کراچی میں شناختی کارڈ اور ڈومیسائل کا حصول؟

کراچی جیسے منی پاکستان کہا جاتا ہے، شہر قائد میں گلگت بلتستان سے لیکر گوادر اور پورے پاکستان سے لوگ آکر آباد ہوئے ، بلوچ ،ہزاروال ،کشمیری ،پنجابی ،اردو اسپکینگ ،بنگالی ،بہاری سمیت ہرعلاقے کے لوگوں نے اس شہر کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا،اور یہی آباد ہوگئے،ہر زبان اور ہر علاقے کے لوگ یہاں موجود ہیں، کراچی کی آبادی میں اکثریت ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمانوں کی ہے،جنھیں اردو اسپکینگ کہا جاتا ہے،ان کے بعد دوسرے نمبر پر فاٹا کوئٹہ اور خیبر پختون خوا کے پختونوں کی ہے ،کراچی بلامبالغہ پختون قوم کا دنیا میں سب سے بڑا شہر ہے ،شہر کراچی میں ایسے بھی ہیں جو کہ نوے سال سے آباد ہیں ، کراچی میں آبادی کے اضافے کے ساتھ ساتھ مسائل میں بھی اضافہ ہورہا ہے ،وہ لیاری کا علاقہ ہو یا لانڈھی کا ، بنارس ہو یا گولیمار مسائل کا ڈھیر ہے ،مگر چند برسوں سے بنیادی ضروریات کے بعد دو اور بڑے مسائل سامنے آرہے ہیں ،ایک مسئلہ دو برس سے صوبائی محکمے بلکہ شہری محکمے کمیشنر آفیس اور ڈی سی آفیس کی جانب سے مسئلہ بنایا گیا ہے ، ڈومیسائل کے حصول کئے لئے آئین پاکستان سے متصادم اپنی طرف سے غیر قانون و غیرآئینی آڈر لاکر ان لوگوں کو جن کے شناختی کارڈ پر ڈبل ایڈریس ہیں ،ان کو ڈومیسائل اور پی آر سی نہیں دیا جارہا ، حالانکہ ان میں اکثریت ان کی ہے جو چالیس سے پچاس سالوں سے کراچی میں مستقل رہائش پذیر ہیں ،اور انھوں نے ڈبل ایڈریس اس وجہ سے شناختی کارڈ میں لکھوائے ہیں کہ خود حکومت پاکستان نے شناختی فارم میں سوال پوچھا ہے کہ آپ کا آبائی علاقہ کون سا ہے ؟ اور اسی سوال کے جواب میں ہر اس شخص نے جس کا تعلق ملک کے دیگر علاقوںسے تھا ہزاروال نے ہزارہ لکھوایا ،خیرپور والے نے خیرپور فاٹا سے آنے والے نے فاٹا، ہر ایک نے اپنے آباواجداد کا علاقہ لکھوایا تھا ، مگر اب یہ شناخت ان کے بچوں کے مستقبل میں رکاوٹ بن گئی ہے ،یا وہ افراد جو وفاقی اداروں کے ملازمین تھے اور کراچی میں آئے اور سرکاری رہائش گاہ کو کیسے مستقل پتہ لکھواتے ،بعد میں ان کے بچے مستقل کراچی کے رہایشی بنے ، یا وہ افراد جو آج بھی کرائے کے گھروں میں رہتے ہیں وہ کیسے اپنا مستقل پتہ کرائے کا مکان لکھواتے ،؟یا جن کے پاس ذاتی مکان بنانے کی حیثیت نہیں رکھتے ،اور ایک اور بات کہ بہت سے لوگ جو پنجاب خیبر پختون خوا ،فاٹا ،کشمیر اور بلوچستان سے کراچی میں آباد ہوئے ان کے آبا اوجداد کی مورثی زمینیں ادہیں ،اگر ڈبل ایڈریس نہ لکھوایا جائے تو زمین کے انتقال میں بڑے مسائل پیدا ہوتے ہیں ،ڈی سی آفیسز سے انھیں ڈومیسائل کا اجرا نہیں کیا جارہا،اور اس مسئلے سے تقریبا ستر سے نوے لاکھ افراد ان کے بچے مسائل سے دوچار ہیں ، ان کے بچوں کے تعلیمی مسائل میں اضافہ ہورہا ہے ،کوٹہ سسٹم ہونے کی وجہ سے انھیں داخلے نہیں مل رہے ،جبکہ آئین پاکستان کے مطابق کوئی بھی پاکستان پورے ملک کہی بھی کاروبار ، رہائش اور سکونت اختیار کرسکتا ہے اور تین برس ایک جگہ رہنے کے بعد وہاں مستقل رہائشی سرٹفیکیٹ اور پی آرسی حاصل کرسکتا ہے ،مگر دوہ برسوں سے کراچی میں ایسا لگتا ہے کہ پری پلاننگ ان لوگوں کو تنگ کیا جارہا ہے جن کے شناختی کارڈ پر ڈبل ایڈریس ہے اور اگر بہت سے لوگ ڈبل ایڈریس ختم کرنا چاہتے ہیں مگر وفاقی ادارانادرا اس میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے ،۔
وفاقی ادارے نادرا کے جانب سے کراچی کی عوام کے ساجو رویہ اختیار کیا گیاہے ،شناخت کا اصول مشکل تر بنادیا گیا تھا ،اللہ کرے اب یہ مسئلہ ختم ہوچیئرمین نادرا عثمان مبین نے کرچی میں ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس لیتے ہوئے گذشتہ دنوں کراچی میں کئی نادرا سینٹرز پر بھیس بدل کر نادرا سنٹر پر چھاپے مارے ہیں ۔ کراچی کے مختلف سینٹرز کے ہنگامی دورے کیے ۔ نادرا میگا سینٹر سائٹ پر 2 کاؤنٹرز پر عملہ غائب تھا تاہم انہوں نے میگا سینٹر سائٹ کے 2 افسران کو معطل کردیاادھر نادرا لیاقت آباد سینٹر میں خاتون اہلکار شاہین اختر نے لاڑکانہ کے شہری کی درخواست وصول کرنے سے انکار کردیا، جس پر چیئرمین نادرا نے شاہین اختر کو برطرف کردیا۔چیئرمین نادرا نے کہا کہ پاکستان کا شہری کسی بھی سینٹر سے شناختی کارڈ بنوا سکتا ہے ،شہریوں کی شکایت پر بھیس بدل کرکراچی کے نادرا سنٹر پر چھاپہ مار کر اس دوران چیئرمین نادرا نے خاتون اسٹاف کو ملازمت سے برطرف جبکہ 2 افسروں کو معطل بھی کردیا۔شناختی کارڈ بنوانے کے لئے طویل لائن،دھوپ میں عام شہریوں کے ہمراہ چیئرمین نادرا عثمان مبین عام شہری بن کر لائن میں کھڑے ہوگئے ۔ شہری سمجھ کر نادرا عملے نے چیئرمین نادرا کی درخواست واپس کردی۔ غفلت برتنے پر چیئرمین نادرا نے سائٹ میگا سینٹر کے 2 افسران کو معطل کردیا۔دوسری جانب چیئرمین نادرا لیاقت آباد سینٹر بھی گئے اورخاتون اسٹاف کو ملازمت سے برطرف کردیا۔ساتھ ہی عثمان مبین نے عملے کو احکامات دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کی درخواست کو مسترد کرنے نہ وصول کرنے والا عملہ معطل ہوگا، ۔۔۔ چئیرمین نادرا کے اس دورے سے عوام میں خوشی کی لہر ہے ، مگر ایسا نہ ہو کہ یہ عارضی ثابت ہو ، نادرا کی جانب سے چیک اینڈ بیلنس کے لئے شکایتی نمبرز کااجرا کرنا ہوگا،شناخت ہر پاکستانی کا حق ہے ،اور کراچی میں اس کا حصول جوئے شیر کی طرح مشکل بنادیا گیا ہے ،اور خاص طور پر کراچی میں باہر سے آکر آباد ہونے والوں سے پرانے ریکارڈ طلب کئے جاتے ہیں اور اگر کہیں آپ کے پاس پرانا ریکارڈ نہیں ہے تو بس پھر آپ کے پاکستانی ہونے پر شک کرنا بلکہ آپ کی درخواست کو بلاک کرنا نادرا سینٹر کے انچارج کا اولین فرض ہے ،یہ اور بات ہے کہ بعد میں ایجنٹ کے ذریعے رشوت دینے پر آپ پکے پاکستانی بن سکتے ہیں ،شرط یہ ہے ، عثمان مبین صاحب نادرا افیسز کے اہلکاروں سے ملے ہوئے ایجنٹوں کے خلاف بھی کاروائی کی ضرورت ہے ، کسی کی پاکستانی ہونے یا نہ ہونے کی تفتیش یا تحقیقات ریاستی اداروں کا کام ہے ، نادرا کہ نہیں ، نادرا کے جانب سے جاری کردہ نئے اعلانات پر عمل درآمد کے لئے چیک اینڈ بیلنس کی ضرورت اب زیادہ ہے ، نادرا کے دفاتر سے لوگوں کو پاکستان کی شناخت سے متنفر کیا جارہا ہے ،خدارا اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے مزید توجہ دیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.