کراچی کی آواز ……بلدیاتی اداروں کو اختیارات دو

کراچی کے عوام اسوقت انتہائی دگرگوں حالات سے گزرت رہے ہیں ۔ سیوریج، پانی، کچرا، سڑکوں ، فٹ پاتھوں ، پارکوں کی حالت زار صرف اسوجہ سے درست نہیں ہے کہ فنڈز کی کمی ہے اختیارات کا نہ ملنا ہے ۔ وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ مسائل کی اتنی فروانی ہے کہ اربوں روپے صرف کچرے کی صفائی ، سڑکوں کی مرمت کے لئے درکار ہیں ۔ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے نظام میں سٹی ناظم کو نہ فنڈز کی کمی تھی نہ اسکے مد مقابل کوئی نظام موجود تھا۔لیکن اسوقت کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے پاس نہ فنڈز ہیں نہ اسکے ریسورسز بڑھانے کے لئے اختیارات ہیں۔ کراچی جیسے بین الاقومی شہر کو میونسپل کمیٹی جیسی حالت کا سامنا ہے۔ ۰۱ سال پہلے کراچی کی مثالیں دی جاتی تھیں کہ ترقی دیکھنی ہے تو کراچی کو دیکھو۔ جہاں جدت پسندی عروج پر تھی اور عوام کو ہر سطح پر سہولتوں کے جال بچھا دیئے گئے تھے۔ ہارٹ ڈیزیز کے جگہ جگہ سینٹرز بھی اسی وقت کے ہیں ۔ لیکن اسوقت وہاں دوائیں نہیں ہیں ۔ عباسی شہید اسپتال جیسے مثالی اسپتال کی حالت دگرگوں ہے۔ اسکی وجہ بلدیاتی قیادت کی نا اہلی ہرگز نہیں بلکہ انکو فنڈز کی تقسیم نہ کرنا اور انہیں وسائل سے محروم کرنا ہے۔ شہر کا حال سابق حکمرانوں نے ایسا کردیا ہے کہ کراچی میں لگتا ہی نہیں کہ کبھی ترقی ہوئی تھی۔ یہ شہر مثال رہا ہے؟ جبکہ کراچی کی اس وقت صورتحال یہ ہے کہ منتخب قیادت بلدیاتی اداروں میں موجود ہے۔ لیکن سندھ میں پاکستان کے قیام کے بعد سے ابتک مختلف ادوار گزر جانے کے باوجود اسوقت کمزور ترین بلدیاتی حکومت ہے جس کے پاس اختیارات میونسپل کمیٹی جیسے ہیں۔ ’’میٹروپولیٹن کارپوریشن‘‘ کہلانے کے باوجوداختیارات نا پید ۔ کراچی کی تاریخی عمارت کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن جسکے اوپر بلدیاتی کوئی اتھارٹی نہیں تھی۔ بلکہ کے ایم سی میونسپل کمیٹی ہونے کے ناطے با اختیار تھی اور اسکے وسائل دلفریب تھے۔ جوں جوں شہر بڑھتا گیا اسکا درجہ بلند ہوتا گیا۔ بڑی بڑی شخصیات اس ادارے سے منصوب رہیں۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی اس ادارہ کی اہمیت تھی۔ کراچی کے اس بلدیاتی ادارہ کاسربراہ ایک ٹرن ہندو اور ایک ٹرن مسلمان ہوتا تھا۔ جب پاکستان بنا تو مسلمان سربراہ کی ٹرن تھی۔ کراچی کی تاریخی اہمیت سے کبھی انکار نہیں جا سکتا۔ لیکن اسوقت اسی تاریخ کے دوراہے میں دیکھا جائے تو بلدیہ عظمی کراچی کے اختیارات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ میئر کراچی جو شہر کا بادشاہ تھا۔ بابائے شہر تھا اسے محدود اختیارات کے ساتھ ساتھ کراچی کے ہر منصوبے سے الگ کردیا گیا ہے۔ کراچی پر میئر شپ کا راج مزہبی جماعتوں کے پاس بھی رہا ہے ۔ ۷۸۹۱ تک جماعت اسلامی، جے یو پی اوردیگر جماعتیں کے ایم سی پر حکمرانی کرتی رہیں۔ بلدیاتی الیکشن ہمیشہ فوجی دور اقتدار میں ہوئے ۔ جمہوری حکومتوں نے اس بنیادی ادارے لوکل گورنمنٹ کو نظر انداز کیا۔ پاکستان میں پہلی بار جمہوری حکومت کے دور میں الیکشن تو ہوئے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ہوئے ۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے جمہوری حکومتوں کو مجبور کیا کہ وہ الیکشن کرائیں۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے پر زبردستی عمل کرنے والی جمہوری حکومتوں نے اپنا رنگ دکھا دیا۔ دسمبر ۵۱۰۲ میں ہونے والے الیکشن ۰۳ اگست ۶۱۰۲ کو سندھ میں جبکہ ایک سال بعد پنجاب میں مکمل ہوئے۔ جبکہ پورے ملک میں بلدیاتی نظام ایک جیسابھی نہیں ہے۔ مشرف کا تاریخی بلدیاتی نظام جسے بغض معاویہ میں کچل کر رکھ دیا گیا۔ دراصل عوام کی امنگوں کے مطابق نظام تھا۔ جس میں عوام کی اپروچ آسان اور ون ونڈو آپریشن جیسی سہولتیں میسر آگئیں تھیں۔ صرف سندھ کی مثال لی جائے تو، نواب شاہ، دادو، ٹنڈو الہ یار، مٹیاری، جامشورو، ٹنڈو محمد خان، میر پور خاص، نوشہروفیروز، گھوٹکی سمیت ۴۲ اضلاع میں علاقوں کا اسٹینڈرڈ اپ گریڈ ہوا یہاں ڈسٹرکٹ گورنمنٹ قائم ہوئیں۔ ہر کام انکا انہی کے علاقے میں ہوجاتا تھا۔ لیکن اس سسٹم کے خاتمے کے بعد وہ دور دراز شہروں میں عوام بھٹک رہے ہیں۔ کراچی سمیت شہری علاقوں میں بھی ترقی میں اضافہ ہوا۔ ۔ فنڈز بے پناہ خرچ ہوئے۔ کراچی پر ۰۰۵ ارب سے زیادہ کے اخراجات ہوئے اور شہر بین الاقوامی اہمیت و شہرت حاصل کرگیا۔ کراچی کی اس ترقی کوبین الاقوامی طور پر بھی تسلیم کیا گیا۔ ۰۱۰۲ کے آغاز میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے اس نظام کو مشرف کانظام کہ کر اپنے وڈیرانہ نظام کی بحالی کے لئے سسٹم ختم کرکے ڈپٹی کمشنرز کا نظام بحال کردیا۔ شہری علاقوں میں رد عمل پر ایم کیو ایم کے ساتھ ملکر نیا نظام بنایا گیا لیکن پی پی پی نے قوم پرستوں کو استعمال کرکے یہ نظام لپیٹ دیا۔ اس اسمبلی کی ٹرن میں کئی مرتبہ کئی بل منظور کئے گئے۔ جو بدترین جموری حکومت کی بدترین ذہنیت کے عکاس تھے۔ حیرت انگیز امر ہے کہ مشرف سے متاثرہ نواز شریف کی حکومت نے اس نظام کوابتک اپنایا ہوا ہے اور صرف تھوڑی سی ترمیم کرکے کمشنر کے ماتحت ڈی سی او کو کردیا اور اب ڈی سی او کی جگہ ڈپٹی کمشنرز کردیئے گئے ہیں۔ لیکن ای ڈی او سمیت تمام محکمے موجود ہیں۔ جبکہ مشرف سے حلف لینے والے اور اسے سیف پیسیج دینے والی پیپلز پارٹی نے بلدیاتی نظام کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کا بیڑا غرق اسوقت کے وزیر اعظم نواز شریف حکومت نے کیا جب ۲۹۹۱۔۳۹۹۱ میں آکٹرائے بلدیہ عظمی کراچی سے چھین لیا گیا۔ کے ایم سی کو آج تک اسکا شیئر ٹھیک نہیں مل رہا ہے ۔اس میں اضافہ بھی نہیں کیا گیا ہے۔۔ اتنے ادوار گزر جانے کے باوجود اب تک اس شیئر کو ریوائس نہیں کیا گیا۔ واضع رہے کہ یہ وہی بلدیہ عظمی کراچی تھی جس نے آکٹرائے اپنے پاس ہونے کے بعد ۲۹۹۱ کے آپریشن کے اخراجات میں سندھ حکومت کی مدد کی۔ ۷۸۹۱ میں میئر کراچی ڈاکٹر فاروق ستاربنے تو حیدرآباد کی میونسپل کارپوریشن جو شدید مالی بحران کا شکار تھی۔ اسے تین کروڑ کی گرانٹ بلدیہ عظمی کراچی نے دی۔ ۱۰۰۲ کے نظام میں کراچی سمیت پورے ملک میں گراس روٹ لیول نظام کے ذریعے ترقیاتی کاموں کی بوچھاڑ ہوئی۔ سی سی بیâسٹیژن کمیونٹی بورڈ á بنائے گئے جس میں شہریوں کی شراکت کرکے منصوبے مکمل کئے گئے۔ ہر سطح پر کام ہوئے۔ اس نظام میں مختلف محکمے جس میں سوشل ویلفیئر، لیبر، کوو آپریٹیو، کلچر، لینڈ تمام سائٹس، ریونیو، لٹریسی، کمیونٹی ڈیولپمنٹ، پلاننگ، آئی ٹی، انویسٹمنٹ اینڈ پروموشن اور مختلف شعبے ملنے کے علاوہ ڈومیسائل، پی آر سی، اسلحہ لائسنس بھی سٹی گورنمنٹ سے مل رہا تھا عوام کو ون ونڈو آپریشن کی سہولت تھی۔ جس سے ون اسٹیپ پر مسائل کا حل ممکن ہوا۔ ۰۱۰۲ میں سیاسی فیصلوں کے نتیجے میں ۸ سال میں دوبارہ کمشنری نظام بحال کیا گیا۔ جو اختیارات ۹۷۹۱ کے بوسیدہ نظام میں تھے وہ بھی میئر کراچی کو نہیں دیئے گئے۔ پنجاب میں بھی اختیارات کا مسئلہ ہے لیکن دونوں حکومتیں ایک ہونے کی وجہ سے مسائل اس طرح نہیں ہیں جیسے سندھ بالخصوص کراچی میں ہیں۔۔ جبکہ میئر کراچی کو میئر بننے سے پہلے ماسٹر پلان ، سولڈ ویسٹ، ڈیولپمنٹ، کے ڈی اے، سوشل ویلفیئر، کلچر، لوکل ٹیکس، ایجوکیشن، صحت،واٹر سیوریج بورڈ کی چیئرمین شپ، کے ڈی اے کی گورننگ باڈی، ایم ڈی اے، ایل ڈی اے میں نمائندگی، گریڈ ۸۱ تک کے تبادلے و تقرری کے اختیارات سب چھین لئے گئے ہیں۔ خصوصی گرانٹ سے بھی محروم کردیا گیا ہے۔ کراچی کے اختیارات پر سندھ حکومت کا رویہ متعصبانہ نظر آتا ہے۔ وزیر علی سندھ کسی صورت اختیارات دینے کو تیار نہیں۔ گیا ہے۔ کراچی میں چپقلش سے کراچی کی بے رونقی بڑھ رہی ہے میئر کراچی نے دستیاب وسائل سے سو روزہ مہم اور شہر سے کچرا اٹھانے کا کام بھی کیا ہے۔جبکہ سولڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈ کی ذمہ داری کچرا اٹھانا ہے جو وہ سر انجام نہیں دے رہے۔ کے ایم سی اور ڈی ایم سیز لاوارث نظر آتی ہیں ۔ اداروں کے ساتھ سیاست سندھ حکومت کی عصبیت پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتی ہے ۔ صرف سندھ میں میئر کراچی کو اتنا بے اختیار کیوں کیا گیا ہے؟ ایم کیو ایم پاکستان سپریم کورٹ اختیارات کے لئے جا چکی ہے جس میں میئر کراچی فریق ہیں۔ سپریم کورٹ اس پر بہتر فیصلہ لے سکتی ہے کیونکہ سپریم کورٹ بھی سارا تماشا دیکھ رہی ہے۔ ہماری یہی رائے ہے کہ حکومت سندھ فوری ترمیم کرکے میئر کراچی کو تمام اختیارات اور محکمے دے ورنہ اسکے نتائج اچھے برامد نہیں ہوں گے۔ یہ عوام کو براہ راست متاثر کرنے کا عمل ہے ۔سپریم کورٹ کے سوموٹو نوٹس کی بھی اشد ضرورت ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.