Karachi

کراچی سے الیکشن لڑنے کا اعلان ،کراچی شہر اورملک کا بگڑا ہوا نظام ٹھیک کرکے دکھائینگے‘عمران خان

کراچی جدت ویب ڈیسک پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 2018 کا الیکشن کراچی سے لڑنے کا اعلان کردیا ہے اورچیلنج کیا ہے کہ وہ کراچی شہر اورملک کا بگڑا ہوا نظام ٹھیک کرکے دکھائیں گے،کپتان کا کہنا ہے کہ کراچی اس تک ترقی نہیں کرے گا جب تک وزیر اعظم کراچی سے منتخب نہیں ہوگا۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے بار بار حکومت کی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی نے عوام کے لیے کچھ نہ کیا۔ اس لیے اب ہم سیاست کے اس میدان میں اترے ہیں اور ہمیں اب اقتدار میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہم نے زرداری اور نواز شریف کی بدعنوان پارٹنرشپ توڑ دی ہے، نئے پاکستان کے لیے اگلی حکومت تحریک انصاف کی ہوگی ۔ ان خیالات کا اظہارتحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کراچی میں پارٹی کی ممبرشپ کے لیے لگائے گئے کیمپ پرعوامی اجتماعات ورکرزکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عمران خان نے اپنے دورہ کرا چی کے پہلے روز کراچی کے مختلف علاقوں کا طوفانی دورہ کیا اورپارٹی کے رکنیت سازی کیمپوں پرعوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔ پرفیوم چوک گلستان جوہر پررکنیت سازی کیمپ پرخطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ تمام سیاسی تحریکیں کراچی سے شروع ہوتی تھیں ،کراچی پاکستان کا دل تھا ،آج کراچی کی حالت پردل خون کے آنسوروتا ہے، عمران خان نے کہاکہ کراچی تب تک ترقی نہیں کرے گا جب تک وزیر اعظم کراچی سے منتخب نہیں ہوگا،کراچی سمیت پورے ملک کا نظام اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوگا جب تک کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوگا ،امن اور خوشحالی تب تک نہیں آئیگی جب تک سرمایہ کاری نہیں ہوگی ۔ انہوں نے آئندہ عام انتخابات میں کراچی سے الیکشن لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ میں کراچی اورملک کا بگڑا ہوا نظام ٹھیک کرکے دکھاں گا۔لیاقت آباد میں رکنیت سازی کیمپ پرعوامی ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہمیں امن لانے کے لیے پہلے اداروں کو غیر سیاسی کرنا ہوگا،کراچی کی رونقیں اور سیاست پورے ملک پر اثر انداز ہونی چائیے،کراچیکے لوگ سیاسی شعور رکھتے ہیں اس شہر کے لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کریں گے، میں اس شہر کے پولیس کا نظام ٹھیک کرنا چاہتا ہوں کراچی کی پولیس پولیس چوروں کی رکھوالی میں لگی ہوئی ہے،راو انوار نے 400 سے زیادہ کراچی کے نوجوانوں کو شہید کیا۔ بلدیہ ٹان میں رکنیت سازی کیمپ پرخطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہہم نے 2018 کا الیکشن جیتنا ہے اور کراچی سے خیبر تک ایک قوم ایک نیا پاکستان بنانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں کراچی میں تمام قومیتوں کو اکٹھا کروں گا،مجھے پتہ ہے نادرا کی طرف سے مسائل ہیں ،میں نادرا کے مسائل حل کروں گا ۔ سعید آباد چاندی چوک ممبر سازی کیمپ پر خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہمیں نیا پاکستان بنانا ہے۔ نئے پاکستان سے مراد پاکستان میں تبدیلی ہے۔ نیا پاکستان اور تبدیلی ہم لائیں گے۔ اس سے پہلے مختلف سیاسی پارٹیاں اقتدار میں آتی اور جاتی رہیں۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے بار بار حکومت کی لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی نے عوام کے لیے کچھ نہ کیا۔ اس لیے اب ہم سیاست کے اس میدان میں اترے ہیں اور ہمیں اب اقتدار میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہم نے زرداری اور نواز شریف کی بدعنوان پارٹنرشپ توڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور پنجاب میں ن لیگ عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ موجودہ مسئلہ یہ ہے کہ ڈیزل مہنگا ہوگیا ہے اور عوام الناس اس سے سخت پریشان ہیں۔ ہم اس کا بھی پتہ کریں گے کہ کس کس کی بدعنوانی سے عوام پر یہ مصیبت آئی ہے۔ ہم کرپٹ لوگوں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں اور ان کی خوب خبر لیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لاہورکو دنیا کا سب سے آلودہ شہر قراردیتے ہوئے کہاہے کہ لاہور کے70 فیصد لوگوں کو صاف پانی میسر نہیں ہے، پاکستان میں امیر اور غریب میں فرق بڑھتا جارہا ہے،پاکستان میں صرف کچھ لوگوں کے لیے ہی سہولتیں موجود ہیں، پاکستان تحریک انصاف کی پہلی کوشش ہوگی کہ غربت کم ہو، حکومت ختم ہونے میں تین ماہ رہ گئے ہیں، اس لیے حکومت کے پاس پی آئی اے کی نجکاری کا اختیار نہیں ہے،شریفوں کی اسٹیل مل نفع کما رہی ہے اور پاکستان اسٹیل مل بند پڑی ہے،ایمانداری سے ادارے چلائے جائیں تونجکاری کی ضرورت نہیں ہوتی، اگلی حکومت پاکستان تحریک انصاف کی ہوگی، ملک میں اداروں کی تباہی کا سبب کرپشن ہے،جب تک کراچی میں پولیس ٹھیک نہیں ہوگی لا اینڈ آرڈر ٹھیک نہیں ہوگا۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں سارا مسئلہ لوکل گورنمنٹ کا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو کراچی ایئرپورٹ پر کارکنان اور مقامی ہوٹل میں ڈاکٹرزفورم کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اتوارکودو روزہ دورے پرکراچی پہنچے، تحریک انصاف کے رہنمائوںسابق وزیر اعلیٰ سندھ لیاقت علی جتوئی،کراچی کے صدر فردوس شمیم نقوی،سینئررہنما عمران اسماعیل اورحلیم عادل شیخ سمیت کارکنان کی ایک بڑی تعداد نے ان کا کراچی ایئرپورٹ پرپرجوش استقبال کیا۔پی ٹی آئی چیئرمین نے ملین ٹری شجرکاری مہم کے تحت ایئرپورٹ کے باہر پودا لگایا۔ عمران خان نے کہا کہ جب ملک میں انسانیت کا نظام ہو تو اللہ کی برکت آتی ہے ۔ ہمارے ملک میں ذرائع زیادہ ہیں لیکن یہاں غربت زیادہ ہے، مغربی ممالک میں لوگ جانوروں کو بھی انتہائی بہتر طریقے سے علاج کی سہولیات دیتے ہیں۔ آئندہ الیکشن میں حکومت تحریک انصاف کی ہوگی۔حکومت بنانے پرپی آئی اے کے سسٹم کو دوبارہ بنائیں گے،پی آئی اے کو ہم ٹھیک کرینگے،پی آئی اے کو ایسی ائیر لائن بنائیں گے جس پر سب کو فخرہو گا،ایمیریٹس ائیر لائن پی آئی نے بنائی تھی۔دنیا میں کہیں بھی قومی اثاثوں کی نجکاری نہیں کی جاتی۔ ہم پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ کریں گے، نجکاری نہیں کریں گے، ہماری پارٹی پی آئی اے سے سیاسی مداخلت ختم کرے گی اور اسے کامیاب ایئرلائن بنائے گی۔انہوں نے کہاکہ نجکاری سوچ سمجھ کر کی جاتی ہے،ملک کی اسٹیل مل بند پڑی ہے جبکہ شریفوں کی جدہ میں اسٹیل ملز اربوں کماتی ہے۔قومی اثاثوں کو بیچا نہیں جاتا، خیبرپختونخواہ میں خیبر بینک کو پرائیویٹائز نہیں کیا ،اگر ایمانداری سے اداروں کو چلائے تو وہ نفع دیتا ہے۔اقتدار میں آنے کے بعداداروں میں سیاسی مداخلت ختم کرینگے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے 90 فیصد عوام کو انصاف تک رسائی نہیں ہے۔عمران خان نے کہا دنیا بھر میں کینسر کا علاج انتہائی مہنگا ہے، مجھے والدہ کو کینسر ہونے کے بعد پتہ لگا کہ پاکستان میں کوئی کینسر کا اسپتال ہی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ان کی خیبرپختونخواہ میں حکومت آئی تو انہوں نے سب سے پہلے صوبے کے اسپتالوں کو ہی ٹھیک کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔کے پی کے میں ہمیں ہسپتالوں کی حالت ٹھیک کرنے میں شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑا ، ہم جب بھی ہسپتالوں کی حالت سدھارنے کیلئے کام کا آغاز کرتے تو وفاق کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتیں، مگر اس کے باوجود ہم نے فلاحی کاموں کا سلسلہ جاری رکھا ، کے پی کے میں ہسپتالوں کی حالت انتہائی بہتر ہے اور اسے مزید بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کو پرائیویٹ پریکٹس کیلئے ہسپتالوں کے اندر ہی جگہ فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ لوگوں کو بہترین علاج کی سہولیات فراہم کر سکیں۔عمران خان نے کہاکہ شہباز شریف کے پاس 9 ہزار ارب کا بجٹ تھا، لیکن انہوں نے ایک بھی نیا اسپتال نہیں بنایا۔پاکستان میں سب سے زیادہ دہشت گردی خیبرپختونخوا میں تھی، آج 70 فیصد دہشت گردی اوردیگر جرائم میں کمی ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ جب تک کراچی میں پولیس ٹھیک نہیں ہوگی لا اینڈ آرڈر ٹھیک نہیں ہوگا۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں سارا مسئلہ لوکل گورنمنٹ کا ہے، وزیراعلی نے نچلی سطح تک اختیارات منتقل نہیں کیے، انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے لیے آئندہ انتخابات میں آپ کے پاس اچھا موقع ہے، دہشت گردی کی سیاست ختم ہوگئی ہے۔پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ پنجاب میں سارے پرانے جنگل ختم ہوگئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.