PMLN

چانسلر محمد زبیر نے جامعات کے سنڈیکیٹ سے منظور کردہ تمام ہارڈ شپ کیسز کی منظوری کی ہدایت کردی

کراچی جدت ویب ڈیسک گورنر سندھ / چانسلرمحمد زبیر نے مختلف جامعات کی سنڈیکیٹ سے اساتذہ کی ایک مرتبہ اگلے گریڈ میں ترقی کے لئے منظور کردہ تمام ہارڈ شپ کیسز کی منظوری دینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پروفیسرز ، لیکچرارز اور اساتذہ کو ہر ممکن سہولیات، ترقی اورمواقع فراہم کرنے کے لئے حکومت ترجیحی بنیادوں پر عملی اقدامات کررہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ مستحکم ، مضبوط ، روشن اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد اعلیٰ تعلیم کے فروغ سے ہی ممکن ہے اس ضمن میں جامعات ، پروفیسرز ، لیکچرارز اور اساتذہ سمیت جملہ عملہ کا کردار قابل قدر ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہائوس میں فیڈریشن آف پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹا ف ایسوسی ایشن (فپواسا) سندھ کے صدر پروفیسر نعمت اللہ لغاری کی قیادت میں آنے والے 9 رکنی وفد سے گفتگو کے دوران کیا ۔ ملاقات میں جامعات کی کارکردگی ، اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے ضمن میں اٹھائے گئے اقدامات ، پروفیسرز ، لیکچرارز اور دیگر اساتذہ کے مسائل ، درپیش مشکلات ، ہارڈ شپ کیس میں ہونے والی پیش رفت سمیت اہمیت کے حامل دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ گورنر سندھ نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ ، قومی تقاضوں ، علمی ضروریات اور عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب کی تیاری سمیت دیگر امور کی دیکھ بھال اور نگرانی کے لئے صدر مملکت نے ملک بھر کی جامعات کے چانسلرز کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ، کمیٹی اعلیٰ تعلیم کے بنیادی ڈھانچہ ، اصلاحات ، عصر حاضر کے مطابق اقداما ت ، قومی ضروریات کے تحت اعلیٰ تعلیم کے فروغ ، سہولیات کی فراہمی ، تحقیق کے ضمن میں تعاون سمیت دیگر امور پر ازسر نو نظر ثانی کرکے اپنی سفارشات صدر مملکت کو ارسال کرے گی جس سے جامعات میں مزید بہتری ، سہولیات کی فراہمی اور مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے میں مدد ملے گی ۔ گورنر سندھ نے چانسلر آفس کے حکام کو ہدایت کی کہ جامعات کے مسائل کے حل کے لئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری بورڈ اینڈ یونیورسٹیز کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی میں فپواسا کے نمائندے کی شرکت کے لئے سفارشات بھیجی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے فروغ سے ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے میں مدد مل سکتی ہے ، سائنس و ٹیکنالوجی کے اس دور میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب اہم ثابت ہو سکتا ہے جس کے لئے حکومت ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ کی جامعات میں طویل عرصہ سے حل طلب مسائل کے خاتمہ ، جدید تقاضوں کی سہولیات کی فراہمی ، انفرااسٹرکچر کی بحالی و ترقی ، نئی عمارتوں کے قیام ، تحقیق کے ضمن میں بھر پور مدد ،اصلاحات ، قومی تقاضوں کے مطابق اقدامات میں تیزی لانے کے لئے اقدامات وقت کا اہم تقاضہ ہے اس ضمن میں وائس چانسلر ز سے مسلسل مشاورت کا عمل بھی جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت چانسلر/ پیٹرن میں پبلک و پرائیویٹ سیکٹر کی جامعات کے ترجیحی بنیادوں پر دورے کرتے رہتا ہوں اور مسائل کے فوری حل کے لئے فوری اقدامات بھی یقینی بنائے ہیں جبکہ جامعات کے ہونہار طالب علموں کی حوصلہ افزائی کے لئے انھیں ان کے والدین کے ہمراہ گورنر ہائوس بھی مدعو کیا جا تا ہے جہاں انھیں کیش ایوارڈ اور شیلڈ بھی دی جاتی ہے تاکہ دیگر طالب علم بھی ہونہار طلبہ کی تقلید کرسکیں ۔ ملاقات میں ایسوسی ایشن کے صدر نے گورنر سندھ کو اکیڈمک اسٹاف کے مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ سے پیوستہ چانسلر نے ہارڈ شپ کیسز کے حل کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن تاحال ان پر عمل درآمد نہ ہو سکا جس پر گورنر سندھ نے چانسلر آفس کے حکام کو ہدایت کی کہ گورنر ہائوس میں بھیجے جانے والے سنڈیکیٹ سے منظور کردہ تمام ہارڈشپ کیسز کی منظورکئے جائیں ۔ وفد نے گورنر / چانسلر محمد زبیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سربراہی میں صوبہ میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ اکیڈمک اسٹاف کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہور ہے ہیں، طالب علم اور اکیڈمک اسٹا ف جامعات میں چانسلر کی ذاتی دلچسپی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.