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ نریند ر مودی کی حکومت نے سیاسی کے بجائے صرف اور صرف فوجی طاقت کے استعمال کی پالیسی اپنا رکھی ہے ۔ انہوںنے کہ گوتم نولکھا اورارون دھتی رائے کشمیر کے حوالے سے انتہائی سرگرم ہیں لہذا انہیں اور انکے علاوہ جوجو بھارت میں کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے خلاف بات کرتا ہے ،کو ہندو انتہا پسند جماعتوں کی طرف سے نشانہ بنایا جا رہا ہے میر واعظ نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کئی مثبت بیانات دیے جنکا بھارتی حکومت کی طرف سے کوئی خوشگوار ردعمل سامنے نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے پڑھے لکھے لوگ، دانشور اور سو ل سوسائٹی کے ارکان کشمیر کے لیے نہ سہی لیکن ظلم و زیادتی کا نشانہ بننے والے اپنے لوگوں کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ حریت رہنما جاوید احمد میر نے ایک بیان میں کہا کہ گوتم نولکھا کوکشمیریوں کے حق میں آواز اٹھانے پر نشانہ بنایا گیا۔ حریت رہنما غلام احمد گلزار نے ایک بیان میں کہا کہ کشمیری گوتم نولکھا اور ارون دھتی رائے جیسے انصاف پسند بھارتی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ انہوںنے گوتم نولکھا اور دیگر کی گرفتار کی شدید مذمت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.