چارجڈ پارکنگ کے نام پر شہریوں سےلاکھوں روپےیومیہ کی لوٹ مار

کراچی ویب ڈیسک:کراچی کے مختلف تجارتی مراکز،اسپتالوں اور ریلوے اسٹیشن کے اطراف قائم پارکنگ میں ڈی ایم سیز کی جانب سے جعلی پرچیاں دے کر شہریوں سے لاکھوں روپے یومیہ لوٹے جارہے ہیں،تفصیلات کے مطابق شہر کے بیشتر تجارتی مراکز،سرکاری اسپتالوں اور ریلوے اسٹیشن کے اطراف کے علاوہ جگہ جگہ قائم پارکنگ میں شہریوں کو چونا لگایا جارہا ہے ۔ ایک طرف تو شہری ویسے ہی ان پارکنگ میں وصول کی جانے والی رقم سے تنگ ہیں کیونکہ شہریوں سے من مانے پیسے وصول کئے جارہے ہیں،شہریوں کا موقف ہے کہ ایک موٹر سائیکل کے 20روپے وصول کئے جارہے ہیں جو کہ کسی بھی طرح سے مناسب نہیں جبکہ ان پرچیوں پر واضح طور پر درج ہے کہ گاڑی آپ اپنی ذمہ داری پر کھڑی کریں چوری کی ذمہ داری پارکنگ عملہ کی نہیں جس پر شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور اکثریت کی رائے ہے کہ یہاں سے گاڑیوں کا سامان چوری ہونا عام بات ہے جبکہ ٹوٹ پھوٹ کا تو کچھ حساب ہی نہیں جبکہ ٹریفک پولیس والے بھی ان کی نشاندہی پر بعض موٹر سائیکل اٹھا کر لے جاتے ہیں اور پھر بھاری جرمانہ وصول کرکے چھوڑتے ہیں تو دوسری طرف ان میں اکثر علاقوں میں پرچیوں پر سیریل نمبر ہاتھ سے درج ہے یا بعض جگہ ٹمپرنگ کی گئی ہے جس سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ یہ پرچیاں جعلی ہیں اور یا تو یہ پارکنگ ہی غیر قانونی ہے یا پھر ٹھیکیدار اور عملہ مل کر لوٹ مار کررہے ہیں جس پر شہریوں نے شدید احتجاج کیا ہے اور سوشل میڈیا پر بھی اس قسم کی خبروں کی بھر مار کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ۔تاہم دوسری طرف بعض شہری حلقوں کا خیال ہے کہ یہ پارکنگ بعض حساس مقامات پر بھی قائم ہیں جس سے سیکورٹی خدشات جنم لیتے ہیں تو دوسری جانب کاروباری اور اسپتالوں کی ایمرجنسیز کے قریب قائم ہونے کے باعث آمد و رفت میں شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔ یاد رہے کہ چارجڈ پارکنگ کے حوالے سے کے ایم سی،کےڈی اےکنٹونمنٹ بورڈ سمیت مختلف اداروںکے مابین کشیدگی رہی ہے اور سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی مختلف حوالوں سے سماعتیں ہوتی رہی ہیں تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس قسم کی”نوراکشتیوں“سے کوئی سرو کار نہیںاصل مسئلہ عوامی کی پریشانی کا ہے جو حل ہونا چاہئے

۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.