knife killer in karachi

کراچی‘خواتین پر حملوں کے تانے بانے سیاسی پارٹی سے جا ملے‘ جانئے

 

کراچی جدت ویب ڈیسک کراچی میں خواتین پر تیز دھار آلے سے حملوں کی تفتیش میں پولیس نے اپنی تحقیقات کا دائرہ سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ کی طرف موڑ دیا ہے ۔پولیس حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ خواتین پر حملوں میں ایم کیو ایم کے کارکن ملوث ہوسکتے ہیں ۔گلشن اقبال ڈویژن کے مختلف علاقوں سے 50سے زائد افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کا سلسلہ جاری ہے ۔ذرائع کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں خواتین پر تیز دھار آلے سے حملوں کا ملوث ملزم ابھی تک پولیس کی گرفت میں نہیں آسکا ہے ۔پولیس نے پہلے شک ظاہر کیا تھا کہ ان حملوں میں ساہی وال کا رہائشی وسیم نامی شخص ملوث ہے جو پنجاب میں اس طرح کی 40سے زائد وارداتوں میں ملوث تھا ۔کراچی پولیس کی خصوصی ٹیم نے گزشتہ دنوں وسیم کو منڈی بہاؤ الدین سے حراست میں لیا اور جب اس سے تفتیش کی گئی تو اس میں ایسے کوئی شواہد نہیں مل سکے جس سے ثابت ہو کہ وہ کراچی آیا ہے جبکہ ملزم کے موبائل فون ڈیٹا سے بھی اس کی کراچی میں موجودگی ثابت نہیں ہوسکی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف زاویوں سے تفتیش کے بعد پولیس حکام نے اپنی تحقیقات کا رخ اب سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ کی طرف موڑدیا ہے ۔پولیس حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ایم کیو ایم لندن کے کارکن شہر میں خوف و ہراس کی فضا پھیلانے کی اس قسم کی وارداتیں کررہے ہیں ۔ذرائع کے مطابق پولیس نے گزشتہ روز گلشن اقبال ڈویژن کے مختلف علاقوں سے 50سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے ۔ یہ کارروائیاں شارع فیصل ،گلستان جوہر، گلشن اقبال ،ٹیپو سلطان ،عزیز بھٹی ،پی آئی بی اور نیو ٹاؤن پولیس نے کیں ۔زیر حراست مشتبہ افراد میں ایم کیو ایم âلندنá کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان ،پاکستان پیپلزپارٹی اور پاک سرزمین پارٹی کے کارکنان بھی شامل ہیں ۔پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنے کارکنوں کی رہائی کے لیے پولیس حکام سے رابطہ بھی کیا ۔ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے ایک سینئر رہنما رات گئے اپنے کارکنوں کی رہائی کے لیے پولیس سے مذاکرات کرتے رہے ۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد میں سے کئی کو تفتیش کے بعد رہا کردیا ہے جبکہ اب بھی متعد د زیر حراست افراد سے تفتیش کا عمل جاری ہے ۔شبہ ہے خوف و ہراس پھیلانے کے لیے یہ کام سیاسی پارٹی کر رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.