Epilepsy: beyond seizures

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے مرگی کے مریضوں میں کونسی نئی امیدجگادی ‘ جانئے

کراچی جدت ویب ڈیسک ایپی لیپسی فائونڈیشن پاکستان کی صدر، ماہر امراض مرگی اور نیورولوجسٹ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ’’مرگی کے مرض کے عالمی دن 2018‘‘ کے موقع پر ’’مرگی کے دوروں کے بعد‘‘ (Epilepsy: beyond seizures) کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرگی ایک بہت عام دائمی اعصابی مرض میں سے ایک ہے جس پر قابو پانے کیلئے طویل عرصے تک علاج اور ادویات کی ضرورت ہوتی ہے ۔یہ مرض دماغ میں بدنظمی کی وجہ سے لاحق ہوتاہے جس کے بارے میں بڑے پیمانے پر غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور اس بیماری کو آسیب اور رسوائی کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ اس مرض کا علاج ٹوٹکوں، جادو ٹونے اور منتروں سے تباہ کن ہوسکتا ہے ۔ پاکستان میں 20 لاکھ افراد کامرگی کے مرض سے متاثر ہونے کا اندازہ ہے ان کیسوں میں اکثریت قابل علاج مرض میں مبتلا ہیں مگر بدقسمتی سے علاج سے محروم ہیں۔مرگی کے مریضوں کو تکلیف دہ سماجی مسائل کا سامنا کرتا پڑتا ہے۔ مہنگی ادویات علاج میں تاخیر کا سبب اور متاثرہ مریض کے لواحقین کیلئے اضافی مالی بوجھ کا سبب بنتی ہیں۔اس بیماری کے بارے میں ہمارے معاشرے میں موجودشدید توہمات سے مرگی کا مریض متاثر ہوتا ہے۔یہ بیماری خواتین کو طلاق اورشادی کیلئے رشتوں سے انکار کا سبب بنتی ہے ،مرگی کے مریض کی شادی یا علیحدگی دونوں صورتوں میں معاشرے پر مزید بوجھ پیدا کررہی ہیں۔ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ ہمیں مرگی کے مریضوں کو چار اہم چیزیں جن میں پہلی مناسب تعلیم اور معاون گروپ، دوسرا امتیازی سلوک کے بغیر مسلسل کام کے مواقع اور ملازمتیں، تیسری عوام میں بیداری کو فروغ دینا اور غلط فہمیوں کا خاتمہ اورچوتھامرگی کے مریضوں کے لئے ادویات میں سبسڈی کی منصوبہ بندی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختصر یہ کہ ’’مرگی کے مرض کے عالمی دن‘‘ کے موقع پر اگر ہم پاکستان میں بیداری پیدا کرنے میں مدد کرسکتے ہیں تو یہ لوگوں کی سوچ میں تبدیلی کا واضح فرق ہوگا۔معروف نیورولوجسٹ اوربقائی یوینورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عارف ہیریکر نے کہا کہ مرگی ایک قابل علاج مرض ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ پاکستان میں مرگی کے مرض کے بارے میں عام لوگوں میں آگاہی پیدا کی جائے تاکہ لوگوں کوپتہ چلے کہ مرگی کے دورے کیا ہوتے ہیں، دورے کا علاج کیا ہے اور مرگی کے دوروں کے علاج کیلئے کس ڈاکٹر کے پاس جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم چاہئے کہ اگر صحیح طریقے سے دوروں کو کنٹرول نہیں کیا جائے گا تو اس کے بہت سے مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیںجن میں ذہنی معذوری، گر کر چوٹ لگنااور بہت سے پہلو ہیں۔ ’’مرگی کے مرض کے عالمی دن ‘‘ کے موقع پر پیغام یہ ہے کہ علاج کیلئے مستند اور مخصوص معالج کے پاس جانا چاہئے۔اس کا فائدہ یہ ہے کہ بیماری کے مضر اثرات سے بچا جاسکتا ہے۔معروف نیورولوجسٹ ڈاکٹر محمد حسن نے کہا کہ مرگی کے مرض کے علاج میں مہنگی ادویات اور مرض کی تشخیص کیلئے مہنگے ٹیسٹ بڑی رکاوٹ ہیں۔ پاکستان میں مرگی کے مرض کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ مریض کے لواحقین مرض کی صحیح تشخیص کے بجائے توہمات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔انہوں نے اپیل کی کہ مرگی کے مرض کے بارے میں معاشرے میں پائے جانے والے توہمات ختم کرنے اور ادویات میں سبسڈی کیلئے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا تعاون کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.