کسی کی مجبوری کا فائدہ بھی نہیں اٹھانا چاہیے‘چیف جسٹس ثاقب نثار نے کیسے غریبوں کے دل جیت لئے‘ جانئے

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک سپریم کورٹ میں جان بچانے والی ادویات مہنگے داموں فروخت کرنے سے متعلق کیس کے دور ان چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ادویات ربڑی تھوڑی ہے جس کا دل چاہے اس قیمت پر فروخت کی جائے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران وکیل رشید اے رضوی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کو برقرار رکھنے کیلئے مختلف عدالتوں سے حکم امتناعی لیا گیاجس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہر چیز میں اضافہ میں اضافہ ہورہا اور مہنگائی بھی بڑھ رہی ہے اور ادویات کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ادویات ربڑی تھوڑی ہے جس کا دل چاہے اس قیمت پر فروخت کی جائے اگر ادویات کی قیمتیں بڑھنے کا کوئی طریقہ کار ہے تو اس کا جائزہ لے لیتے ہیں ٗ کسی کی مجبوری کا فائدہ بھی نہیں اٹھانا چاہیے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر کی ادویات بنانے والی کمپنیوں سے محبت ہوتی ہے اور ڈاکٹر بھی وہی دوائی تجویز کرتے ہیں جس کمپنی سے انہیں محبت ہوتی ہے۔سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس اور وکیل رشید اے رضوی کے درمیان مکالمہ بھی ہوا۔وکیل رشید اے رضوی نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے خصوصی بینچ تشکیل دے دیا ہے ٗ آپ سندھ ہائی کورٹ کو ایک ماہ میں ادویات سے متعلق زیر التوا مقدمات نمٹانے کا حکم دیں۔انہوں نے کہا کہ عدالت نے کیس سننا ہے تو کیس کی تیاری کیلئے سماعت منگل تک ملتوی کردیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ رشید رضوی صاحب جیسے آپ کہتے ہیں ویسے کرلیتے ہیں، پھر کچھ دن کے لیے تو ہم سے محبت کریں گے۔بعد ازاں عدالت نے جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت 27 فروری تک ملتوی کردی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.