FC, intelligence agencies operation in Quetta

کوئٹہ ایف سی اور پولیس کا پشتون آباد میں آپریشن‘ گھر گھر تلاشی

کوئٹہ جدت ویب ڈیسک سےکٹر کمانڈر فر نٹےئر کور کوئٹہ بر ےگیڈےئر تصور عباس نے کہا ہے اےف سی اور پولیس نے ضلعی انتظا مےہ کے ساتھ ملکر پشتون آباد کوئٹہ میں اےک روزہ آپرےشن سینیٹائزیشن کا آغاز کر دیاہے جس میں علاقے کے 3000گھروں کی تلاشی لی جائے گی ،آپریشن میں پولیس اور اےف سی کے8سو اہلکار حصہ لے رہے ہیں جبکہ اس دوران علاقے میں آمد و رفت معطل ر ہے گی عوامی سہولت کے لئے علاقے میں میڈیکل کےمپ قائم کئے گئے ہیں، ےہ بات انہوں نے اتوار کو اےف سی سےکٹر آفس کوئٹہ میں پر یس کانفرنس کر تے ہوئے کہی ،اس موقع پر ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عبدالرزاق چےمہ اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ فرخ عتےق بھی موجود تھے ،سےکٹر کمانڈر بر ےگیڈ ےئر تصور عباس نے کہا کہ کلی دےبہ کی طرز پر پشتون آباد کے علاقے میں بھی ایک روزہ آپرےشن کا آغاز کیا گیا ہے جسے آپریشن (ڈےلٹاII)کا نام دیا گیا ہے ا س آپریشن میں پولیس ، اےف سی کی غزاءبند اسکاﺅٹس او ر چلتن رائفلز ،ضلعی انتظا مےہ حصہ لے رہی ہیں جبکہ آپریشن کے مثبت نتائج مر تب کر نے کے لئے علاقے کے اراکین اسمبلی،علاقہ و قبا ئلی معتبر رےن کو بھی اعتما د میں لیا ہے ،انہوں نے بتا ےا کہ پشتون آباد میں 3ہزار گھر ہیں جن کی آبادی 23ہزار کے قرےب ہے اور علاقے کا رقبہ دےڑھ کلو میٹر طویل ہے علاقے کو مکمل طور پر سیل کیا گیا ہے تاہم موبائل سروس کو معطل نہیں کیا گیا انہوں نے بتا یا کہ اس علاقے کا تعلق براہ راست مری آباد کی سےکورٹی سے منسلک ہے ، آپریشن کے دوران علاقے کو 4مین اور 8سب سےکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے آپریشن میں کل120ٹےمیں حصہ لے رہی ہیں جن میںہر سرچنگ ٹےم میںاےف سی کے 3،پولیس کے 2اور اےک لیڈی سر چر شامل ہو ں گی ،انہوں نے کہا کہ علاقے میں 4میڈ یکل کیمپ قائم کئے گئے ہیں جن میں میل کے ساتھ ساتھ 8لیڈی ڈاکٹر بھی موجود ہیں اور قانونی مد د کے لئے 4مجسٹرےٹ کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں ،ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے کہا کہ پشتون آباد آپریشن میں پولیس کے 277افسران اور اہلکار حصہ لے رہے ہیں پولیس کا کام عوام کو تحفظ کا احساس دلانا ہے جس کے لئے ہم ہمہ وقت کوشاں ہیں کوئٹہ میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے بعد پولیس کی دہشتگردوں کی سرکوبی کے لئے کاروائیاں جاری ہیں تاہم انکی تفصےلا ت اس وقت منظر عام پر نہیں لا سکتے انہوں نے کہا کہ دہشتگرد پولیس کو ڈی مورالائز کر نا چاہتے ہیں ڈیوٹی کے دوران شہادت ہمارے کا م کا حصہ ہے ہم نہ پہلے کبھی دہشتگردی اور دھمکیوں سے مر عوب ہو ئے اور نہ آئندہ کبھی کمزور ہونگے انہوں نے کہا کہ سیف سٹی منصوبہ حکومت کے پاس ہے اس پر حتمی فےصلہ حکومت نے کرنا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پولیس کے افسران کو جہاں محسوس ہوتا ہے کہ انہیں بلٹ پروف گاڑیاں دی جانی چائےے وہا ں انہیں فراہم کی جاتی ہیں ہمارا کام فیلڈ میں رہتے ہوئے عوام کی حفاظت کرنا ہے اور ہم اس کام کو پوری جانفیشانی سے انجام دے رہے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.