PPP

پیپلزپارٹی ایک لبرل اور بہتر معاشرے کےلئے کام کررہی ہے‘سعید غنی

کراچی جدت ویب ڈیسک ملک کے نامور فنکار پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہورہے ہیں‘ملک میں افراتفری کے خاتمے کے لئے ان کا کردار اہمیت کا حامل ہے‘پیپلزپارٹی ایک لبرل اور بہتر معاشرے کے لئے کام کررہی ہے ۔ یہ بات پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر ایم پی اے سعید غنی نے پی پی پی میڈیا سیل بلاول ہائوس میںٹی وی انڈسٹری کے مختلف شعبوںسے تعلق رکھنے والے فنکاروں کی شمولیت کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر پیپلز کلچر ونگ کی گل رعنا، ایوب کھوسو، قیصر خان نظامانی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے جبکہ شمولیت حاصل کرنے والوں میں حسن سومرو اور ان کی بیگم، گلزار حسین ،آغا شیراز، فہد شیروانی، ایاز احمد، محسن امجد، احسن عباس، سعدی آشان،قنان چوہدری، بہرم علی سید، ڈاکٹر شہناز فاروق، صباحت بخاری، نین منیارسمیت دیگر ہیں۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فنکاروں کا کہنا تھا کہ ہم یہاں کام کرنے آئیں ہیں اور پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس ملک کے نوجوان قیادت ہے جو پوری دنیا میں ملک پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں‘انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی ایسی پارٹی میں نہیں جانا چاہتے تھے جہاں دباؤ دیا جاتا ہوں اور فنکاروں کو کٹھ پتلی سمجھا جاتا ہوں اور نہ ایسی پارٹی میں کہ لوگ ہم سے پوچھیں کہ مجھے کیوں نکالا؟ اور نوجوانوںکی نمائندہ جماعت کہنے والے لوگ جو خود ستر سال کے ہونے والے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آرٹسٹ برادری کو سمجھا جاتا ہے کہ ٹی وی پر آکر بات کرتے ہیں اس کے بعد غائب ہوجاتے ہیںمگر ہم پاکستان، سندھ اور کراچی کے لئے کام کریں گے ۔ زینب کے لئے فنکار برادری نے آواز اٹھائی اور پیپلزپارٹی نے اس سلسلے میں فنکار برادری کا بھرپور ساتھ دیا۔پیپلز کلچر ونگ سندھ کے سیکریٹری اطلا عات ایوب کھوسو نے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے کلچر میں بہت کام کیا ،جن آرٹسٹو ںکو کام نہیں مل رہا جو بیمار ہے ان سے رابطے قائم کئے اور مزید عمل درآمد جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو ڈرامے سندھی کشمیر اور دیگر زبانوں میں بنے ہیں دوبارہ بنے تاکہ جو فنکار دور ہوگئے وہ دوبارہ اسکرین میں نظر آئیں اس سے ہمارا کلچر دوبارہ کھڑا ہوگا اور دنیا بھر میں کلچر پہچانا جائے گا ،ن لیگ اور پی ٹی آئی فنکاروں کوصرف اور صرف تشہیری کیلئے استعمال کرتی ہیں لیکن کلچر کے لیے کچھ نہیں کرتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.