کے-الیکٹرک سے متعلق معاہدہ سعودی سرمایہ کار، معاون خصوصی کے تنازع کا شکار

اسلام آباد: ویب ڈیسک ::سعودی سرمایہ کار شیخ عبدالعزیز حماد الجمیح اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے سرِ عام ایک دوسرے پر مفادات کے تصادم اور ریاست اور کراچی کے بجلی صارفین سے فرار کے الزامات عائد کیے۔رپورٹ کے مطابق یہ ڈرامائی موڑ کے الیکٹرک اور سرکاری اداروں میں دسیوں ارب کے ہوئے تصفیے کو روک سکتا ہے۔
وزیراعظم کو ارسال کردہ ایک خط میں عبدالعزیز الجمیح نے کہا کہ ان کے گزشتہ ماہ دورہ پاکستان کے دوران انہیں سابقہ اور ان کی کابینہ کے اراکین کی جانب سے تصفیے کے حوالے سے واضح طور پرسمجھ ملی تھی۔
ساتھ ہی شکایت کی کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی (تابش گوہر) کی جانب سے سمجھوتے کی دستاویز پر آخری لمحات میں دیے گئے منفی تبصرے نے شنگھائی الیکٹرک کے کے-الیکٹرک کا انتظام سنبھالنے کو خطرات سے دوچار کردیا ہے۔
تاہم تابش گوہر نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ معاون خصوصی کی حیثیت سے وہ ریاست اور صارفین کا دفاع کرنے کے پابند ہیں اور وہ بغیر کسی جانبداری کے قومی مفاد کا تحفظ کریں گے۔
عبدالعزیز الجمیح کا کہنا تھا کہ انہیں یقین دہانی کروائی گئی تھی 15-16 مارچ کو ان کے دورہ پاکستان کے دوران انہیں یقین دہانی کروائی گئی زیر التوا مسائل کا حل شنگھائی الیکٹرک کے کے-الیکٹرک میں طویل عرصے سے التوا کا شکار داخل کی راہ صاف کریں گے۔
وزیراعظم کو ارسال کردہ خط میں انہوں نے مزید کہا کہ مجھے آپ سمیت سب نے یقینی دہانی کروائی تھی کہ تنازع کے حل کی ایک دستاویز جسے تمام اسٹیک ہولڈرز نے طویل مرحلے کے بعد حتمی شکل دی ہے وہ وزیراعظم دفتر سے منظوری کے آخری مرحلے میں ہے۔
عبدالعزیز الجمیح نے الزام عائد کیا کہ تابش گوہر کا کے-الیکٹرک کے معاملات میں مفادات کا تصادم ہے لہٰذا تبادلہ خیال کے دوران ان فریقین کی مناسب نمائندگی کو یقینی بنانے کی ہرممکن کوشش کی گئی جو مضبوط اور تنازعات سے پاک دلچسپی رکھتے تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بات چیت میں تابش گوہر کو اس لیے شامل نہیں کیا گیا تھا کیوں کہ وہ کے الیکٹرک کے سابق چیف ایگزیکٹو افسر اور چیئرمین رہ چکے ہیں اس لیے جہاں کے الیکٹرک دوسرا فریق تھا وہاں وفاقی حکومت کے مفاد کی مناسب نمائندگی کے لیے وہ موزوں نہیں تھے۔
سعودی سرمایہ کار نے الزام عائد کیا کہ معاون خصوصی کو 10 مارچ کو کے-الیکٹرک کے تمام بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی بریفنگ میں شرکت کی دعوت دی گئی حالانکہ وہ بات چیت کے عمل میں شامل نہیں تھے ۔خط میں کہا گیا کہ انہوں نے سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاروں کو مایوس کرنے کے لیے خاص طور سے پورے یقین سےیہ کہا کہ حکومت اپنے اور کے الیکٹرک کے لیے منصفانہ طور پر زیر التوا مسائل حل کرنے سے قاصر ہے اور اس کے جلد حل کی توقع نہیں کرنی چاہیئے اور الزام لگایا کہ یہ بدنیتی کے ارادے سے کیا گیا اور اس کے بعد میڈیا میں منفی بات کی گئی۔
مذکورہ الزمات پر ردِ عمل دیتے ہوئے تابش گوہر کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ 2005 سے 2009 تک کے الیکٹرک کے سی ای او رہے ہیں صرف اس وجہ سے مفادات کا تصادم نہیں ہوتا کیوں کہ اس وقت ان کا بلا واسطہ یا بلواسطہ طور پر کے الیکٹرک میں کوئی معاشی فائدہ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شنگھائی الیکٹرک کے انتظام سنبھالنے کا مطلب یہ ہے کہ دسیوں ارب روپے کی واجب الادا رقوم اور جرمانوں کو منسوخ کرنا، وفاقی حکومت کے فیصلے کے خلاف بجلی کی خریداری کا غیر تجارتی بنیاد پر معاہدہ کرنا، صارفین کے لیے مزید نرخوں اور سرچارج میں اضافے پر رضامند ہونا وغیرہ وغیرہ، یہ ہر ایک کے لیے اہم ہے کہ کم از کم مضمرات سے آگاہ ہوں۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ شنگھائی پاور کو منتقلی اکتوبر 2016 سے زیر التوا ہے جو واضح کرتی ہے کہ مجوزہ شرائط و ضوابط میں کچھ بنیادی طور پر غلط ہےکہ 2 حکومتیں اور متعدد بیوروکریٹس اب بھی اسے قبول کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ کے-الیکٹرک کے شنگھائی الیکٹرک کے پاس جانے کے حق میں تھے اور تجویز دی تھی کہ مجوزہ منتقلی کو تیز کرنے کے لیے سی پیک کی چھتری تلے کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.