کھانا کھائیں بیماریاں ساتھ لے جائیں،اسٹوڈنٹ بریانی کی نئی آفر

کراچی جدت ویب ڈیسک کراچی معروف فوڈ چین اسٹوڈنٹ بریانی میں پاڈے اور بھینس کے گوشت کا استعمال‘ خفیہ کچن میں تیار ہونے والی اسٹوڈنٹ بریانی فرنچائز نیٹ ورک معیار کو بر قرار رکھنے میں ناکام ہوچکے ہیں‘ تفصیلات کے مطابق کراچی میں لائنزایریا پر ٹھیلے پر فروخت ہونے والی معروف بیف بریانی اسٹوڈنٹ کسی دور میں معیاری اور ذائقے دار بریانی کے طور پر جانا جاتا تھا‘ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کاروبار میں وسعت آنے کی وجہ سے اسٹوڈنٹ بریانی نہ صرف معیار کھو چکی ہے‘ بلکہ وہ ذائقہ بھی نہیں رکھتی جو دو سے تین دہائی قبل ہوا کرتا تھا‘ شہر بھر اور ملک بھر میں فرنچائز قائم کی گئی ہیں مگر اکثریت فرنچائز اسٹوڈنٹ بریانی کے معیار کو بر قرار رکھنے میں قطعی طور پر ناکام ہوچکی ہے‘ بلکہ بے پناہ فرنچائز غیر تجربہ کار لوگوں کو دی گئیں‘ جبکہ اربوں روپے فرنچائز کی مد میں وصول کیے گئے ‘ اسٹوڈنٹ بریانی کی انتظامیہ شہر میں کروڑوں روپے کی جائیدادیں بنا چکی ہے‘ مگر معیار کو خاطر میں نہ لانا ایک عام سی بات نظر آرہی ہے‘ اسٹوڈنٹ بریانی میں کسی دور میں گائے یعنی بچھیا کے گوشت کا استعمال کیا جاتا تھا‘ کیونکہ کراچی میں قصاب مافیہ بڑے پیمانے پر گوشت کے نام پر بھینس اور پاڈے کا گوشت فروخت کررہے ہیں جس کی وجہ جانوروں کا بے پناہ مہنگاہ ہوجانا اور منافع خوری بتایا جاتا ہے ‘ ذرائع کے مطابق اسٹوڈنٹ بریانی کی بے شمار فرنچائز پر ناقص مرغی کا گوشت بھی استعمال ہورہا ہے‘ مہنگے ترین نرخ رکھنے کے باوجود اسٹوڈنٹ بریانی نے اپنے معیار کو کسی حد خیر آباد کہہ دیا ہے‘ لائنز ایریا پر اسٹوڈنٹ بریانی کے آبائو اجداد جب ٹھیلے پر بریانی فروخت کرتے تھے تو معیاری گوشت اور ذائقے کی ضمانت ہوتی تھی‘ مگر وقت اور حالات بدلنے کے بعد کروڑوں روپے دیکر حاصل کیے جانے والے فرنچائز اور صدر میں عالی شان عمارت پر قائم ہونے والی اسٹوڈنٹ بریانی کا وہ معیار ہرگز بر قرار نظر نہیں آتا‘ ڈاکٹروں کے مطابق بیمار بھینس اور سنڈے کا گوشت کا استعمال سے کینسر‘ بلڈ پریشر‘ ڈائے بیٹک اور دیگر جان لیوا بیماریوں میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا ہے‘ ناقص گوشت اور ناقص اجزاء کے استعمال کی وجہ سے عام شہریوں میں بیماریوں نے جنم لینا شروع کردیا ہے‘ بلکہ صارف ایسی جگہ کھانے سے گریز کرے جہاں پر صحت کے اصولوں کے مطابق معیاری کھانا تیار نہیں کیا جاتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.