گستاخانہ خاکے،مسلم دنیا کو ایک ہونا ہوگا

تاریخ اسلام گواہ ہے کہ مختلف ادوار میں مسلمانوں کو انتہا پسند ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ہر دور میں مسلمانوں پر جنگ مسلط کی گئی اور جب مسلم امہ نے اپنا دفاع کیا تو انہیں دہشت گرد،شدت پسند،عسکریت پسند اور ناجانے کن کن القابات سے نوازا گیا۔حضور ö کے دور کی بات کی جائے،صحابہ کرام ؓکے وقتوں کا ذکر ہو یا اس کے بعدکے ادوار مختلف قوتوں کی جانب سے کسی نہ کسی طرح سے مسلمانوں کو ایزا پہنچانے کی کوشش ہوتی رہی ہے۔تاریخ اس بات کی بھی شاہد ہے کہ مسلمانوں نے جب بھی اپنا دفاع کیا تو تاریخ رقم کی۔مسلم دشمن قوتیں اس بات سے آشنا ہیں کہ مسلمانوں کو جنگی میدان میں شکست دینا انتہائی مشکل کام ہےلہذا ہر دو میں مسلمانوں کے حریفوں نے مسلمانوں کی دل آزاری کے لیے ہمیشہ مذہب کو استعمال کیا۔
حال ہی میں گیرٹ ولڈرزنامی شخص کی جانب سے ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منعقد کروانے کا اعلان کیا گیا۔ ڈچ حکومت نے بھی یہ اعلان کیا کہ گستاخانہ خاکوں کے اس مقابلے میں بذریعہ ای میل بھیجے جانے والے خاکے بھی شامل کئے جائیں گے۔ مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کیلئے یہ مقابلہ سوشل میڈیا پر براہ راست دکھایا جائے گا۔یہ کوئی پہلی بار نہیں کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر کے اقوام عالم کا امن خرا ب کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔کچھ عرصہ پہلے ڈنمارک کے جریدے جیلانڈ پوسٹن کے ایڈیٹر نے بھی اسی قسم کی حرکت کی تھی۔2004میںتھیووین گاف کے نام سے ایک گستاخانہ فلم بنائی گئی۔اس فلم میں قرآن کی توہین کی گئی۔2012 میں بھی ٹیری جانز کی جانب سے ایک گستاخانہ فلم بنائی گئی۔اس کے علاوہ بھی دنیا کی تاریخ ان گستاخیوں سے بھری ہوئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان افراد یا گروہوں کی ایسا کرنے کی ہمت کیوں ہوتی ہے؟لاکھ تحقیق کی جائے تو اس کا ایک ہی جواب ملتا کہ مسلم دشمنوں کی بار بار ایسا کرنے کی جرات صرف مسلمانوں میں اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔مسلمانوں کو اب کی بار مذمت سے ہٹ کر موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔پاکستان کی نو منتخب حکومت نے اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔سینیٹ میں اس بدترین عمل کے خلاف قراردار بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی۔اس حوالے سے یہ بات انتہائی خوشی کی ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود نبی ö کی ناموس کے معاملے پر اپوزیشن اور حکومت ایک پیج پر نظر آئے۔ناصرف یہ
بلکہ اقلیتی اراکین نے بھی اس معاملے پر حکومتی موقف کی تائید کی۔ وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان ن گستاخانہ خاکوں کے معاملہ کو مسلم دنیا کی ناکامی قرار دیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمو د قریشی نے ڈچ وزیرخارجہ کو اس معاملے کی حساسیت سے آگاہ کیا،میڈیا بریفنگ میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہالینڈ کے وزیرخارجہ سے ان کی فون پر بات ہوئی ہے، انہوں نے ہالینڈ کے وزیرخارجہ تک مسلمانوں کے جذبات پہنچائے ہیں، جس پر ہالینڈ کے وزیرخارجہ نے کہا کہ اس عمل سے اگر آپ کو تکلیف ہوئی تو قانونی راستہ اختیار کریں۔وزیرخارجہ نے یہ بھی بتایا کہ ہالینڈ حکومت نے مقابلوں سے لاتعلقی کااظہارکیا ہے، ڈچ وزیرخارجہ نے کہا مقابلے فرد واحد کی حرکت ہے۔
پاکستان سمیت مسلم دنیا کے ہر ایک ملک پر اب فرض ہوگیا ہے کہ وہ اپنے نبی ö کی ناموس کے معاملے پر ڈٹ جائیں۔تمام مسلمان ممالک کو ابتدائی طور پر ہالینڈ سے سفارتی تعلقات منقظع کرنا ہوں گے۔احتجاجی طور پر تمام ممالک کو اتحاد کا مظاہرہ کرتےہوئے ہالینڈ کے سفیروں کو اپنے ملکوں سے واپس بھیجنا ہوگا اور اپنے سفیروں کو وطن واپس بلانا ہوگا۔ظاہری طور پر شاید ایسا کرنا جذباتی فیصلہ نظر آئے لیکن ایمان کا تقاضہ یہی ہے۔ساتھ ہی اس بات کو بھی مسلم دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ کسی ایک آدھ ملک کے ایسا کرنے سے گستاخانِ محمد ö اور ان کے ملکوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا لیکن اگر تمام مسلم ممالک اس بات پر متفق ہوجائیں گے تو آزادی اظہار رائے کہ نام پر دنیا کا امن تباہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے۔
ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں بھی مسلمان ممالک کو اس بات پر یک آواز ہونا ہوگا اور اس بات پر زور دینا ہوگا کہ شان رسالتö مسلمانوں کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔مسلمان کسی صورت بھی کسی بھی نبی کریم öکی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتے۔مسلم ممالک کے سربراہان کو اس بات پر زور دینا ہوگا کہ اقوام متحدہ کے تحت ایسی قانون سازی کی جائے جس کے تحت کسی بھی نبی کی شان میں گستاخی کرنے والے کو مجرم اور اس کے اس عمل کو دہشت گردی تصور کیا جائے گا۔اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کے خلاف اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی اور اسے اس دہشت گردی کی سزا دی جائے گی۔مسلم ممالک کو یہ بات بھی منوانا ہوگی کے اقوام عالم کا امن قائم رکھنے کیلئے انبیا ئاکرام ؑکے
گستاخوں کو لگام دینا ناگزیر ہے۔
اگر مسلمان ممالک اس بات پر متحد ہوگئے تو مستقبل میں کسی کی مجال نہ ہوگی کے وہ اس قسم کی مذہبی دہشت گرد ی سے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرے اور انہیں تکلیف پہنچائے۔خدانخواستہ اگر مسلمانوں کےیہ جائز مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا تو مسلم ممالک کو دنیا کو یہ بتانا ہوگا کہ نبی ö کی شان کے دفاع کے لئے وہ کسی بھی ملک سے ہر قسم کے تجارتی تعلقات بھی ختم کرسکتے ہیں۔اگر مسلمان ممالک کے سربراہ اس فارمولے پر متحد ہوگئے تو پھر کسی کی ہمت نہ ہوگی کہ وہ نبیö یا کسی بھی نبی کی شان میں گستاخی کرے۔اگر کسی شیطان صفت فرد کی جانب سے ایسا کیا بھی گیا تو مسلم دنیا کے اتحاد کے آگے اس کے ملک کو گھٹنے ٹیکنا ہوں گے اور اسے سزا دینا ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.