چین۔پاکستان اقتصادی راہداری؛مسائل اور امکانات

معاملہ افراد کا ہویا اقوام کا ، یہ ایک جانی مانی حقیقت ہے کہ مواقع سے فائدہ و ہی اٹھاتے ہیں ،جو اس کے لیئے ذہنی طور پر تیار ہوں۔پاکستان بھی اپنی تاریخ کے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں حالات بدلنے کے لا محدود امکانات اس کے منتظر ہیں میرا اشارہ سی پیک کی طرف ہے جس کے لیئے روزانہ حکومتی زعمائ اور بہت سے دانشور حضرات ایک روشن مستقبل کی نویدسناتے ہیںاور اس پیغام میں اس چیز کی یقین دہانی کی جا رہی ہوتی ہیکہ بس سی پیک مکمل ہو جائے توہمارے سارے مسائل پلک جھپکنے میں حل ہو جائیں گے نہ لوڈشیڈنگ ہو گی اورنہ بے روزگاری،ہر طرف امن کی فضاہوگی۔اللہ نے چاہا تو ایسا ہو بھی سکتا ہے مگر آنے والے وقت سے کون آشنا ہے کوئی نہیں جانتا کہ سی پیک معاہدہ کیا رخ اختیار کرتا ہے۔سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ CPECایک بہت بڑے منصوبے کا صرف ایک حصہ ہے ۔یعنی OBOR ون بیلٹ ون روڈ چین کا ایک دیرینہ خواب تھاجس کا مقصد چائنہ کو چھے (6)روٹس کے ذریعے دنیا کے باقی خطوں سے ملانا ہے۔بدلتے حالات و واقعات نے اس منصوبے کو روبہ عمل لانے کی راہ ہموار کردی لہذا یہ سمجھنا کہ چین نے یہ منصوبہ صرف پاکستان کے ساتھ اپنی دوستی نبھانے کے لیئے یا ہماری حکومت کی ذاتی کاوشوں کا نتیجہ ہے،یہ کسی خو ش فہمی سے کم نہیں ہے جبکہ اس کی منصوبہ بندی سابقہ دورحکومت سے شروع ہو چکی تھی۔دماغ میں کسی بھی قسم کی بد گمانی کو جنم لیئے بغیر صرف اپنے آپ اور اردگرد ماحول پر نظر دہرا کر اس بات پر غوروفکر کریں کہ یہاں تو خونی رشتہ بھی بغیر مفادات،لالچ اور مطلب پرستی کے قائم نہیں رہ سکتے تو پھر پاکستان جیسے ملک کو جس کے عالمی سطح پر کرپشن کے چرچے مقبول ہیں،جس کے باشندوں کو بیرون ممالک کے ائیر پورٹ پر جامع تلاشی کے بغیر چھوڑا نہیں جاتا، جبکہ بیرون ممالک کی سینکڑوں کمپنیوں نے ان پر ملازمت پر پابندی عائد کر رکھی ہو، جس کے پاس سوائے ایٹم بم کے نہ کوئی گورننس ہو،نہ صحت و تعلیم کی سہولیات ہو،نہ انصاف ہو ، نہ حقوق اور معاشرہ بھی ایسا کہ طاقتور کمزور ،امیر غریب ادنیٰ اعلیٰ کا نمایاں خط امتیاز جیسا کہ وہاں تو سوچنے کی بات ہے کہ چین جیسے عالمی سطح پر کامیاب ملک کو کیا سوجھی کہ وہ پاکستان پر بغیر کسی مفادات ،لالچ کے بھاری بھر کم رقم خرچ کریں،یہ وقت ہی بتائے گا کے اس منصوبہ سے فائدہ پاکستان کتنا اور چین کس حد تک اٹھاتا ہے۔خیر اس کی قلعی ایک دن وقت ہی کھولے گا۔ چین اور پاک کے اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت پاکستان میں جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں گہرے سمندری پانیوں والی گوادرکی بندرگاہ کو چین کے خود مختارمغربی علاقے سنکیانگ سے جوڑا جائے گا۔â3000áتین ہزار کلو میٹر طویل اس منصوبے کے تحت مستقبل میں گوادراور سنکیانگ کے درمیان نئی شاہراہوں اور ریل رابطوں کی تعمیر کے علاوہ گیس اور تیل کی پائپ لائنیں بھی بچھائی جائیں گی۔ابتدائ میںاس منصوبے پر اٹھنے والی لاگت کا تخمینہ 46بلین ڈالر کے برابرلگایا گیا ہے اور یہ پروجیکٹ کئی مرحلوں میں 2030تک مکمل ہوگا۔اس منصوبے کے لیئے زیادہ تر رقوم چینی سرمایہ کاری کی صورت میں مہیا کی جائیں گی لیکن ان مالی وسائل میں وہ آسان شرائط والے قرضے بھی شامل ہوں گے، جو بیجنگ حکومت پاکستان کو فراہم کرے گی ۔اس عظیم تر اقتصادی ترقیاتی منصوبے کے لیئے پاکستان سڑکوں کی تعمیر، بجلی کی پیداوار کے منصوبوں اور چینی سرمایہ کاری خطوں کے لیئے زمین مہیا کرے گا۔اس کے علاوہ پاکستان اس منصوبے کے لیئے مالی وسائل بھی فراہم کرے گی۔اکنامک کوریڈور کے کئی سالہ منصوبے پر عمل درآمد کے دوران پاکستان اپنے ہاں کام کرنے والے چینی کارکنوں اور ماہرین کی حفاظت کے لیئے سیکیورٹی فرائض انجام دینے والے اپنے خصوصی دستوں کی تعداد بھی بڑھا کر دس ہزار کے قریب کردی جائے گی ۔اس پراجیکٹ کے تحت قریب 36چھتیس بلین ڈالر کے برابر رقوم بجلی کی پیداوار کے متعدد منصوبوں پر خرچ کی جائیں گی کیونکہ پاکستان کو کئی برسوں سے اپنے ہاں بجلی کی پیداوار میں کمی اور طلب میں مسلسل اضافے کا سامنہ ہے ۔ اس کے علاوہ چین کی طرف سے بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع گوادر کی بندر گاہ کو جدید ترین بھی بنایا جائے گا۔جس کے بعد نہ صرف فاصلے کم ہو جائیں گے بلکہ یورپ کے ساتھ تجارت پر اٹھنے والی لاگت بھی واضح طور پہ کم ہو جائے گی۔اسی منصوبے کے تحت پاکستانی حکومت کا ارادہ ہیکہ اس کوریڈور کے ساتھ ساتھ کئی ایسے صنعتی پارک اور کاروباری ترقیاتی خطے بھی قائم کیئے جائیں گے جن سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ وہاںملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی مزید پر کشش بنایا جائے گا۔یہ تو ایک امکان کی بات ہوگی اور جہاں تک خدشات کی بات ہے تو ایک بڑا خدشہ یہ ہیکہ چائنہ کے آنے سے اس خطے میں لادینیت اور بے حیائی کو فروغ ملے گا کہ ان کی زندگی کامقصد صرف اور صرف دنیا اور دولت ہے۔یہاں تک کے یہ بات مختلف جگہوں پر عیاں ہیکہ چائنہ نے اپنے لوگوں کے لیئے یہاں انویسٹمنٹ کے حوالے سے جوڈاکومنٹ تیار کر رکھا ہے، اس میں انرجی،انفرااسٹرکچر وغیرہ سب پر دس دس صفحات ہیں لیکن ٹوورزامTourismپر چھتیس36صفحات ہیں۔اور دنیا میں ٹوورزام کہیں بھی شراب اور عورت کے بغیر کامیاب انویسٹمنٹ شمار نہیں ہوتا۔پھر مساج سینٹرز کھلیں گے اور رد عمل میں لال مسجدیں وجود میں آئیں گے۔تو ایسے میں ہمارے مذہبی طبقات اور جماعتوں کو پہلے ہی سے بیٹھ کر اس معاہدے کے امکانات اور خدشات کی روشنی میں کوئی حکمت عملی ترتیب دے لینی چاہیے۔چینی دفتری خارجہ کی ترجمان نے اس امید کا اظہار کیا ہیکہ اس منصوبے سے نہ صرف دونوں ملکوں میں معاشی اور سماجی ترقی ہوگی بلکہ اس کا علاقائی تعلقات، امن، استحکام اور خوشحالی میں بھی اضافہ ہوگا۔اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاک۔چین اقتصادی راہداری سے نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک کی تقدیر بدلنے کے ساتھ ساتھ اس سے خطے کے ہمسایہ ممالک افغانستان، ایران اور ہندوستان تک کو معاشی فائدہ ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.