چاہ بہار سے گوادر تک

غالبا یونانی کہاوت ہے کہ کامیابی کے سو باپ پیدا ہوجاتے ہیں اور ناکامی کو کوئی گلے نہیں لگتا،ایک جانب ہندوستان کئی ممالک کے ساتھ ان کے بندرگاہوں کو فعال کررہا ہے اور دوسری جانب ہمارے سیاسی رہنما گوادر پورٹ اورسی پیک پر دعوی کرررہے ہیں ،کہ یہ گیم چینجر معاہدہ ہم نے کیا،سی پیک کس کا منصوبہ ہے ؟، اور اس میں نااہلی کس کس کی ہے؟ گوادر پورٹ اور سی پیک میں کیا تعلق ہے،؟ڈیڑھ سال گذرنے کے باوجود سی پیک کے حوالے سے مستقل پروجیکٹ ڈائریکٹرکی تعیناتی کیوں نہ ہوسکی؟ ،معاہدے کی تفصیلات کیا ہیں ؟ پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہونگے؟ اس پر بھی بات ضروری ہے مگر ایک خبر ایران انڈیا کے حوالے سے ایک بار پھر سامنے آئی ہے ،ایران نے چابہار بندرگاہ کے ایک حصے کا آپریشنل کنٹرول انڈیا کے سپرد کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ایران کے صدر حسن روحانی نے دلی میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سے مذاکرات کے بعد کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں اور دونوں علاقے سے دہشت گردی کا مسئلہ ختم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر تیار ہیں ۔ ایران اور انڈیا نے نو معاہدوں کو حتمی شکل دی ہے جن میں سب سے اہم معاہدہ چابہار بندرگاہ کے بارے میں ہے جو انڈیا کی مدد سے تعمیر کیا جا رہا ہے اور یہ پاکستان کی گوادر بندرگاہ سے صرف 90 کلومیٹر دور ہے ،اس معاہدے کے تحت انڈیا کو 18 مہینوں کے لیے بندرگاہ کے پہلے فیز کا آپریشنل کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔چابہار بندرگاہ میں انڈیا کی خاص دلچسپی کئی وجوہات ہےں، کیونکہ اس راستے سے وہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے براہ راست افغانستان پہنچ سکتا ہے ۔ اور پاکستان کو افغانستان سے کاونٹر کرنا چاہتا ہے اسی سلسلے میںانڈیانے افغانستان اور ایران نے گذشتہ برس اس سلسلے میں ایک سہ فریقی معاہدے پر دستخط کیے تھے ۔ انڈیا نے افغانستان کو گندم سپلائی کرنے کے لیے اس راستے کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے انڈیا نے گذشتہ سال چابہار کے راستے امداد کی شکل میں گندم کی ایک قسط افغانستان بھیجی تھی۔ ہندوستان نے افغانستان کو 11 لاکھ ٹن گندم امداد کی شکل میں دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ایرانی صدر سے ملاقات میں نریندر مودی نے کہا ’ہم افغانستان میں امن و استحکام اور خوشحالی لانے کے لیے مل کر کام کریں گے ‘۔صدر روحانی کے دورے سے چند ہفتے قبل ہی اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو انڈیا کے دورے پر آئے تھے ۔ انڈیا اور اسرائیل بھی ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں اور انڈیا کے لیے دونوں ملکوں سے روابط میں توازن رکھنا ایک چیلنج ہے ۔ انڈیا چابہار کو ریل کے ذریعے زاہدان سے جوڑنے میں ایران کی مدد کرے گا۔کیونکہ ایران انڈیا کو تیل سپلائی کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے ۔ انڈیا جنوبی ایران کے اُن آئل فیلڈز سے تیل اور گیس نکالنے کے لیے کانٹریکٹ حاصل کرنا چاہتا ہے جن کی ممکنہ مالیت اربوں ڈالر ہو گی ۔اور اسی وجہ سے انڈیا ایران اور افغانستان نے مئی 2016 میں یہ بین الاقوامی راہ داری قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے بعد سے ہی چابہار بندرگاہ پر کام تیزی سے آگے بڑھایا گیا۔
دوسری جانب پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں نوازشریف، مشرف اور زرداری تینوں دعوی جاری ہیں کہ یہ منصوبہ انہوں نے شروع کیا ہے ، اس منصوبہ کے حقائق کیا ہے ۔ حقیقت میںیہ منصوبہ نہ نوازشریف نے شروع کیا ہے نہ مشرف اور نہ ہی زرداری نے،، بلکہ یہ چین کا منصوبہ تھا جس کا اعلان چین کے صدر نے 2013 ستمبر اور اکتوبر میں جنوبی ایشیائ اور سنٹرل ایشیا ئ کے دورے کے موقع پر Silk Road Economic Belt and the 21 century Maritime Silk Road کیا تھا جو کے One Belt one Roadنام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ اس منصوبے کے تحت چین دنیا کے مختلف ممالک میں 6 کوریڈورز اور ایک میری ٹائم سیلک روڈ بنانا تھا جس میں سے سی پیک بھی ایک کوریڈور ہے اسلئے یہ چین کا منصوبہ تھا اور چین نے ہی اس کو بنانا تھا اسلئے اس ملک کے اندر اگر تحریک انصاف کی حکومت ہوتی تب بھی اس منصوبے پرکام ہونا تھا اگر پیپلزپارٹی کی ہوتی تو تب بھی ۔ البتہ حقیقت ہے کہ گوادر پورٹ کا بحیثیت وزیراعظم سب سے پہلے نوازشریف نے 1992 میں دورہ کیا تھا اور گودارمیں اس وقت پورٹ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن گوادر پورٹ پر عملی کام کا آغاز مشرف کے دور2000 میں شروع ہوا ہے ۔ چین دنیا میںاپنے مفادات کے تحفظ اور کاروبار کے لئے کئی کوریڈور بنارہا ہے ،اور اسی سلسلے میںچین صدر Xi Jinpingدو روزہ سرکاری دورے پر 20اپریل 2015 کو پاکستان آئیں ۔ چینی صدر کے دورے کے موقع پر دونوں حکومتوںنے سی پیک کے تحت 46بلین امریکن ڈالر کی لاگت سے 51 مختلف معاہدوں پر دستخط کئے ۔ ان معاہدوں کے تحت چین پاکستان میں مختلف منصوبوں پر 46 بلین امریکن ڈالر خرچ کریں گے ۔یہ اب تک پاکستان میں سب سے بڑی براہ راست سرمایہ کاری ہے ۔ 46 ارب ڈالر پاکستان میں بجلی، سڑکوں ، گوادرپورٹ ، ریلوے ٹریکس ، گوادرسے کاشغرتک سڑک ، پائپ لائن اور دیگرمنصوبوں پر خرچ ہوں گے ؟ اور اب یہ سرمایہ کاری 55ارب امریکن ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے ۔â یہ اعداد وشمار کا گورکھ دھند ہے ،اصل میں صیح تفصیلات کسی کو معلوم نہیںá ۔۔
اب سوال یہ ہے کہ انڈیا تو ایران ،عمان سمیت کئی ممالک کی بندرگاہوں پر کام کررہا ہے اور دوسری جانب یہاں ہمارے پروفیسر حضرات سیاسی پروفیسر یا وہ جو ایجنڈہ سیٹنگ پر کام کررہے ہیں وہ پروجیکٹرر پر فوائد گنواتے نہیں تھکتے،مگر عملا صورت حال یہ ہے کہ مغربی روٹ کے لئے تاحال زمین نہیں خریدی جاسکی ،بقول ان کے اتنے بڑے گیم چینجرز منصوبے کے لئے مستقل پروجیکٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی نہ ہوسکی؟ریلوے ٹریکس پر کام شروع نہ ہوسکا؟ ڈارئی پورٹ بنیں گے؟ پاکستان کو اس منصوبے سے کتنا فائدہ ہوگا؟اور دوسری جانب ہندوستان سمندری راستے سے ہمیں ہرجگہ سے کاونٹر کررہا ہے جس میں ہمارے پڑوسی بردار ممالک بھی اس کے ساتھ اس سفر میں شامل ہیں ،سیمینار زاور فائیواسٹارہوٹلوں سے باہر آنا ہوگا ، خوشنما منصوبے اور باغات زیادہ دیر کام نہیں آتے ،دشمن کے منصوبوں کو کاونٹر کرنا ہوگا ،اس پر بھی کبھی ریسرچ کریں ،،،،،،

Leave a Reply

Your email address will not be published.