کاشتکاروں کا احتجاج شدت اختیار کر گیا، قومی شاہراہوں کو بلاک

کوئٹہ: جدت و یب ڈیسک:احتجاجی کاشتکاروں نے زرعی فیڈرز پر بجلی کی عدم دستیابی کے باعث کراچی کوئٹہ ہائی وے کو کولک پاس کیمقام پربند کردیا ہے، اسی طرح کوئٹہ جیکب آباد ہائی وے کو کولپور کے مقام پر بلاک کیا، کاشتکاروں نے کوئٹہ چمن ہائی وے کو یارو کے مقام پربند کیا۔بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے ستائے کاشتکاروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور انہوں نے قومی شاہراہوں کو بلاک کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق زرعی فیڈروں پر بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے کاشتکاروں کو احتجاج پر مجبور کردیا، بجلی کی عدم فراہمی پر کاشتکاروں نے بلوچستان کی اہم شاہراہوں کو بند کردیا ہے، جس کے باعث کوئٹہ کا ملک کے دیگر شہروں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔اطلاعات کے مطابق مستونگ سے کوئٹہ کراچی شاہراہ کو لکپاس اور کھڈکوچہ کے مقام سے بند کردیا گیا ہے، اس کے علاوہ کوئٹہ تفتان قومی شاہراہ کو پنجپائی اور کردگاپ کیمقام سے مکمل طور پر بند کیا گیا ہے جبکہ کوئٹہ سبی سکھر قومی شاہراہ کو کمبیلا کراس سے ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ہے۔دوسری جانب احتجاجی کاشتکاروں کا موقف ہے کہ زرعی فیڈرز پر صرف ایک گھنٹے کی بجلی فراہم کی جارہی ہے، طویل لوڈشیڈنگ سے فصلوں کو نقصان پہنچ رہاہے، فوری طور پر بجلی کا مسئلہ حل نہ کیا تو مزید سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہونگے۔مختلف مقامات پر شاہراہوں کی بندش کے باعث ملک کے دیگر شہروں سے کوئٹہ جانے والے مسافر پھنس کر رہ گئے ہیں ان مسافروں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں جو کہ گرم موسم کے باعث شاہراں پر شدید کوفت کا شکار ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.