پھربڑامعرکہ گیلانی سنجرانی

اداروں کو آزادی دینے کے دعویدار وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اس بات پرلبیک کہنے والے الیکشن کمشن پر تنقید ایسے کر رہے ہیں جیسے اس میںحکومت کے نوکرچاکربیٹھے ہوں۔ الیکشن کمشن ایک آئینی ادارہ ہے اور وہ حکومت نہیں آئین اور الیکشن رولز کا پابند ہے حکومت ایک ویڈیوکی بناپر گیلانی کو نا اہل کرانے کی ہر کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ اب تو ایوان میں ووٹ کے ذریعے مقابلہ ہی رہ گیا ہے۔ اس مقابلے کے لئے حکومت کون سے حربے استعمال کرتی ہے اور کیا وہ کارگر بھی ثابت ہوتے ہیں، اس کا نتیجہ تو شام کو نکلے گا لیکن بظاہر حکومت کے حق میں ہوائیں چلتی دکھائی نہیں دیتیں۔
پہلے ویڈیوسکنڈل چلتارہااب کیمرے کی خبروں نے ووٹرز میں ہلچل مچادی جب مصطفی نواز کھوکھر نے کیمرے کی تصویر اتارتے ہوئے ٹویٹر پر جاری کی اور پیغام لکھا کہ ”میں اور مصدق ملک نے پولنگ بوتھ میں خفیہ کیمرہ لگا دیکھاہے۔”مصدق ملک نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ” سینیٹ میں قائم ہونے والے پولنگ بوتھ میں دو خفیہ کیمرے لگائے گئے ہیں ، یہ خوفناک مذاق ہے۔”جب کہ آج سینٹ میں چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب ہونے جارہاہے اور اس وقت تک حکومت اور اپوزیشن کے پاس49,49 سینیٹرز کی حمایت موجود ہے تاہم انتخاب خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہو گا۔حالانکہ چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کیلئے میدان سج گیا ہے اور نو منتخب اراکین نے حلف بھی اٹھا لیاہے لیکن پولنگ بوتھ سے کیمرے نکلنے کے انکشاف نے نئی مشکل کھڑی کر دی ہے تاہم اب تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ ووٹنگ کیلئے نیا پولنگ بوتھ بھی بنایا جارہاہے۔کیمرے کی خبرکی وجہ سے ایوان میں ہنگامہ آرائی ہوئی اور اپوزیشن نے پولنگ بوتھ ہی اکھاڑ دیا جس کے بعد پریزائیڈنگ افسر نے فوری طور پر نیا پولنگ بوتھ بنانے اور تحقیقات کرنے کا حکم جاری کیا۔لیکن اب ایک اور پولنگ بوتھ کے باہر ایک اور کیمرہ لگے ہونے کا انکشاف ہواہے جس کی تصویر رخسانہ زبیری نے بنائی اور شیئر کی ۔کچھ لوگ اسٹیبلشمنٹ کی بات کریں تو اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہوچکی کیونکہ اب ریٹائرڈ فوجی افسران اس انداز سے ٹی وی چینلوں پر حکومت کی طرفداری کرتے نظر نہیں آتے جس طرح چھ ماہ قبل مصروف عمل تھے۔ کیلانی کی جیت سے یہ واضع ہوتاہے کہ اسٹیلشمنٹ نے زرداری کوچن لیاہے مگرراقم کے مطابق عمران خان جو22سال سے تبدیلی تبدیلی کی دھاڑ پٹ کررہے تھے اس سے پانچ سال پورے کرائیں گے اوراس کے بعدتحریک انصاف کوایسے غائب کریں گے جیسے یہ جماعت تھی ہی نہیں ۔20ستمبر 2020کو جب نواز شریف نے پہلی مرتبہ اسٹیبلشمنٹ پر براہ راست تنقید کی تھی تو اس سے قبل ہی شہباز شریف جیل جا بیٹھے تھے اور مریم نوازسیاسی طور پر متحرک ہو گئی تھیں۔ نواز شریف کی براہ راست تنقید نے چھے ماہ کے اندر اندر راستے نکال دیئے ہیں اور پیپلز پارٹی کے وارے نیارے ہونے والے ہیں کیونکہ خالی اسٹیبلشمنٹ ہی نہیں بلکہ نواز شریف نے بھی پیپلز پارٹی کو گرین سگنل دے رکھا ہے اور بتایا ہے کہ اگلے انتخابات سے قبل باقی ماندہ مدت کے لئے نون لیگ اقتدار کی خواہاں نہیں ہے اور پیپلز پارٹی ان ہاؤس تبدیلی کرکے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہو سکتی ہے۔ اب تمام تر شواہد انہی خطوط پر آگے بڑھتے نظر آتے ہیں اور عین ممکن ہے کہ اگلے بجٹ کے بعد تخت وتاج بلاول کاہو۔ آج تک تو ہم یہی دیکھتے آئے ہیں کہ ہمیشہ حکومت کا پلڑا بھاری ہوتا ہے۔ مگر جب سے گیلانی نے حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو شکست دی ہے، یہ فارمولا بھی غلط ثابت ہو گیا ہے گیلانی صاحب نے تو حکومت کے 16 ووٹ اْدھر سے اِدھر کر دیئے تھے۔ کیا حکومت آج اپوزیشن کے دو چار ووٹ اِدھر سے اْدھر کر پائے گی؟ تحریک انصاف کے بارے میں یہ تاثر قائم ہوا ہے کہ وہ کوئی نظریاتی یا منظم جماعت نہیں بلکہ موقع پرستوں پر مشتمل ہے 2018ء میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے بیس ممبران نے جو کچھ کیا، اس کی جزئیات سامنے آچکی ہیں اب جن سولہ ارکان قومی اسمبلی نے یوسف رضا گیلانی کو جتوانے میں اہم کردار ادا کیا، ان کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے ہے آج اگر حکومت اقلیت میں ہونے کے باوجود اپنے امیدوار صادق سنجرانی کو جتوانے میں کامیاب رہتی ہے تو پھر یہ کہا جائے گا کہ پاکستانی سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے بس صحیح جگہ پر نشانہ لگانے کی ضرورت ہے تب یہ بات بھی واضح ہو جائے گی کہ صرف تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی ہی نہیں اپوزیشن کے ارکان بھی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں البتہ تبدیلی یہ آئی ہے کہ حکومتی حلقوں نے پیسے لینے اور دینے کی الزامات پر مبنی گردان ختم کر دی ہے، اس کی جگہ ضمیر کی آواز پر ووٹ ملنے کا بیانیہ اپنا لیا ہے حکومت صادق سنجرانی کو کامیاب بنانے کے لئے چار ووٹ کہاں سے لائے گی؟ ظاہر ہے وہ یہ کام ان کا ضمیر جگا کے کرے گی، ضمیر کیسے جاگتا ہے؟ اس بارے اگلے کالم میں بات کریں گے۔اگربات کریں سینٹ الیکشن کی توعبدالحفیظ شیخ یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں ایک کمزور امیدوار تھے، اسی طرح صادق سنجرانی بھی وزیر اعظم عمران خان کی پسند ضرور ہیں، تاہم سید یوسف رضا گیلانی کے سیاسی قد کاٹھ کے برابر نہیں آج کا مقابلہ دونوں امیدواروں کے لئے آسان نہیں۔ گیلانی کی جیت پرمیرے استاد محترم جناب سلیم چشتی صاحب نے لکھاتھاکہ گیلانی نے مکوٹھپ کے رکھ دیامگرآج بندناچیزکہناچاہتاہے کہ آج گیلانی کامکوٹھپ دیاجائے گاہ۔لیکن سیاست ہے کوئی بھی کسی کامکوٹھپ سکتاہے۔ ایک طرف یہ حکومت اور پی ڈی ایم کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہے تو دوسری طرف یہ گیلانی کے وسیع سیاسی تجربے اور سنجرانی کی پرجوش سیاست کے درمیان بھی ایک بڑی معرکہ آرائی ہے دیکھتے ہیں آج تجربہ جیتتا ہے یا پر جوش مگر نا تجربہ کار امیدوار مات دیتا ہے۔کچھ بھی ہوچیئرمین سینیٹرکی ہارسے حکومت کوتھوڑے بہت مسائل ہوں گے مگرحکومت کہیں جانے والی نہیں کیونکہ عمران خان اپنے پانچ سال پورے کرنے والے ہیں۔