پی آئی اے ‘اسٹیل ملز کی نجکاری مسترد پیپلزپارٹی مزدور دشمن اقدام نہیں ہونے دےگی ‘نفیسہ شاہ

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک پاکستان پیپلزپارٹی نے پی آئی اے اور اسٹیل ملز کی پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے مجوزہ نجکاری کو مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات سے چار ماہ قبل نجکاری بد نیتی پر مبنی ہے پارٹی یہ مزدور دشمن نجکاری نہیں ہونے دے گی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر زبردست احتجاج کیا جائیگا ۔اتوار کو میڈیا آفس اسلام آباد میں سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلزپارٹی سید نیئرحسین بخاری اور سیکریٹری اطلاعا ت پی پی پی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ایک پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یکطرفہ اور جلد بازی میں کی جانے والی اس نجکاری کے پوشیدہ مقاصد ہیں اور انتخابات سے چار ماہ قبل یہ نجکاری بدنیتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال میں اسٹیل ملز اور پی آئی اے کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا ور ان دونوں اداروں میں پی ایم ایلâنá کی جانب سے بڑے پیمانے پر کرپشن کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں مفادات کا ٹکرائو ہے کیونکہ سابق وزیراعظم نواز شریف ایک اسٹیل ٹائیکون ہیں اور موجود وزیراعظم خاقان عباسی کی اپنی ایئرلائن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب تو پی آئی اے نے اپنی نیویارک کی پروازیں معطل کر دی ہیں جبکہ دوسری جانب خاقان عباسی کی ایئرلائن ائر بلیو نے نیویارک کی پروازیں شروع کر دی ہیںاسی طرح نواز شریف پروائیویٹ اسٹیل انڈسٹری کے کارٹل کی سربراہی کر رہے ہیں اور انہوں نے پاکستان کی سب سے بری اسٹیل ملز کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں پاکستان اسٹیل ملز اور پی آئی اے کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اپنے حواریوں کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی گیس 2015ئ سے کاٹ دی گئی جب اسٹیل ملز کی پیداوار اس کی صلاحیت کے 65فیصد پر تھی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اسٹیل ملز کو بند کرکے کسی کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں کے بے تحاشہ اسٹیل ملز کی ضرورت تھی لیکن پی ایم ایل کی حکومت نے دیگر ممالک سے اسٹیل امپورٹ کی۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے اسٹیل ملز کے لئے روٹ کے ساتھ ایم آئی او یو پر دستخط کئے تھے لیکن اس حکومت نے اس ایم او یو کو ڈسٹ بن میں ڈال دیا اور پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ پی آئی کے متعلق دونوں لیڈروں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی حکومت کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی تھیں اس لئے پی آئی اے کو نقصان ہورہا تھا۔ اب جبکہ تیل کی قیمتیں سب سے نچلی سطح پر ہیں اس کے باوجود پی آئی اے کو نقصان ہونے کا کیا مطلب ہے؟ یہ بیانیہ قطعی جھوٹا ہے کہ پارٹی نے پی آئی اے میں بہت زیادہ ملازمین بھرتی کر لئے تھے کیونکہ ابھی بھی پی آئی اے کی ہر فلائٹ میں کروہ کی تعدادمطلوبہ تعداد سے کم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی پروازیں کم کرکے ہر ہفتے کم از کم 600 غیرملکی پروازوں کو پاکستان تک رسائی دی جا رہی ہے۔ جس سے پی آئی اے کا مارکیٹ شیئر گزشتہ چار سالوں میں 45فیصد سے کم ہو کر صرف 25فیصد رہ گیا ہے اور وسالانہ ایک لاکھ بیس ہزار سیٹوں کا نقصان ہو رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سالانہ تین بلین ڈالر کی آمدنی سے پی آئی اے محروم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی گفتگو اور بغیر کسی مذاکرات بزنس پلان یا تارگٹ سیٹ کئے ہوئے اوپن اسکائی پالیسی پی آئی اے کی تباہی کی وجہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ صرف ایک ایئرلائن کو ایک دن میں 27لینڈنگ رائٹس دی گئیں اور تمام گرائونڈ سروسز ایک ایسے شخص کو دی گئی جو ہوابازی کے مشیر تھے اور انہوں نے راتوں رات اربوں روپے کما لئے۔ انہوں نے کہا کہ کہ پریمئیر سروس کی مد میں 2.8 ارب روپے کا نقصان ہوا اور یہ سروس میاں نواز شریف کی خواہش پر شروع کی گئی تھی اس کے لئے کسی قسم کا بزنس پلان نہیں بنایا گیا تھا۔میاں نواز شریف کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ وہ روزویلٹ ہوٹل فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ ہلڈن برانڈ پر یہ الزام ہے کہ یک A-310 ہوائی جہاز کو جرمن کمپنی کو 45000 یورو میں فروخت کر دیا اور اسی جہاز کو فلم بنانے والی ایک کمپنی نے مالٹا میں 10 روز کے لئے دو لاکھ دس ہزار ڈالر کرائے پر حاصل کیا۔ اس جہاز کی قیمت کا اندازہ 3.1ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔ اسی طرح پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹر سری لنکن ائیرلائن سے A-330طیارہ 8000ڈالر فی گھنٹہ کے حساب سے کرائے پر لینے کی منظوری دی جبکہ ایک دوسری پاکستانی نجی ائیرلائن نے اسی قسم کا ایک جہاز صرف 4000فی گھنٹہ کرائے پر حاصل کیا۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کس نے پی آئی اے سی ای او کا نام ای سی ایل سے نکالنے کو کہا؟ انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے نے یکم فروری 2018ئ سے کویت اور عمان کے لئے پروازیں روک دی جبکہ ایک لاکھ تیس ہزار پاکستانی کویت میں اور 85ہزار پاکستانی عمان میں رہتے ہیں۔ پی آئی اے نے نیویارک کے لئے اپنا گرانقدر روٹ 1961ئ کے بعد سے بہ پہلی مرتبہ روک دیا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پی آئی اے کو آہستہ آہستہ ختم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ پی آئی اے کی انتظامیہ کے متعلق سید نیر حسین بخاری اور ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ اس ائیرلائن کے موجودہ سی ای او کے پاس ایوی ایشن مینجمنٹ کا کوئی تجربہ نہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں میں یہ پی آئی اے کے چوتھے سی ای او ر اور اسی عرصے میں یہ تیسرے چیئرمین مقرر کئے گئے ہیں۔ اس وقت اسلام آباد، پشاور اور لاہور میں کوئی بیس مینجر موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عملے کی یونیفارم جیسے اور بھی غیرضروری مد میں بڑی مقدار میں پیسہ ضائع کیا گیا۔ اب حالت یہ ہے کہ آدھا عملہ پرانی یونیفارم استعمال کر رہا ہے اور آدھا عملہ نئی یونیفارم پہنے ہوئے ہے۔ پی آئی اے کی انتظامیہ اپنے قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے کیونکہ قوانین کے تحت سارے ہیڈکوارٹرز کراچی میں ہونے چاہئیں لیکن پی آئی اے نے راتوں رات ریونیو مینجمنٹ اور سنٹرل رزرویشن ونگ کو اسلام آباد منتقل کر دیا۔ پی آئی اے کی سی بی اے یونین کے متعلق انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ریفرنڈم کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد ایک طویل جدوجہد کے بعد این آئی آر سی نے بھی یہی صورتحال برقرار رکھی لیکن پی ایم ایلâنá کے ایجنٹ برائے نجکاری مشاہد اللہ جن کا پورا خاندان پی آئی اے کی آمدنی پر گزر بسر کر رہا ہے نے این آئی آرسی کے رجسٹرار پر دبائو ڈال کر اپنا فیصلہ بدل دیا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی افسر نے اپنا ہی دیا ہوا فیصلہ تبدیل کیا ہو۔ اس وقت کی غیرقانون سی بی اے حکومت کی حواری ہے اور انہیں پی آئی اے فروخت کرنے میں مدد دے رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کو کئی مہینوں بعد تنخواہیں دی جاتی ہیں جو کہ ملازمین کے قتل عام کے مترادف ہے۔آخر میں دونوں لیڈران نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ہمیشہ مزدوروں کا ساتھ دیتی آئی ہے اور پارٹی یہ مزدور دشمن نجکاری نہیں ہونے دے گی اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر زبردست احتجاج کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.