کرنسی مارکیٹ میں کالی بھیڑوں پر نظر رکھی جائے‘میاں زاہد حسین

کراچی جدت ویب ڈیسک پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سیکریٹری جنرل اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کسی کوبھی موجودہ سیاسی بے یقینی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہ دی جائے۔ بعض عناصر راتوں رات کروڑوں روپے کمانے کیلئے مقامی کرنسی کی قدر سے کھیلنے کی کوشش کر سکتے ہیں اس لئے کرنسی مارکیٹ میں موجود کالی بھیڑوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکمران جماعت اور حزب اختلاف نے سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کیا جبکہ ملک بھر میں عدالتی فیصلے کے حق میں یا اسکے خلاف کوئی خاص ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا جو خوش آئند ہے کیونکہ اس سے کاروباری برادری کا خوف کم ہوا ہے اور گزشتہ چار سال سے معیشت کو بہتر بنانے کی کوششیں ضائع ہونے سے بچ گئیں۔ انھوں نے کہا کہ صورتحال کو نارمل بنانے کیلئے جلد از جلد اقدامات کی ضرورت ہے جبکہ معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کی سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے ورنہ آئی ایم ایف سے مزید قرضہ لینا پڑے گا۔ گزشتہ سال ایف بی آر اپنا ہدف حاصل نہیں کر سکاجبکہ برآمدات، ترسیلات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی صورتحال بھی قابل اطمینان نہیں ہے۔ سرکاری کارپوریشنز اور پاور سیکٹر میں حقیقی اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری خزانے پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑا ہے جبکہ توانائی کا شعبہ اب بھی اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں ہے جسکی وجہ سے آئی ایم ایف نے امسال پانچ سو ارب روپے کے اضافی محاصل عائد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ درآمدات 53 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں جس سے گزشتہ سال کا تجارتی خسارہ 33 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جبکہ جاری حسابات کا خسارہ 148 فیصد اضافے کے ساتھ بارہ ارب سے زیادہ ہو گیا ہے جو 2015-16 میں پانچ ارب ڈالر تھا۔ اس صورتحال میں زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنا مشکل ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں معمولی استحکام زر مبادلہ کے باقی ماندہ ذخائر کو چاٹ جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.