گنگا میں آلودگی کی سطح خطرناک ،بچانے کی کوشش نہیں ہورہیں،ماہرین

نئی دہلی جدت ویب ڈیسک ماہرین نے کہاہے کہ دریا کوآلودگی اور ان آلائشوں سے خدشات لاحق ہیں جو ہمالیہ سے نکلنے کے بعد سمندر تک کے سفر میں اس میں پھینکی جاتی ہیں۔بھارت کا مقدس دریا گنگا اپنی موت کی جانب بڑھ رہا ہے۔گنگا جب برف پوش ہمالیہ سے نکلتا ہےتو اس کا پانی شفاف ہوتا ہے ۔ لیکن جیسے جیسے وہ آگے بڑھتا ہے اس میں شہروں کا کوڑا کرکٹ، کچرا اور زہر آلود صنعتی فضلہ شامل ہوتا جاتا ہے۔ اور اسے مزید نقصان وہ لاکھوں افراد پہنچاتے ہیں جو اس سے عقیدت رکھتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ماہرین نے کہاکہ چالیس کروڑ افراد کو پانی مہیا کرنے والا دریائے گنگا ، جس سے مذہبی عقیدت رکھنے والوں کی تعداد بھی کروڑوں میں ہے، اس کے باوجود اپنی موت کی جانب بڑھ رہا ہے کہ بھارتی حکومت اسے کئی عشروں سے بچانے کی کوششیں کررہی ہے۔ایک چھوٹے سے پہاڑی قصبے دیو پرایاگ جہاں گنگا دریا کی شکل اختیار کرتا ہے، وہاں کے ایک ہندو راہب لوکیش شرما کا کہنا تھا کہ میں کسی اور مقام پر جا کر آباد ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ مجھے اس احساس سے بڑا سکون ملتا ہے کہ گنگا ماں میرے پاس سے بہہ رہی ہے اور مجھے اس کی آشیرباد حاصل ہے۔شرما کا خاندان اس قصبے میں چار نسلوں سے رہ رہا ہے اور وہ دریا کے قریب واقع مندر کے پجاری ہیں۔ہر روز ہزاروں ہندو اپنے گناہ دھونے کے لیے گنگا میں ڈبکی لگاتے ہیں ۔ ان کا عقیدہ ہے کہ گنگا میں ایک ڈبکی سے ان کی زندگی بھر کے گناہ دھل جاتے ہیں۔ گنگا کا پانی پینے اور فصلوں کی آبیاری کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق گنگا میں سیوریج کا روزانہ تقربیاً 4800 ملین لٹر پانی گرتا ہے ، لیکن اب تک جو ٹرٹمنٹ پلانٹ لگائے گئے ہیں وہ محض ایک چوتھائی پانی ہی صاف کرسکتے ہیں۔ مزید تین چوتھائی پانی کی صفائی کے لیے مزید کتنا وقت اور سرمایہ درکار ہوگا۔ یہ ایک مشکل سوال ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.