کراچی میں گھوسٹ شہری

2001 کے بعد گھوسٹ کی اصطلاح سامنے آئی اور چھا گئی شہریوں سمیت مجھے بھی ابتدائ میں اس لفظ کو سمجھنے میں کچھ دشواری پیش آئی کہ کسی ادارے میں گھوسٹ کا کیا کام، جسے اردو میں بھوت کہا جاتا ہے،بھوت، آسیب کا بسیرا بیابانوں یا ویران جگہوں پر تو سنا ہے مگر انسانوں کے جنگل میں اس لفظ کا استعمال جس نے بھی کیا خوب کیا،اردو کی جدید انگریزی شکل کے لحاظ سے یہ درست لگا، لیکن اس لفظ کے معنی 17 سال بعد سمجھ میں آرہے ہیں، اخباروں میں 17 سال سے پڑھتے آ رہے ہیں کہ فلاں محکمے میں گھوسٹ ملازمین ہیں جیسا کہ پہلے کہہ چکا ہوں کہ جب پہلی مرتبہ یہ لفظ پڑھا تو میں سمجھا کہ کیا شاید بھوت بھی ملازمتیں کرنے لگے ہیں اور شاید ہمارے ملک نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ اسکے پاس گھوسٹ پیما بھی آگیا،جو بھوتوں کی موجودگی کی اطلاع دے دیتا ہے اور سب سے دلچسپ امر یہ سامنے آیا کہ یہ گھوسٹ سرکاری اداروں میں تنخواہ دار ملازمتوں پر فائز ہیں جو دکھائی نہیں دیتے ہیں مگر تنخواہ وقت پر وصول کرتے ہیں،وقت کے ساتھ سمجھ میں آیا کہ گھوسٹ کا مطلب سرکاری اداروں میں ایسے ملازمین کو کہا جاتا ہے جو ملازمتیں حاصل کر لیتے ہیں مگر ملازمتوں پر آتے نہیں ہیں اور افسران کی ملی بھگت سے تنخواہیں وصول کرتے رہتے ہیں لیکن گھوسٹ لفظ کا استعمال اردو زبان کے لحاظ سے دماغ میں پیوست ہونے کو تیار نہیں ہوا اور بار بار یہ ہی سمجھ میں آیا کہ اس لفظ کی جگہ اردو کا خالص استعمال ہونا چاہیئے تھا انگریزی کے اس خوفناک مخلوق سے مناسبت رکھنے والے لفظ کے استعمال کو کبھی سمجھ کے قریب اور کبھی دور پایا،اردو میں گھوسٹ ملازمین کی جگہ غائب ملازمین یا عندالطلب ملازمین کا استعمال بھی کیا جا سکتا تھا کیونکہ یہ وہ نظروں سے اوجھل ملازمین ہوتے ہیں جو غائب ہیں تو حاضر کئے جاسکتے ہیں اور عندالطلب یعنی جب انہیں طلب کیا جائے، آ ٹپکیں گے پھر انگریزی کے ایسے لفظ کو کیوں استعمال کیا گیا جو مافوق الفطرت مخلوق کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جو ہر کوئی طلب یا ظاہر نہیں کر سکتا، 17 سال بعد کراچی کی مردم شماری کے نتائج سامنے دیکھ کر اس لفظ کو چومنے کا دل چاہا پہلی مرتبہ اس لفظ سے محبت جاگی اور سمجھ میں آیا کہ اس لفظ کے علاوہ دوسرے لفظ کا استعمال بالکل غلط ہوگا کیونکہ یہ لفظ کراچی کی مردم شماری پر مکمل طور پر فٹ ہے،ادارہ شماریات سمیت حکومت وقت نے ثابت کر دیا کہ گھوسٹ ہوتے ہیں اور انہیں شمار نہیں کیا جاتا اور کراچی میں ان کی آبادی 50 لاکھ سے بھی زائد ہے، جنھیں حاضرکرنے کی ضرورت ہے، سیاسی، سماجی و دیگر مکتبہ فکر کی فکر انگیزی سے یہ ظاہر بھی ہوجائیں گے اس کیلئے ماضی کے کچھ اوراق کھولنے پڑیں گے اور شہری اداروں سمیت نادرا ریکارڈ سامنے لانا ہوگا، 19 سال بعد ہونے والی مردم شماری کراچی کے شہریوں کیلئے زندگی و موت کا مسئلہ تھی کیونکہ مردم شماری محض آدم و حوّا کے شمار کا نام نہیں ہے بلکہ وسائل کی تقسیم کا بھی نام ہے لیکن اہمیت انسانوں کے شمار کی اسلئے زیادہ ہے کہ اس کی مدد سے وسائل فراہم کئے جاتے ہیں، ذرا ماضی پر نظر ڈالیں تو سابق صدر پاکستان و چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں 2007 میں کراچی میں 18 ٹاؤنز موجود تھے اس دوران میونسپل فیسیلیٹیز کئیر ٹیکس âmunicipal facilities care taxá کے نام سے ایک ٹیکس لگانے کیلئے جو بعد ازاں لگایا نہیں جاسکا کراچی میں موجود گھروں کا سروے کیا گیا یہ سروے کراچی کے اسوقت کے 18 ٹاؤنز کے بلدیاتی اداروں نے گھر گھر کیا اس سروے کے دوران ہر گھر میں موجود افراد کی تعداد کا بھی تعین کیا گیا کیونکہ مذکورہ ٹیکس لگانے کیلئے ایک فارمولا طے کیا جانا تھا جس میں یہ طے تھا کہ جس گھر میں جتنے افراد ہونگے اس کے تحت میونسپل فیسیلٹیز کئیر ٹیکس لگایا جائیگا، اسوقت کراچی میں لانڈھی، کورنگی، شاہ فیصل، ملیر، گلشن اقبال، جمشید، صدر، لیاری، کیماڑی، بن قاسم، گڈاپ، لیاقت آباد، گلبرگ، نارتھ ناظم آباد، نیوکراچی، اورنگی، بلدیہ اور سائیٹ ٹاؤنز کی آبادی کا تخمینہ 2 کروڑ 10 لاکھ کے لگ بھگ سامنے آیا تھا اور بلدیاتی ادارے ٹیکس لگانے کے حق میں نظر آ رہے تھے کیونکہ انکا کہنا تھا کہ یہ ٹیکس بلدیاتی سہولیات کی فراہمی میں سنگ میل ثابت ہوگا کراچی میں 2007 میں گھرانوں کی تعداد کا جو تخمینہ سامنے آیا تھا وہ 50 لاکھ کے لگ بھگ تھا، پھر ادارہ شماریات 2017 میں مردم شماری کرواتا ہے اورامیدہوتی ہے کہ کراچی کی آبادی درست شمار کی جائے گی کیونکہ یہ تو سامنے تھا کہ کراچی کی آبادی کم ازکم 2 کروڑ ہے، جب ادارہ شماریات کے کراچی کی آبادی کے نتائج سامنے آئے اور کراچی کی آبادی کو 1 کروڑ 49 لاکھ سے زائد کا شہر قرار دیا گیا تو لفظ “گھوسٹ “کی اصطلاح سمجھ میں آ گئی،ماضی کے شہری اداروں کے حقائق کے تحت اسوقت کراچی میں ّ50 لاکھ سے زائد گھوسٹ شہری موجود ہیں جن کا شمار ابھی باقی ہے یہ شمار کر لئے جائیں گے تو کراچی کی آبادی کا درست شمار سامنے آ جائیگا، شہری ادارے بھی اس بات کی تصدیق کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ کراچی کی آبادی کم سے کم 2 کروڑ ہے واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے واٹر سپلائی نے بھی اس بارے میں دلچسپ حقائق بتائے اور بتایا کہ اگر کراچی کی آبادی کا درست تخمینہ لگایا جائے تو پانی کی سپلائی یہ ثابت کرتی ہے کہ شہر میں کم ازکم 45 لاکھ گھرانے ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں پانی کا استعمال کر رہے ہیں واٹر بورڈ کے صارفین کی تعداد یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ کراچی کی آبادی 2 کروڑ سے بھی زائد ہے اہم ادارے جو کسی نہ کسی طریقے سے شہری سہولیات سے وابستہ ہیں، ایسے ایسے دلائل دے رہے ہیں جس سے یہ سمجھنا مشکل ہی نہیں ہے کہ کراچی کی آبادی کسی طور بھی کم ازکم 2 کروڑ ہے، نادرا کے اعدادوشمار حاصل کر لئے جائیں تو کسی اور شک کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی ہے نادرا ریکارڈ کو چیک کر لیا جائے تو ادارہ شماریات کوکراچی کی 2 کروڑ آبادی بھی بہت کم معلوم ہوگی، کیا وجہ ہے کہ گزشتہ دس سالوں سے کراچی کو زیادتی پر زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، سوائے امن وامان میں بہتری لانے کے شہر میں بلدیاتی سہولیات کی دہشت گردی عام ہے اب کراچی کے ساتھ معاشرتی دہشت گردی بھی کر دی گئی ہے جب کہ اصل صورتحال سے بیش تر واقف ہیں، کراچی کا آبادیاتی کنٹرول نہ کل رکا تھا اور نہ ہی آج رکا ہے کراچی میں مقیم افراد کی تعداد کے علاوہ روزانہ ہی یہاں بسیرا کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے پھر کون سی ملک دشمن قوتیں ہیں جو کراچی کو زخم خوردہ دیکھنا چاہتی ہیں اور آبادی کو کم ظاہر کرنے کے درپے ہیں جبکہ ملک کے معاشی انجن کو اس طرح کی سرگرمیاں شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں ، ادارہ شماریات کے اعدادوشمار ہر سطح پر یکسر مسترد کئے جا چکے ہیں جس کے ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں اگر درست سمت میں مردم شماری نہیں کی گئی ہے تو یہ کراچی کے رہنے والوں کیلئے آئندہ دس سالوں کیلئے مشکلات ہی مشکلات پیدا کریں گی، اب جو وسائل کی تقسیم کا فارمولا طے پائے گا اس میں کراچی کو جوبھی سہولیات میسر آئیں گی وہ 1.5 کروڑ آبادی کے لحاظ سے ہونگی جو کہ شہر کی اصل آبادی کیلئے انتہائی ناکافی ہوں گی،معاشی حب کو سہولیات سے آراستہ رکھنے کیلئے دنیا بھر کے ممالک ہر قسم کے جتن کرتے ہیں کیونکہ انہیں اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ معاشی انجن چلتا رہا تو ملک کی ترقی کو روکنا ناممکن ہے کراچی کو اس صورتحال کے مخالف حالات کا سامنا ہے، صنعتوں کا شہر اسوقت آبادیاتی کنٹرول سے باہر ہونے کے باوجود کم ظاہر کیا گیا ہے جس پر فوری نظرثانی نہیں کی گئی تو مزید مشکلات کراچی کی منتظر دکھائی دے رہی ہیں سیاسی، سماجی غرض ہر طبقہ فکر کو بھرپور انداز میں کراچی کی اصل آبادی کو چھپانے والوں کو بے نقاب کرنا ہوگا مطالبہ صرف ایک ہی ہونا چاہیئے کہ کراچی میں گھوسٹ شہریوں کو تلاش کرو۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.